امریکا کی متعدد ریاستوں میں پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری

امریکی ریاستوں ورمونٹ، ورجینیا، جنوبی کیرولائنا، جورجیا اور فلوریڈا کے متعدد علاقوں میں پولنگ کا وقت ختم ہوگیا۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹ امیدواروں کو سبقت حاصل ہے۔

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ریاست جارجیا سے ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹ سینیٹر جون اوسوف دوبارہ سینیٹر منتخب ہوگئے ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق انڈیانا، کینٹکی مسوری اور مسیسپی کے بعض علاقوں میں بھی پولنگ ختم ہوگئی اور ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

امریکی ریاستوں میساچوسٹس، روڈ آئلینڈ، نیو جرسی، پنسلوانیا، ڈیلاویئر، ٹینیسی، الینوائے، الاباما اور مشی گن کے ساتھ ٹیکساس کے کئی علاقوں میں بھی پولنگ کا وقت ختم ہوگیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق اہم مقابلوں کے ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹ امیدواروں کو سبقت حاصل ہے۔ ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹ کے 13 اور ریپبلکن کے 6 امیدوار آگے ہیں۔

امریکا میں ایوانِ نمائندگان کی تمام چار سو پینتیس اور سینیٹ کی پینتیس نشستوں پر مقابلہ ہورہا ہے، چھتیس ریاستوں میں گورنرز کا انتخاب بھی کیا جائے گا۔

کانگریس پر ٹرمپ کی ری پبلیکنز پارٹی کا کنٹرول رہے گا یا اپوزیشن ڈیموکریٹس بازی لے جائیں گے؟ اس کا فیصلہ آج ہوجائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انتہا پسند بائیں بازو كو امریکا پر قبضہ کرنے نہیں دوں گا، انتخابات کے نتائج گمان سے زیادہ اچھے ثابت ہوں گے۔

ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مشی گن کے عبدل السید جیسے امیدواروں کو اسرائیل کے بہانے انتظامیہ کے کارناموں کو فراموش کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔

واضح رہے کہ امریکا کے وسط مدتی انتخابات سے ایک روز پہلے تک ٹرمپ کی عوامی مقبولیت 32 فیصد پر برقرار ہے۔

رائٹرز اور ایپسوس کے سروے کے مطابق ٹرمپ کی عوامی مقبولیت ریکارڈ کم ترین سطح کے قریب ہے، سروے کے مطابق 46 فیصد رجسٹرڈ ووٹروں نے کہا کہ وہ کانگریس کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کو منتخب کریں گے، جبکہ 38 فیصد نے ریپبلکنز کا انتخاب کیا۔

 امریکا بھر میں جاری مڈ ٹرم انتخابات کے موقع پر سیاسی سرگرمیاں اور ووٹرز کا تحرک عروج پر رہا۔امریکی تاریخ کے کسی بھی مڈ ٹرم الیکشن میں پارٹی بنیادوں پر اتنی شدّت، عوامی بیداری اور واضح ’’امریکی تقسیم‘‘ پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔مشی گن میں مسلم ووٹرز کا ردعمل اور اسلاموفوبیا کا فیکٹر رہا،ریاست مشی گن میں سینیٹ کا معرکہ انتہائی حساس اور اہم شکل اختیار کر گیا ہے،عرب نژاد سینیٹ امیدوار ڈاکٹر السید کو عوامی سطح پر اہم برتری حاصل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔پچھلے انتخابات میں مسلم ووٹرز نے امن اور جنگ بندی کے وعدے پر صدر ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا، تاہم اس مرتبہ ٹرمپ کی مبینہ وعدہ خلافی پر مسلم برادری میں شدید ردعمل پایا جاتا ہے۔سینیٹ کی اس جنگ میں صیہونی اور چرچ لابیاں انتہائی فعال ہیں اور مشی گن میں شدید ترین اسلاموفوبیا مہم کا سامنا ہے۔مالی وسائل کے لحاظ سے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو نمایاں فوقیت حاصل ہے، جن کی مہم پر تقریباً 90 ملین ڈالر خرچ کیے گئے ہیں۔

امریکی ریاست نیویارک کی ویسٹ چیسٹر کاؤنٹی میں پولنگ کے دوران بیلٹ مشینوں میں تکنیکی خرابی آگئی۔ 

تکنیکی خرابی کے سبب انتخابی عملے نے بیلٹ پیپرز کو محفوظ ہنگامی بیگز میں جمع کرلیا جنھیں بعد میں گنتی میں شامل کیا جائے گا۔

شمالی کیرو لائنا،جورجیا، آئیووا، اوکلوہاما اور وسکانسن کے بعض علاقوں میں بھی تکنیکی مسائل کے سبب پولنگ تاخیر کا شکار ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں