امریکی تجاویز مسترد، ایران نے جنگ بندی کیلئے پانچ شرائط رکھ دیں، ایرانی پریس ٹی وی

ایران نے جنگ بندی کی امریکی تجاویز کو نامناسب قرار دے کر مسترد کرتے ہوئے پانچ شرائط رکھ دیں اور کہا ہے کہ جنگ بندی کا فیصلہ ایران کی شرائط پر ہوگا۔

ایرانی پریس ٹی وی کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے امریکی تجاویز کا جائزہ لیا اور انہیں غیر مناسب پایا۔ ایران صدر ٹرمپ کو اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے وقت کا تعین کریں۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے علاقائی ثالث کے ذریعے پیغام دیا ہے کہ وہ اپنا دفاع جاری رکھے گا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی دفاعی کارروائیاں ایرانی شرائط پوری ہونے تک جاری رہیں گی۔ جنگ بندی کا فیصلہ صرف ایران کی شرائط پر ہوگا، جنگ کے خاتمے کی پہلی شرط حملوں کا رُکنا اور ایرانی عہدیداروں کے قتل کا خاتمہ ہے۔

حکام نے کہا کہ ایران جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکنے کے ٹھوس اور ضمانت شدہ اقدامات کا مطالبہ کرتا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی دفاعی کارروائیاں ایرانی شرائط پوری ہونے تک جاری رہیں گی۔

حکام کا کہنا تھا کہ ایران میں جنگ کے نقصانات کا تعین اورادائیگی کی ضمانت دی جائے، ایران پر جاری جنگ اور خطے میں دیگر مزاحمتی گروپوں کے خلاف جنگ روکی جائے۔

حکام کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

مصر کا ایران کی شرائط کے اعلان پر ردعمل

مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے ایران کی طرف سے امریکی تجاویز مسترد کیے جانے پر ردعمل دیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو میں مصری وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم اپنی کوششیں جاری رکھیں گے، یہ معاملہ سفارت کاری اور مذاکرات کا ہے، ایران کے لیے امریکی منصوبے کی وضاحت نہیں کرسکتے۔

پاکستان کی ثالثی کی کوششیں

خیال رہے کہ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت کی ہے۔

برطانوی اخبار نے لکھا تھا کہ پاکستان خود کو ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مرکزی ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے اور سینئر پاکستانی حکام ایرانی عہدے داروں اور وِٹکوف اور جیرڈ کشنر کے درمیان بیک چینلز رابطے کروا رہے ہیں۔

پاکستان بامقصد مذاکرات کی میزبانی کےلیے تیار ہے: وزیراعظم پاکستان

بعدازاں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ پاکستان جاری بحران کے خاتمے کےلیے بامقصد مذاکرات کی میزبانی کےلیے تیار ہے۔

اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی میزبانی کرنا پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔ خطے اور دنیا بھر میں امن و استحکام کےلیے مذاکرات ضروری ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کےلیے مذاکرات کی جاری کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔

ایران نے امریکا کے ساتھ ممکنہ زمینی تصادم کے خدشے کے پیشِ نظر 1 ملین سے زائد فوجیوں کو متحرک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ کے مطابق نوجوان رضاکار بڑی تعداد میں بسیج، پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی فوج کے بھرتی مراکز کا رُخ کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں ایک فوجی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ زمینی افواج کو منظم کر کے جنگ کے لیے تیار کر لیا گیا ہے اور امریکی افواج کی ایران میں ممکنہ آمد کی صورت میں سخت ردِعمل دیا جائے گا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام نے امریکا کے ساتھ کسی بھی سفارتی پیشکش کو عوامی سطح پر مسترد کر دیا ہے۔

ادھر امریکا کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں فوجی سرگرمیاں بڑھا دی گئی ہیں جہاں امریکی 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے دستے جَلد خطے میں پہنچنے والے ہیں  جبکہ ہزاروں میرینز پہلے ہی تعینات ہیں۔

ٹرمپ کا ایران کے ’تحفے‘ کا انکشاف

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کابینہ اجلاس میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے خیر سگالی کے طور پر امریکا کو تیل سے بھرے 10 جہاز لینے کی اجازت دی ہے۔

اِن کے مطابق ابتداء میں 8 جہازوں کی اجازت دی گئی تھی تاہم بعد میں مزید 2 جہاز ’معذرت‘ کے طور پر شامل کیے گئے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ اقدام ایران کی جانب سے سنجیدہ مذاکراتی اشارہ تھا تاہم ایرانی حکام نے باضابطہ مذاکرات کی خبروں کی تردید کر دی ہے۔

امریکی اسلحے کے ذخائر پر دباؤ

برطانوی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق جاری کشیدگی امریکا کے اسلحے کے ذخائر پر مالی اور عسکری دباؤ ڈال رہی ہے۔

ابتدائی 16 دنوں میں امریکا اور اس کے اتحادی تقریباً 11,000 ہتھیار استعمال کر چکے تھے جن کی مجموعی لاگت تقریباً 26 ارب ڈالرز بتائی گئی ہے۔

رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ذخائر کم ہونے کی صورت میں امریکا کو پرانے ہتھیار استعمال کرنا پڑ سکتے ہیں۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *