2025 کی آخری شام میں
یہ گزرا سال…
آصف سلیم مٹھا مدیر نوائےجنگ لندن
جیسے دھوپ میں رکھا ہوا جلتا ہوا پتھر،
جیسے خالی جیبوں کے زخموں پر نمک۔
مہنگائی نے ہر چولہا بجھا دیا،
بے روزگاری نے باپ کے چہرے پر
وقت سے پہلے بڑھاپا لکھ دیا۔
گلیوں میں وردیاں بہت ہیں—
پیرا فورس، سی سی ڈی، ڈولفن کے پہرے،
ٹریفک کی سیٹیاں،
عام پولیس کے سوال…
اور کہیں نہ کہیں وہ چپ کی دیوار
جس نے لفظوں کی سانس روک لی،
اظہار پر پہرے بٹھا دیے۔
اس قوم کے دل میں بارش نہیں،
بس دھند ہے، دھواں ہے،
جس میں بچوں کے بستے بھی کھو گئے—
تعلیم پیچھے رہ گئی،
کتابوں کی خوشبو بھول گئی۔
مگر حیرت ہے…
اس دھرتی کے بیٹے سبھی تھکے ہوئے تھے،
پر پنجابی مٹی کی آنکھوں میں
جیسے بوجھ کچھ زیادہ تھا،
ہل چلانے والے ہاتھ خالی تھے،
فصلیں اگانے والے خود پیاسے تھے۔
وہ جن کے قہقہے کھیتوں جیسے بھرپور تھے،
آج خاموش بیٹھے سوال کرتے ہیں—
کیا ہم نے وطن کم چاہا تھا؟
یا موسم ہی بدل گیا؟
مگر میں جانتا ہوں—
یہ قوم ایک ہے،
درد سب کا مشترک ہے،
اور روشنی اسی دن اترے گی
جب بچے دوبارہ سکول جائیں گے،
لفظ آزاد ہوں گے،
کھیت ہریالی سے بھر جائیں گے،
اور ہم سب مل کر کہہ سکیں گے:
ہم نے زمانے کی سختیاں دیکھی ہیں
مگر ہارے نہیں۔











Post your comments