1976 میں پہلے لاہور انے کا اتفاق ہوا جب میں عام سا بچہ تھا ۔ اس سے پہلے صرف صادق اباد پنجاب تک ایا تھا جہاں میں پیدا ہوا تھا اور اس کے بعد کراچی چلے گئے اور ہمیں پنجاب کا ڈومیسائل بھی نہیں ملا ۔
لاہور کے قصے کہانیاں سنتے تھے فلم انڈسٹری کا وہ بہت بڑا مرکز تھا لہذا اخباروں میں فلمی اشتہار دیکھ کے ایسا لگتا تھا جیسے یہ سب کچھ لاہور کی کہانیاں ہیں
جب پہلی مرتبہ کالج کے ٹور کے ساتھ لاہور اسٹیشن سے باہر ائے تو ایسا محسوس ہوا جیسے یہاں پر لوگ ہمیں بڑی ہی عقابی نظروں سے دیکھ رہے ہیں ، جس ریسٹورنٹ میں جائیں وہ اپس میں بات کریں کہ کراچی سے مہمان اگئے ہیں اور مہمان کا مطلب یہ تھا کہ ان کے ساتھ قیمت بڑھا دی جائے ۔ لیکن لڑکے بالے تو ان معاملات پہ قابو پا ہی لیتے ہیں اس کے بعد اسٹیشن سے باہر تانگوں کی طویل قطار ، لاری لاری اڈا داتا دربار کا شور ۔ فضا میں گرد و غبار مٹیالہ رنگ عجیب سی گھوڑوں کی لید کی مہک موجود ہوتی تھی ۔ لاہور میں تاریخی مقامات تو بہترین تھے جس میں شلمار باغ باشاہی مسجد جہانگیر کا مقبرہ نور جہاں کا مقبرہ شاہی قلعہ اور ساتھ میں شاہی مسجد لاہور اور اس زمانے میں تقریبا برباد ہوتا ہوا بازار حسن ۔
کھانوں کے اس زمانے میں اتنے شوقین نہیں تھے لیکن کھانا وہاں پر سوائے چھولا پلاؤ اور کوفتہ روٹی اور قیمہ والے نان کے علاوہ کچھ زیادہ چیزیں نظر نہیں ائی ۔
اس کے بعد لاہور انا جانا ہوتا رہا زیادہ تر راولپنڈی اسلام اباد جانا ہوتا تھا تو راستے میں ایک طرح کا ٹرانزٹ ہوتا تھا کیونکہ کراچی سے شالیمار ایکسپریس کے ذریعے رات 10 ساڑھےد بجے لاہور پہنچتے تھے وہاں رات داتا دربار میں گزارتے تھے اور صبح صبح راولپنڈی جانے والی ٹرین پکڑتے تھے ۔ داتا دربار میں کیا شک ہے کہ اس نے ہمیشہ بھوکوں کو کھلا کھلایا رات کو جب میں داتا دربار کی مسجد کے وسیع صحن پہ لیٹ جایا کرتا تھا اور اچانک انکھ کھلتی تھی تو برابر میں روٹی کچوری یا چنے کا سالن اور یا بریانی رکھی ہوئی ملتی تھی ۔ ظاہر ہے اجنبی سمجھ کے کوئی رکھ جاتا ہوگا بہرحال تو لاہور کا یہ مزہ تو اپنی جگہ رہا ۔
ضیاء الحق زمانے میں لاہور کو ترقی دی گئی اور زمانے میں بہت سارے امیوزمنٹ پارک بنے جس میں جلو پارک اور اس کے علاوہ ریس کورس کورس پارک بہت مشہور تھا
انیس سو آٹھاسی میں لاہور خوبصورتی کی راہ پر گامزن ہو چکا تھا ۔
اس کے بعد ہندوستان بار بار انے جانے کی وجہ سے لاہور سے روشناسی اور بڑھتی گئی
اب یہاں پاکستان گھومنے اتے تھے تو واپسی میں دو دن ہوٹل لے کر لاہور کی بازاروں کا گشت کرتے تھے انارکلی میں شاپنگ کرتے تھے اور لاہور کے کھانوں سے بھی مانوس ہونے لگے جس میں ریلوے اسٹیشن کا اہم ترین آئٹم چرغہ تھا جو میرا خیال ہے اج بھی سب سے لذیذ ہے ۔
کینیڈا انے کے بعد بھی 2002 میں میں نے ایک چکر اپنے بچوں کے ساتھ لاہور کا لگایا تھا کہ ان کو پاکستان کے اس بڑے شہر کے بارے میں معلومات ہوں گو کہ بچے چھوٹے تھے اور مجھے اج تک اپنے چھوٹے بیٹے کا بادشاہی مسجد کے وسیع صحن میں بھاگنا دوڑنا یاد ہے اور اس کے بعد 16 سال تک لاہور نہ آ سکا اور جب 2018 میں فیملی کے ساتھ لاہور ایا تو اس سے پہلے لاہور ترقی کے مزید معیار طے کر چکا تھا ۔ اب یہاں ہوٹلنگ بہترین ہو چکی تھی اس سے پہلے اسٹیشن کے باہر ٹوٹے ٹوٹے ہوٹلوں میں ٹھہرا کرتے تھے اب شہر کے اندر نفیس ہوٹل بن چکے تھے ۔ اوبر وغیرہ کی امد کے بعد ٹرانسپورٹ کے جو پرابلم تھے وہ بھی حل ہو چکے تھے ۔ اب صرف پھجا پائے والا ہی مشہور نہیں تھا بلکہ اس کے علاوہ بے شمار ریسٹورنٹ سامنے اگئے تھے جہاں بہترین ماحول میں کھانا دستیاب تھا ۔ بازار حسن اب فوڈ اسٹریٹ بن چکا تھا ۔ اور مزے کی بات ہے میں لاہور 2018 میں اس وقت ایا جب پی ٹی ائی نے ایک دن پہلے الیکشن جیتا تھا اور میں یہاں ہر ٹیکسی والے سے چائے والے سے یہ پوچھتا چلا جا رہا تھا کہ اخر یہ الیکشن پی ٹی ائی جیتی ہے یا اس کو جتوایا گیا ہے ان کے جو جوابات تھے اب وہ سیاسی معاملات ہیں اور اس وقت میں یہ سیاسی کالم نہیں لکھا رہا ہوں ۔
