امریکی سیاسی جماعت ریپبلکن سے تعلق رکھنے والے رکنِ کانگریس بائرن ڈونلڈز فلوریڈا کے گورنر منتخب ہو گئے، وہ ریاست کی تاریخ کے پہلے سیاہ فام گورنر بن گئے۔
سخت مقابلے پر مشتمل اس انتخابی دوڑ کا اختتام بائرن ڈونلڈز کی کامیابی پر ہوا، جنہوں نے ڈیموکریٹک امیدوار ڈیوڈ جولی کو شکست دی۔
انتخابی نتائج میں بائرن ڈونلڈز کی کامیابی کی تصدیق کے بعد ان کے حامیوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔
اس کامیابی کو ریاست فلوریڈا کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
انتخابی مہم کے دوران بائرن ڈونلڈز نے معاشی ترقی، حکومتی ضابطوں میں نرمی، تعلیمی آزادی اور عوامی تحفظ سے متعلق سخت پالیسیوں پر زور دیا۔
ان کے انتخابی منشور میں فلوریڈا کی معیشت کو مستحکم رکھنے، ٹیکسوں کی شرح کم برقرار رکھنے اور ریاستی دارالحکومت ٹالا ہاسی میں قدامت پسند طرزِ حکمرانی کے تسلسل کو خصوصی اہمیت دی گئی۔
کامیابی کے بعد اپنے خطاب میں بائرن ڈونلڈز نے ووٹرز کا شکریہ ادا کیا اور ریاست کے تمام شہریوں کی بلاامتیاز نمائندگی کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
بائرن ڈونلڈز آئندہ سال کے اوائل میں فلوریڈا کے چیف ایگزیکٹیو یعنی گورنر کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔
غزہ میں زخمی فلسطینیوں کاعلاج کرنے والے مصری نژاد امریکی ڈاکٹر آدم حموی نیو جرسی سے رکنِ کانگریس منتخب ہو گئے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایوان نمائندگان کے رکن منتخب ہونے والے آدم حموی نے اسرائیل کو امریکی فوجی امداد بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈیموکریٹ امیدوار آدم حموی نے ری پبلکن گریگ میل کو شکست دے دی، نیو جرسی سے کانگریس میں پہنچنے والے وہ پہلے مسلمان ہیں، جبکہ وہ امریکی کانگریس کے پہلے مصری نژاد رکن بھی ہوں گے۔
امریکی فوج کے سابق سرجن آدم حموی 2024ء اور 2025ء میں غزہ میں زخمیوں کا علاج کر چکے ہیں، اس کے علاوہ وہ عراق جنگ میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
نومنتخب ڈیموکریٹ رکن صحت کی سہولتوں اور سستے گھر دینے کے حامی ہیں، آدم حموی نے غیر قانونی تارکینِ وطن کو شہریت دینے کی حمایت بھی کی ہے۔
امریکی وسط مدتی انتخابات میں الہان عمر مینیسوٹا سے پانچویں بار کانگریس کی رکن منتخب ہو گئیں۔
امریکی میڈیا کے مرتب کردہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق امریکی ریاست مینیسوٹا کے پانچویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس الہان عمر نے کامیابی حاصل کر لی۔
الہان عمر نے ریپبلکن امیدوار جان نیگل کو شکست دے کر مسلسل پانچویں مدت کے لیے کامیابی حاصل کی ہے۔
الہان عمر 2019ء سے اس حلقے کی نمائندگی کر رہی ہیں۔
صومالیہ سے پناہ گزین کی حیثیت سے امریکا آنے والی الہان عمر طویل عرصے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن مخالف تنقید کا نشانہ رہی ہیں۔
ٹرمپ ماضی میں انہیں اپنے آبائی ملک واپس جانے کا کہہ چکے ہیں۔
