امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا اور ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم وسط مدتی انتخابات کے نتائج تسلیم کریں گے اور ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج قبول کرنے پر مکمل آمادہ ہوں۔
انہوں نے کہا ہے کہ ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور ممکن ہے کہ دونوں جماعتیں کسی معاملے پر اتفاقِ رائے پیدا کر لیں۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کا ذمے دار اس بات کو قرار دیا ہے کہ ان کا نام بیلٹ پر موجود نہیں تھا۔
جنرل کین پیکسٹن کی حمایت پر کوئی پچھتاوا نہیں: ٹرمپ
ان کا کہنا ہے کہ جنوبی کیرولائنا کے ریپبلکن سینیٹر ڈارلین گراہم اور ٹیکساس کے ریپبلکن اٹارنی جنرل کین پیکسٹن کی حمایت کرنے پر کوئی پچھتاوا نہیں۔
وائٹ ہاؤس میں انتخابی نتائج دیکھتے ہوئے ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں کہا ہے کہ میں انٹرویو کے دوران بھی نتائج دیکھ رہا ہوں۔
ٹرمپ کو لنزے گراہم کی بہن کی شکست پر حیرت
انہوں نے ڈارلین گراہم کی شکست پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ اگر لنزے گراہم انتخاب لڑتے تو ان کا نتیجہ کیا ہوتا؟
ٹرمپ کا خیال تھا کہ جولائی میں انتقال کر جانے والے سینیٹر لنزے گراہم ممکنہ طور پر انتخاب جیت جاتے۔
ڈیموکریٹس نے احمقانہ چیزیں بھیجیں تو انہیں ویٹو کر دوں گا: ٹرمپ
امریکی وسط مدتی انتخابات میں امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس کی برتری پر امریکی صدر نے خبردار کیا ہے کہ ڈیموکریٹس نے جو بھی احمقانہ چیزیں بھیجیں تو انہیں ویٹو کر دوں گا۔
ریپبلکنز کے کامیاب نہ ہونے کی ایک وجہ ایران تنازع تھی: ٹرمپ
صدر ٹرمپ نے انتخابات میں ایران تنازع کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریپبلکنز کے کامیاب نہ ہونے کی ایک وجہ ایران تنازع تھی، لوگ شاید پیٹرول کی قیمت کی صورت میں سامنے آنے والے قلیل مدتی نتائج بھگتنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیموکریٹس نے اچھا کام کیا، ہم بہت سے معاملات پر ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں جس میں امیگریشن کا معاملہ بھی شامل ہے۔
صدر ٹرمپ نے تازہ بیان میں کابینہ میں تبدیلی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرا نہیں خیال کہ ہم کابینہ میں تبدیلی کریں گے۔
ڈیموکریٹ سینیٹر چک شومر نے سینیٹ میں ڈیموکریٹس کو اکثریت حاصل ہونے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔
چک شومر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تمام تر ناموافق حالات کے باوجود ڈیموکریٹس نے سینیٹ کا معرکہ جیت لیا۔
انہوں نے امریکی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکیوں نے تبدیلی کے لیے ووٹ دیا ہے، اب ڈیموکریٹس کو نتائج فراہم کرنے ہوں گے۔
چک شومر نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ ہماری پوری توجہ امریکی خاندانوں، ان کی تکالیف اور ان کی ضرورتوں پر تھی۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ اب تک کے بدترین صدر ہیں، یہ امریکی تاریخ کی سب سے کرپٹ ترین انتظامیہ ہے، ریپبلکنز ٹرمپ کے پیچھے چلتے ہوئے کھائی میں جا گرے۔
چک شومر نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے بجلی، صحت کی سہولتوں سے متعلق مسائل اور مہنگائی میں اضافہ کیا، سینیٹ میں اب ایسی تبدیلی آ چکی ہے جو امریکا کو بدل دے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امید ہے کہ ریپبلکنز وہ سبق سیکھیں گے جسے وہ آج رات تک دیکھنے میں ناکام رہے، ریپبلکنز امریکی عوام کی آواز سنیں
۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر جنگ ہیگسیتھ کی حمایت کا اظہار کر دیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ میں تبدیلی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ایران جنگ شروع کرنے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابات میں ایران تنازع کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریبلکنز کے کامیاب نہ ہونے کی ایک وجہ ایران تنازع تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگ شاید پیٹرول کی قیمت کی صورت میں سامنے آنے والے قلیل مدتی نتائج بھگتنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی جیت ہیگستھ کے مواخذے کی جاری کوششوں میں نئی روح پھونک سکتی ہے اور ممکنہ طور پر انتخابات کے فوراً بعد ہونے والی ووٹنگ میں مزید ریپبلکنز کو بھی اس میں شامل ہونے کے لیے قائل کر سکتی ہے۔
سینیٹرز ہیگستھ سے جنگ شروع کرنے کے فیصلے، جنگ کے طریقہ کار اور ان طریقوں پر باز پرس کرنا چاہتے ہیں جن کے ذریعے انتظامیہ نے کانگریس سے مشاورت سے گریز کیا، جنگ پر آنے والی لاگت سے بھی بےخبر رکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اگر یہ کوشش ناکام ہو جاتی ہے، تب بھی ڈیموکریٹس کا منصوبہ ہے کہ نئی کانگریس میں ایوان کی کمان ہاتھ میں آتے ہی وہ مواخذے کی بھرپور مہم کے ساتھ وزیر جنگ کو اپنا ہدف بنائیں گے۔
پیٹ ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی قرارداد کسی ڈیموکریٹ نے نہیں، بلکہ خود ان کی اپنی ریپبلکن پارٹی کے رکن کانگریس تھامس میسی نے ستمبر 2026ء میں پیش کی تھی۔
تھامس میسی کی قرارداد پر ریپبلکن قیادت نے سیاسی نقصان سے بچنے کے لیے ستمبر میں ایوان کا اجلاس وقت سے پہلے ہی ختم کر دیا تھا۔




