میزائل پروگرام پر کوئی بات نہیں ہوگی: ایران کا دو ٹوک مؤقف

ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، چاہے امریکا کے ساتھ مذاکرات ہوں یا دباؤ بڑھایا جائے۔

عرب میڈیا کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر، علی شمخانی نے اسلامی انقلاب کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر کہا ہے کہ ایران کی میزائل صلاحیتیں ناقابلِ مذاکرات ہیں، ایران صرف جوہری پروگرام پر بات کرنے کو تیار ہے، دفاعی صلاحیتوں پر نہیں۔

ایران کی جانب سے یہ مؤقف عمان میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ بالواسطہ مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

واضح رہے کہ امریکا چاہتا ہے کہ مذاکرات میں ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اتحادیوں پر بھی بات ہو جبکہ ایران اس مطالبے کو مسترد کر رہا ہے۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے پُرامن ہونے کا ثبوت دینے کو تیار ہے مگر غیر ضروری اور حد سے زیادہ مطالبات قبول نہیں کیے جائیں گے۔

اِن کا کہنا تھا کہ ایران جارحیت کے آگے نہیں جھکے گا تاہم خطے میں امن کے لیے بات چیت جاری رکھے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات پر ملے جلے بیانات دیے ہیں۔

اُنہوں نے ایک طرف بات چیت کو مثبت قرار دیا ہے تو دوسری جانب فوجی کارروائی کی دھمکی بھی دی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں ایران کی جانب دوسرا بحری جہاز بھیجنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات مثبت رہی، انہیں بتایا ہے کہ ایران سے ڈیل ترجیح ہے۔

صدر ٹرمپ سے نیتن یاہو کی ملاقات ہوئی، ملاقات میں اسرائیلی وزیراعظم کے کئی نمائندے بھی موجود تھے اور میں نے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا۔

امریکی صدر نے کہا کہ نیتن یاہو کو بتایا ہے ایران سے ممکنہ ڈیل کو ترجیح دی جائے گی، ایران سے مذاکرات میں دیکھا جارہا ہے کہ ڈیل ہوتی ہے یا نہیں۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ڈیل نہیں ہوتی تو دیکھیں گے کہ مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے، پچھلی بار ایران نے فیصلہ کیا تھا کہ ڈیل نہ کرنا اس کے لیے بہتر ہے، ایران کو مڈنائٹ ہیمر بمباری کا سامنا کرنا پڑا تھا اور وہ ایران کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا تھا۔

امریکی صدر نے کہا کہ امید ہے ایران کا رویہ اس بار زیادہ زمہ دارانہ اور معقول ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ غزہ میں پیشرفت پر بھی اسرائیلی وزیراعظم سے بات ہوئی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نے باضابطہ طور پر امریکی صدر کے بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کرلی۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *