امریکی پالیسیاں عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں، ایران کا سلامتی کونسل کو خط

ایران نے اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کو خط لکھ دیا۔

 ایرانی سفیر برائے اقوام متحدہ امیر سعید ایروانی نے لکھا کہ امریکا کی پالیسیاں عالمی امن اور بین الاقوامی قانون کے لیے خطرہ ہیں۔

امیر سعید ایروانی نے لکھا کہ ملک میں عدم استحکام پھیلانے کے امریکی اقدامات مسترد کرتے ہیں۔ امریکی اقدامات یو این چارٹر اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی اقدامات غیر قانونی اورغیر ذمہ دارانہ ہیں، امریکا کی پالیسیاں عالمی امن اور بین الاقوامی قانون کے لیے خطرہ ہیں۔

ایرانی سفیر نے لکھا کہ امریکا اسرائیل کے ساتھ مل کر اشتعال اور تشدد کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔

فرانس، برطانیہ اور جرمنی کی جانب سے ایران میں ہونے والے مظاہروں میں  مظاہرین کی ہلاکتوں کی مذمت کی گئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق 3 بڑے یورپی ممالک اور امریکی اتحادیوں کے سربراہ فرانس کے صدر، برطانوی وزیراعظم اور جرمن چانسلر نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ایرانی سیکیورٹی اہلکار اپنی آبادی کی حفاظت کریں۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام چاہیے کہ وہ اپنے لوگوں کے اجتماع کی آزادی اور ان کی آزادی اظہار رائے کی آزادی کو یقینی بنائیں۔

 تینوں ممالک نے ایرانی سیکیورٹی فورسز  کی جانب سے مظاہرین پر تشدد کا الزام عائد کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایران کے مختلف شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے اگر ایران میں لوگوں کو قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ امریکی مداخلت کا مطلب ایران میں فوج اتارنا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت مصیبت میں ہے، مجھے ایسا لگتا ہے کہ ایران کے کچھ شہروں پر لوگ قابض ہیں، ایرانی حکومت نے برسوں اپنے عوام کے ساتھ براسلوک کیا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت کو آج اپنی عوام کی جانب سے جواب مل رہا ہے۔

پاک بھارت جنگ کا ایک مرتبہ پھر حوالہ دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت سمیت 8 جنگیں رکوائیں، پاک بھارت جنگ میں8 طیارے گرائے گئے، پاکستانی وزیراعظم نے بھی کہا کہ صدر ٹرمپ نے10 ملین جانیں بچائیں۔

واضح رہے کہ ایران میں پُرتشدد مظاہرے شدت اختیار کرگئے ہیں، امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ مظاہروں کے دوران اموات کی تعداد 217 ہوگئی ہے۔

امریکی دعوے کی ایرانی حکام کی جانب سے تصدیق نہیں کی گئی ہے جبکہ کئی شہروں میں توڑ پھوڑ کے بعد 26 بینک، 25 مساجد، 2 اسپتال اور 48 فائر ٹرکوں کو بھی نقصان پہنچایا یا ہے، پولیس اسٹیشنز پر حملے کیے گئے اور کئی اہلکار زخمی ہوئے ہیں جبکہ تقریباً ڈھائی ہزار افراد گرفتار ہیں۔

ایران کی تازہ صورتحال میں پاکستانی سفارتخانے نے اپنے شہریوں کی سہولت کیلئے کرائسیس مینجمنٹ یونٹ قائم کردیا ہے۔

تہران میں سفیر پاکستان مدثر ٹیپو کا کہنا ہے کہ پاکستانی شہریوں کی معاونت کیلئے چوبیس گھنٹے رابطہ کیا جاسکتا ہے، اس سلسلے میں تین عہدیداروں کے فون نمبرز اور لینڈ لائن نمبر بھی فراہم کردیے گئے ہیں۔

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ایران میں غیر ملکی حمایت یافتہ عناصر نے احتجاج تشدد کی طرف موڑنے کی کوشش کی،  شرپسند عناصر نے اداروں، بازاروں اور رہائشی علاقوں پر حملے کیے۔

جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران میں سبسڈیز کے تحت معاشی اصلاحاتی عمل جاری ہے، قیمتوں میں اضافے پر پُرامن احتجاج کو حکومت نے جائز قرار دیا۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ غیر ملکی حمایت یافتہ عناصر نے احتجاج تشدد کی طرف موڑنے کی کوشش کی، شرپسند عناصر نے اداروں، بازاروں اور رہائشی علاقوں پر حملے کیے، شرپسند عناصر کی حمایت عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

رضا امیری نے کہا کہ غیر ملکی مداخلت ریاستی خود مختاری کے اصولوں کے منافی ہے، ایرانی عوام کی اکثریت ریاست اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے، ایران نے اپنی تاریخ میں بارہا سازشوں کا سامنا کیا اور ہر بار سرخرو ہوا۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ امریکا انتہائی اشتعال انگیز اور غیر عقلی دور سے گزر رہا ہے، ایرانی قوم اپنی تہذیب اور قیادت کے ساتھ ہر سازش ناکام بنائے گی۔

 

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *