پاکستان شاید دُنیا کے اُن چند ممالک میں شامل ہے جہاں بحران پیدا نہیں کیے جاتے، پالے جاتے ہیں۔ یہاں مسائل کا علاج کم اور اُن کی افزائش زیادہ ہوتی ہے۔ اقتدار کی بساط پر مہرے بدلتے رہتے ہیں، مگر کھیل وہی رہتا ہے۔ ہر نیا حکمران اپنے آپ کو مسیحا سمجھتا ہے اور ہر رخصت ہونیوالا خود کو مظلوم ثابت کرنے میں لگ جاتا ہے۔ اِس شور میں ایک سوال ہمیشہ دب جاتا ہے: کیا ہم نے کبھی ریاست کو سیاست سے بڑا مان کر سوچا بھی ہے؟
یہ حقیقت ماننے میں کوئی عار نہیں کہ پاکستان کی تاریخ سول اور عسکری اِداروں کے درمیان کشمکش سے خالی نہیں رہی۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی ایک فریق کو تمام خرابیوں کا سرچشمہ قرار دینا آسان ضرور ہے، درست نہیں۔ منتخب حکومتوں کا آئینی اختیار اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن ریاستی اداروں کی پیشہ ورانہ مضبوطی بھی اتنی ہی ناگزیر ہے۔ جب سیاست ریاست کو فتح کرنے کا میدان بن جائے اور ادارے سیاست کو درست کرنیکا فریضہ سمجھنے لگیں تو پھر آئین کتابوں میں رہ جاتا ہے اور بحران خبروں کی سرخی بن جاتا ہے۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے نظام کی بحث کو ہمیشہ شخصیات کے گرد گھمایا۔ کبھی نجات دہندہ ایک فرد کو سمجھا گیا، کبھی سارا ملبہ ایک شخصیت پر ڈال دیا گیا۔ حالانکہ ریاستیں افراد کے سہارے نہیں، اداروں کے بل پر کھڑی رہتی ہیں۔ اگر پورا سیاسی نظام ایک آرمی چیف، ایک وزیراعظم یا ایک مقبول رہنما کے آنے یا جانے سے ہل جاتا ہے تو خرابی افراد میں نہیں، اس عمارت کی بنیادوں میں ہے جسے ہم ریاست کہتے ہیں۔
اِسی لیے شاید سب سے زیادہ نظرانداز ہونیوالا موضوع مقامی حکومتوں کا ہے۔ دُنیا میں جہاں شہری کو اختیار ملا، وہاں ریاست مضبوط ہوئی؛ جہاں ہر فیصلہ دارالحکومت کی میز پر طے ہونے لگا، وہاں فاصلہ صرف شہروں اور دیہات کے درمیان نہیں بلکہ حکومت اور عوام کے درمیان بھی بڑھ گیا۔ پاکستان میں مختلف ادوار میں بلدیاتی نظام آئے، ان پر اختلاف بھی ہوا، مگر اصل سوال یہ نہیں کہ کون سا ماڈل بہتر تھا؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو ہم مستقل قومی پالیسی بنانے پر آمادہ ہیں یا نہیں؟
اسی طرح انتظامی اصلاحات، صوبائی ڈھانچے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم جیسے معاملات کو سیاسی نعروں سے نہیں، ٹھنڈے دماغ اور کھلے مکالمے سے حل کرنا ہوگا۔ نئے صوبے ہوں یا موجودہ نظام میں بہتری، ہر تجویز کو آئینی، انتظامی اور معاشی پیمانوں پر پرکھا جانا چاہیے۔ نہ ہر تبدیلی انقلاب ہوتی ہے اور نہ ہر مخالفت حب الوطنی۔ قومی فیصلے جذبات کے ہجوم میں نہیں بلکہ دلیل کے سکون میں جنم لیتے ہیں۔
آج معیشت کی حالت کسی سیاسی جماعت، کسی حکومت یا کسی ادارے کی محتاج نہیں رہی؛ یہ پورے ملک کا امتحان بن چکی ہے۔ سرمایہ کار نعرے نہیں، استحکام دیکھتا ہے۔ نوجوان تقریریں نہیں، مواقع تلاش کرتا ہے۔ عام آدمی کو اِس سے کوئی غرض نہیں کہ فتح کا جھنڈا کس کے ہاتھ میں ہے؛ وہ صرف یہ جانتا ہے کہ مہنگائی اسکے چولہے تک پہنچ چکی ہے اور بے یقینی اس کے بچوں کے مستقبل تک۔ جب ریاست کی توانائی ایک دوسرے کو زیر کرنے میں صرف ہو تو ترقی کا پہیہ خود بخود رک جاتا ہے۔
اس بند گلی سے نکلنے کا راستہ نہ کسی خفیہ مفاہمت میں ہے اور نہ کسی نئے تصادم میں۔ راستہ صرف ایک ہے: آئین کی بالادستی، اداروں کی حدود کا احترام، پارلیمان کی سنجیدگی، عدلیہ کی غیر جانبداری، سیاسی جماعتوں کی برداشت اور ریاستی اداروں کی پیشہ ورانہ یکسوئی۔ قومی مکالمہ اگر ہونا ہے تو شخصیات کے گرد نہیں، اُصولوں کے گرد ہونا چاہیے۔ ضد سے اقتدار تو شاید مل جائے، مگر استحکام کبھی نہیں ملتا۔
تاریخ کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہی ہے کہ قومیں اکثر اپنے زخم دشمن سے نہیں، اپنی ضد سے کھاتی ہیں۔ پاکستان کے پاس اب وقت کم اور سوال زیادہ ہیں۔ اگر آج بھی ہم نے انا کو قومی مفاد پر ترجیح دی، اگر اداروں کو ایک دُوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا، اگر اصلاحات کو سیاسی عینک سے دیکھتے رہے تو آنیوالی نسلیں ہمیں ہماری تقریروں سے نہیں، ہماری کوتاہیوں سے یاد رکھیں گی۔ ریاستیں نعروں سے نہیں، فیصلوں سے بچتی ہیں، اور فیصلے وہی قومیں کر پاتی ہیں جو اپنی انا سے بڑی ہو جائیں۔








