کچھ عرصہ پہلے اسلام آباد کی ہوادار مگر خنک دوپہر میں، مجھے سپریم کورٹ کے احاطے کے اندر ہی جیو ٹی وی اور روزنامہ جنگ کے نمائندے اور سپریم کورٹ کی ڈیجیٹل کوریج کے بانی جناب قیوم صدیقی سے ملنے کا موقع ملا۔ میرے عزیز بھائی عمران وسیم، جو جدید دور میں سپریم کورٹ کی رپورٹنگ کا نیا انداز متعارف کروا رہے ہیں، بھی میرے ساتھ موجود تھے۔ اس کے علاوہ انتہائی ذمہ دار اور سمجھدار جہانزیب عباسی اور بعد میں سرائیکی علاقے کے بے خوف صحافی طیب بلوچ بھی موجود رہے۔
یہ طیب بلوچ وہی ہیں جنہیں حال ہی میں عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان سے ایک سوال پوچھنے کی وجہ سے جس میں وہ ان سے ان کی ذاتی امدنی اور خرچے کے بارے میں پوچھ رہے تھے پی ٹی ائی کے کارکنوں نے تشدد کرنے کی کوشش کی تھی اور علیمہ خان نے انہیں وارننگ دی تھی کہ ائندہ ہمارے اس پاس نظر نہ انا لیکن طیب بلوچ نے جرات مندانہ طور پر کہا تھا کہ یہ میرا کام ہے میری ڈیوٹی ہے اور مجھے جو اسسائنمنٹ دیا جائے گا وہ میں ضرور کروں گا
جہانزیب عباسی جن کا تعلق ہزارہ بیلٹ سے ہے بہت ہی خوبصورت اردو بولتے ہیں اور بہت ہی نرم لہجے میں بات کرتے ہیں ان کی سپریم کورٹ کے عدالتی معاملات اور پاکستان کے قانون پر دسترس قابل تحسین ہے
میرے عزیز دوست عمران وسیم میں ان کا شکر گزار تھا کہ وہ مجھے اسلام اباد میں میرے ہوٹل سے لینے بھی ائے اور ہم نے یہاں ا کر سپریم کورٹ کے سائے میں جہاں ہلکی ہلکی قانونی مہک بھی ا رہی تھی اندر سے ججوں کے ریمارکس کے ٹیگ بھی ا رہے تھے خوبصورت شام گزاری اور سپریم کورٹ کی مشہور زمانہ کینٹین کی چائے کو بھی خوب انجوائے کیا
عمران وسیم بھی موجودہ نوجوان صحافیوں کی ایک بڑی معتبر قسم سے تعلق رکھتے ہیں ان کا تعلق بہاولپور سے ہے اور براہ راست ان کا صحافت سے پہلے کوئی تعلق نہیں رہا لیکن اس کے باوجود وہ جتنی تیزی سے صحافت میں اور خاص طور پر تحقیقاتی صحافت میں آگے ائے ہیں وہ قابل تحسین ھے وہ قانونی معاملات پر بہت عبور رکھتے ہیں
میرا ان صحافیوں سے ایک اہم سوال یہی تھا کہ کیا اج بھی
نئی جنریشن یا اج کل کی یونیورسٹیوں میں جو رجسٹریشن ہو رہا ہے اس میں طلبہ و طالبات صحافت میں اتنی ہی تیزی سے ا رہے ہیں جتنا اج سے 30 سال پہلے ایا کرتے تھے
اور اگر ا بھی رہے ہیں تو کیا ان کے اندر وہ جستجو اور وہ علمی قابلیت ہے کہ اج کے تیزی سے بدلتے ہوئے سوشل میڈیا کے دباؤ میں ائے ہوئے رجحان کے اوپر قابو پا سکیں اور اپنے اپ کو نمایاں کر سکیں کیونکہ یہ بظاہر بہت مشکل بات نظر اتی ہے پہلے اخبارات ذہن سازی اور مثبت یا منفی کسی بھی پروپیگنڈے کا بہترین ہتھیار ہوا کرتے تھے اب پرنٹ میڈیا تقریبا ناپید ہوتا جا رہا ہے ایسے میں میری دلچسپی یہی تھی لیکن مجھے جواب میں ان تجربہ کار صحافی حضرات نے بتایا کہ ایسا نہیں ہے ابھی بھی بڑی تعداد میں طلبہ اس شعبے کی طرف ا رہے ہیں اور ان میں پہلے والے صحافیوں کے مقابلے میں زیادہ جستجو ہے اور وہ اپنی انویسٹیگیشن زیادہ ازادانہ اور جرات مندانہ طور پر کرتے ہیں
