امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے انکشاف کیا ہے کہ ایران پر امریکی حملے کے وقت کا تعین اسرائیل کی متوقع کارروائی کو مدِنظر رکھ کر کیا گیا۔
مارکو روبیو نے کانگریس رہنماؤں کو بریفنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ امریکا نے ایران پر حملہ اس لیے کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرے گا۔
امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اگر امریکا پہلے حملہ نہ کرتا تو امریکی فوج کو زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑتا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کو پہلے سے معلوم تھا کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرنے والا ہے جس کے بعد ایران امریکی مفادات کو نشانہ بنا سکتا تھا، اسی خطرے کے پیشِ نظر امریکا نے پیشگی کارروائی کی۔
مارکو روبیو کا مزید کہنا ہے کہ امریکا کا مقصد ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام کو تباہ کرنا ہے۔
اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا چاہتا ہے کہ ایرانی عوام موجودہ حکومت کا خاتمہ کر کے نیا سیاسی نظام قائم کریں۔
دوسری جانب امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے خطے میں امریکی اڈوں اور تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے امریکی اہلکاروں کی تعداد 3 سے بڑھ کر 6 ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی امریکا کے تعاون سے کی جا رہی ہے۔
امریکا اسرائیل کو 2023ء سے اب تک کم از کم 21 ارب ڈالرز کی فوجی امداد فراہم کر چکا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ نے اعتراف کیا ہے کہ امریکا اسرائیل کی منتخب کردہ جنگ میں داخل ہوا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا کو کبھی بھی کوئی نام نہاد ایرانی خطرہ نہیں تھا۔
عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکی عوام بہتر کے مستحق ہیں اور انہیں اپنا ملک واپس لینا چاہیے۔
واضح رہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکا نے ایران پر حملہ اس لیے کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرے گا۔
امریکی وزیرِ خارجہ نے یہ بھی کہا تھا کہ نتیجتاً امریکی افواج کو ممکنہ طور پر ایرانی جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔













Post your comments