دُنیا کی سیاست میں ایک عجیب تماشا جاری ہے۔ حکمران اقتدار کو اپنی جاگیر، عوام کو رعایا اور ووٹ کو محض ایک رسمی کارروائی سمجھنے لگے ہیں۔ انہیں شاید یقین ہو چکا ہے کہ ایوانِ اقتدار اُن کے باپ کی وراثت ہیں اور عوام ہر چند سال بعد مہر لگانے کیلئے پیدا ہوئے ہیں۔ مگر برازیل، سربیا، ہنگری، اسرائیل اور امریکہ کے انتخابی نتائج بتاتے ہیں کہ عوام جب حساب لینے پر آ جائیں تو تخت بھی ڈگمگا جاتے ہیں۔
برازیل میں لولا ڈا سلوا کی کامیابی نے ان دانشوروں کے سیاسی ماتم پر پانی پھیر دیا ہے جو ہر انتخاب سے پہلے بائیں بازو کی سیاست کا جنازہ تیار کر لیتے ہیں۔ لولا نے 51.8 فیصد ووٹ لے کر چوتھی مرتبہ صدارت حاصل کی، جبکہ فلاویو بولسونارو کو 48.2 فیصد ووٹ ملے۔ برازیلی عوام نے گویا واضح کر دیا کہ سیاست کوئی خاندانی دکان نہیں جہاں باپ کے بعد بیٹا مالک بن بیٹھے۔
برازیل کے نوجوانوں نے بھی انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لیا۔ نوجوانوں کو روزگار، سستی تعلیم اور بہتر مستقبل چاہیے، مگر حکمران انہیں اکثر صبر، برداشت اور انتظار کی گولیاں دیتے رہتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نوجوانوں کے سیاسی رویئے سے متعلق ماہرین کے بنائے ہوئے کئی فارمولے بھی اس انتخاب میں دھڑام سے گر گئے۔ شاید اب انہیں اپنی کتابوں سے گرد جھاڑ کر حقیقت کا سامنا کرنا پڑے۔
سربیا میں طلبہ نے سیاست دانوں کو ایسا سبق پڑھایا جسے برسوں یاد رکھا جائیگا۔ بدعنوانی کیخلاف دو سال احتجاج کرنیوالے طلبہ کی حمایت یافتہ جماعت نے پارلیمانی انتخابات میں 52.7 فیصد ووٹ لے کر 250 میں سے 140 نشستیں حاصل کر لیں۔ الیگزینڈر ووچچ کے حکومتی اتحاد کو صرف 39.2 فیصد ووٹ ملے۔ اقتدار کے نشے میں چور حکمرانوں کیلئے یہ پیغام کافی ہے کہ طلبہ صرف امتحان میں نہیں، حکومتوں کو بھی فیل کر سکتے ہیں۔
یورپ میں قوم پرستی کی وہ سیاسی آندھی بھی کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے جسے ناقابلِ شکست قرار دیا جا رہا تھا۔ ہنگری میں وکٹر اوربان کی شکست اور سربیا میں طلبہ کی کامیابی نے اس خوش فہمی کو خاصا نقصان پہنچایا ہے۔ اوربان کی مدد کیلئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی پہنچے، مگر نتیجہ وہی نکلا جو شادی میں مفت مشورے دینے والے بزرگ کا نکلتا ہے؛ مشورہ دینے والا مطمئن، میزبان پریشان!
اسرائیل کے انتخابات نے اقتدار کے سارے حساب دانوں کو چکرا کر رکھ دیا۔ نتن یاہو کی لیکوڈ جماعت 27 نشستوں کیساتھ سب سے بڑی جماعت بن گئی، لیکن اُنکا حکومتی اتحاد 53 نشستوں تک محدود رہا، جبکہ اکثریت کیلئے 61 نشستیں درکار ہیں۔ دُوسری طرف گیڈی آئزن کاٹ کی یاشار جماعت 21 نشستوں کیساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔ گویا انتخابی کامیابی تو مل گئی، مگر اقتدار کی منزل ابھی خاصی دور ہے۔
نیتن یاہو کے اتحادیوں کی سیاسی مشکلات نے بھی معاملہ مزید پیچیدہ کر دیا۔ مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کی نشستیں توقعات کے مطابق نہ رہیں، جبکہ مخالف جماعتوں کو 48 اور عرب جماعتوں کی مشترکہ فہرست اور رام کو مجموعی طور پر 19 نشستیں ملیں۔ اب حکومت سازی میں انہی جماعتوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے جنہیں سیاسی منظرنامے میں فیصلہ کن کردار دینے سے گریز کیا جاتا رہا۔
اسرائیلی سیاست کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ نیتن یاہو نے مخالفین کو اقتدار سے دُور رکھنے کیلئے مہم چلائی، مگر اب خود دُوسروں کی حمایت کے محتاج ہیں۔ ان کے امریکی حامی صدر ٹرمپ بھی کوئی جادوئی چھڑی ثابت نہ ہو سکے۔ شاید اُنہیں اب سمجھ آ جائے کہ عالمی سیاست میں کسی اُمیدوار کی تعریف کرنے سے پارلیمان کی نشستیں پیدا نہیں ہوتیں۔ ووٹر کی مرضی کے سامنے بڑے بڑے دعوے، سفارتی تعلقات اور سیاسی سرپرست سب بے بس ہو سکتے ہیں۔
ان چاروں ممالک کے انتخابی نتائج میں ایک مشترک پیغام ضرور دکھائی دیتا ہے۔ عوام نے ان حکمرانوں اور سیاسی قوتوں کو چیلنج کیا جنہیں اقتدار کا مستقل حق دار سمجھا جا رہا تھا۔ برازیل میں لولا کی کامیابی، سربیا میں طلبہ کی پیش قدمی، ہنگری میں اوربان کی شکست اور اسرائیل میں نیتن یاہو کی مشکلات اسی بدلتے سیاسی مزاج کی نشانیاں ہیں۔ البتہ اسے بائیں بازو کی عالمی واپسی کہنا بھی سیاسی سادگی ہوگی۔ اصل بات یہ ہے کہ ووٹر اب خاموش تماشائی بننے پر آمادہ نہیں۔
امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی نے صدر ٹرمپ اور اُنکی ریپبلکن جماعت کو بڑا سیاسی دھچکا پہنچایا ہے۔ کانگریس کا کنٹرول ڈیموکریٹس کے ہاتھوں میں جانے سے ٹرمپ کیلئے اقتدار کے باقی دو برس آسان نہیں ہو نگے۔ اب انہیں قانون سازی کیلئے حزب اختلاف کی حمایت درکار ہوگی اور اپنے کئی سیاسی فیصلوں پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑیگا۔ جو صدر دُنیا کو اپنی شرائط پر چلانے کے خواہشمند ہیں، اُنہیں اب اپنے ہی ملک میں دُوسروں کی شرائط سننا ہوں گی۔ یہی جمہوریت کا حسن ہے کہ عوام اقتدار دیتے ہیں، تاحیات اختیار نہیں۔