اب یونیورسٹی میں صرف شعبہ صحافت نہیں بلکہ شعبہ صحافت کے ساتھ ساتھ ماس کمیونیکیشن ، ڈیجیٹل میڈیا اور اے آئ کمیونیکیشن بھی شامل ہو چکے ہیں
جن صحافیوں سے میری ملاقات ہوئی اس میں عبدالقیوم صدیقی جو سینیئر ہیں اور وہ خاندانی طور پر ایک صحافی صحافتی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ان کے علاوہ جن حضرات سے ملاقات ہوئی وہ بھی ایک طرح سے نئے خون ہیں اور وہ اپنی فیلڈ میں اتنے ہی ماسٹر ہیں جتنے اج سے 30 سال پہلے سفید بالوں والے نجم سیٹھی ، نصرت جاوید ، افتخار احمد اور مجیب الرحمن شامی ، صحافی ہوا کرتے ہیں
میں نے ان سے سپریم کورٹ میں موجودہ تقسیم اور آئینی عدالتوں سے متعلق معاملات پر بہت کچھ سیکھا۔ ڈیجیٹل صحافت کے بے لگام یلغار کے سامنے، حقیقت پر مبنی رپورٹنگ کے ساتھ ڈٹے ہوئے افراد ہی اس میدان کے قائد رہے ہیں۔ میں نے ان کو یہ بھی مشورہ دیا کہ جہاں وہ سچ کے پرچم کے ساتھ ڈٹے ہیں، وہیں شہری سندھ، خاص طور پر کراچی اور حیدرآباد کی سیاسی محرومی پر بھی بات کریں۔
میں اپنے تمام عزیز دوستوں سے گزارش کرتا ہوں کہ جب بھی انہیں حقائق اور عدالتی روایات پر سچی رپورٹنگ سننے کا دل چاہے، تو انہیں ان اہم صحافیوں کی رپورٹنگ پڑھنی چاہیے اور اگر دستیاب ہوں تو ان کے ویلاگس بھی سننے چاہئیں۔
پاکستان میں اج کی روایتی صحافت کو سوشل میڈیا سے سخت چیلنج کا اندیشہ ہے ہر شخص جو ایک موبائل فون ہاتھ میں رکھتا ہے وہ صحافی بنا ہوا ہے اور جہاں بھی ہوتا ہے اپنے طور پر رپورٹیں جاری کرنا شروع کر دیتا ہے ایسے میں اچھے صحافیوں اچھے رپورٹرز اور اچھی تحقیق اور تجزیہ کرنے والے صحافیوں کی بات سننا اسان نہیں ہے ۔ میری یہ ملاقات اس بات کو واضح کرنے کی ایک کوشش ہے کہ ہمیں اچھے صحافیوں کو تلاش کر کے انہیں سننا چاہیے
میں نے مذکورہ صحافیوں کو نوائے پاکستان مانٹریال کی
جانب سے محبت اخوت اور تابعداری کا پیغام بھی پہنچایا
اور ان کی خدمت میں اپنے اخبار اور جرائد کی کچھ کاپیاں بھی پیش کی جس کو انہوں نے خندہ پیشانی سے قبول کیا اور بعد میں توصیف بھی کی
پاکستان کی پرہیبت سپریم کورٹ جہاں اب ائینی عدالت بھی بن چکی ہے اس کے سائے میں بیٹھ کر قاضی فائض عیسی کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے اس بات کو قائم کیا کہ ججوں کا انتخاب اب جج خود نہیں کریں گے بلکہ عوامی نمائندے اس بات کا فیصلہ اپنے عوامی اختیار کے مطابق کریں ۔گے جس میں ان کے پیچھے عوام کی حمایت بھی حاصل ہوگی











Post your comments