امریکی ریاست الینوائے میں ڈیموکریٹ امیدوار نبیلہ سید نے ری پبلکن نشست جیت کر ریاستی سینیٹ کی رکن منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق نبیلہ سید نے ری پبلکن امیدوار ڈاربی ہلز کو شکست دی، نبیلہ سید کو 57 فیصد جبکہ ڈاربی ہلز کو 43 فیصد ووٹ ملے۔
نبیلہ سید 2022ء میں الینوائے کی ریاستی اسمبلی کی پہلی مسلمان ارکان میں شامل ہوئی تھیں، اب انہوں نے اسمبلی سے سینیٹ تک کا انتخابی سفر طے کر لیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق نبیلہ سید کے والدین 1980ء کی دہائی میں بھارت کے شہر حیدرآباد سے امریکا منتقل ہوئے تھے۔
انتخابی مہم کے دوران مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کا معاملہ بھی اہم رہا۔
نبیلہ سید نے مطالبہ کیا تھا کہ ڈیٹا سینٹرز سے بجلی کے اخراجات عام صارفین پر منتقل نہیں ہونے چاہئیں۔
انہوں نے ڈیٹا سینٹرز کے شور اور ماحول پر ان کے اثرات کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا تھا۔
مشی گن میں سینیٹ کی نشست پر ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید نے مائک راجرز کو شکست دے کر تاریخی کامیابی حاصل کرلی، وہ امریکی تاریخ میں سینیٹ کے رکن منتخب ہونے والے پہلے مسلمان بن گئے۔
امریکی میڈیا کے مطابق عبدل السید نے تقریباً 51.8 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں، جبکہ مائک راجرز نے لگ بھگ 46.2 فیصد ووٹ حاصل کیے۔
وکٹری اسپیچ میں عبدل السید نے کہا ہے کہ اپنی کامیابی عوام کے نام کرتا ہوں، یہ مزدوروں کی نہیں میری جنگ ہے، امریکا کی ترقی کے لیے کام کروں گا۔
ان کا کہنا ہے کہ میرے نام کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی، اتنخابی مہم میں میرے عقیدے اور میرے نام کو نشانہ بنایا گیا، ٹرمپ کے الزامات کے باوجود جدوجہد جاری رکھی، انہوں نے ہمیں ہرانے کے لیے خطیر رقم خرچ کی لیکن مشی گن نے امید کو چن لیا۔
عبدل السید نے کہا ہے کہ میری توجہ اپنے پالیسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے پر مرکوز ہے۔
اپنے بیان میں ان کا کہنا ہے کہ میری جیت سے پیغام جائے گا کہ امریکا سب کے لیے اتنا وسیع ہے کہ اس میں ہر پسِ منظر سے تعلق رکھنے والے افراد سما سکتے ہیں۔
عبدل السید نے کہا ہے کہ میری جیت سے ان نوجوانوں کی حوصلہ افزائی بھی ہو گی جنہوں نے سیاسی بیان بازی میں مسلم اور دیگر گروپس کو نشانہ بنتے دیکھا۔
واضح رہے کہ امریکی مڈٹرم انتخابات میں عبدل السید کے علاوہ کئی دیگر مسلم امیدوار بھی میدان میں اترے تھے۔
عبدل السید نے سمر پرائمری میں اپنی ہی پارٹی کی ہیلی اسٹیونز کو شکست دی تھی، ان کی انتخابی مہم بنیادی طور پر یونیورسل ہیلتھ کیئر، مہنگائی کے خاتمے اور سیاست سے کارپوریٹ سرمائے کے اثر کو ختم کرنے پر مرکوز تھی۔
عبدل السید کو باراک اوباما، کاملا ہیریس اور برنی سینڈرز جیسے بڑے رہنماؤں کی حمایت حاصل تھی۔
انتخابی مہم کے دوران عبدل السید کو ان کے مسلم عقیدے کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں ایک انتہا پسند ثابت کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم عبدالسیّد نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا۔