اس کے بعد 2022 میں لاہور انا ہوا بلکہ اس مرتبہ تو لاہور ہی نہیں بلکہ گجرانوالہ شہر بھی دیکھنے کا موقع ملا اور یہ وہ وقت تھا جب لاہور اور گجرانوالہ اور پنجاب کی ترقی یک دم کھل کر سامنے ائی ۔
لیکن اس سے پہلے تو میں ایک بات بتا دوں کہ لاہور کا کراچی سے مقابلہ کرنا ایک انتہائی غیر ضروری عمل ہے کراچی کی شان شوکت اس کی ترقی اس کا سٹائل وہاں کے رہنے کے طریقے وہاں کے لوگ لاہور سے بالکل مختلف ہیں لہذا لاہور اور کراچی کو تولنا غلط ہے لاہور میں ایک دیہی علاقوں کی خوشبو ہے وہاں کے لوگ ملنسار ہیں وفادار ہیں محبت کرنے والے ہیں ایک دوسرے کی کلچر کو اپس میں ضم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں جو اب ان کو ایک ازمائش کی طرف لے کر جا رہی ہے کیونکہ خیبر پختون خواہ سے اب ہمارے پشتون بھائی کراچی کی طرف انا مشکل سمجھ رہے ہیں اور وہ لاہور میں رک جایا کرتے ہیں کیونکہ لاہور میں بھی روزگار کے وسیع وسائل پیدا ہونے لگے ہیں ۔ اور اب رنگ محل سمیت پرانے لاہور کی اندرونی گلیوں میں جتنی ہول سیل دکانیں ہیں ان پر اپ کو پختون چہرے نظر اتے ہیں جس طرح کبھی کراچی میں ہوتا رہا ہے اور اس کے نتائج کے بارے میں اب میں اپ کو بتاؤں گا تو کالم پھر سیاسی ہو جائے گا لہذا میں اس سے بچتا ہوں
پرویز الہی کی وزارت اعلی کے بعد لاہور تیزی سے ترقی کی راہ پہ گامزن ہوا اب وہاں میٹرو ٹرین چلتی ہے جس نے لاہور کو ایک لڑی میں پرو دیا ہے ۔ جیسے شالامار باغ پہلے ایسا لگتا تھا شہر کا مضافات ہے اب اپ کو وہ شہر کے اندر دکھائی دیتا ہے ابادی بے شک بہت دور دور تک چلی گئی ہے بلکہ ہندوستان کی سرحد کو ٹچ کر رہی ہے ۔
اسودہ حال لوگوں کی ابادیاں ماڈل ٹاون گلبرگ کے اس بار یا ملتان روڈ کے اخری سرے پر وسیع پیمانے پر موجود ہیں جس میں جوہر ٹاؤن ہو ، اے ای ائی سوسائٹی ہو بحریہ ٹاؤن ہو یا پھر حسب معمول ڈیفنس سوسائٹیوں کے مختلف پروجیکٹ ہوں وہاں پر ایک ایسی نسل یا ایسے لوگ تیار ہو رہے ہیں جن کا بظاہر لاہور سے کوئی تعلق نظر نہیں اتا بلکہ ایسا لگتا ہے اپ کراچی کے کسی محلے میں گھوم رہے ہیں پنجابی زبان وہاں بہت کم بولی جاتی ہے رکشہ ڈرائیور سے لے کر ریسٹورنٹ میں بھی بندہ اپ سے اردو میں ہی بات کرے گا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مقامی ہے ہی نہیں ۔
سرائکی اور پشتو اور ہند کو زبان بولنے والے لاہور میں کام کر رہے ہیں گاڑیاں چلا رہے ہیں ٹرانسپورٹ کے اوپر موجود ہیں تو ان کو بھی راولپنڈی کی طرح یہاں پر رابطے کی زبان اردو استعمال کرنی پڑ رہی ہے ۔ ان اسودہ حال علاقوں میں جو بچے پل رہے ہیں وہ اردو زبان ہی جانتے ہیں پنجابی زبان گھر میں بڑی مشکل سے بولتے ہیں وہاں کے والدین کو سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ نئی نسل کو پنجابی زبان سے کس طرح روشناس کرایا جائے ۔ ساتھ ساتھ کراچی جیسے عادتیں پیدا ہو رہی ہیں ہو سکتا ہے پرانا لاہور تو صبح اٹھ بجے بیدار ہو جاتا ہو لیکن یہ جو نیا لاہور ہے یہ 11 بجے تک کراچی کی طرح سوتا رہتا ہے ۔
بڑے بڑے شاپنگ مال نے پورے پاکستان کو ہی نہیں پوری دنیا کو گلوبل ولیج بنا دیا ہے اب جو چیز اپ کو کراچی میں جتنے کی ملتی ہے اتنی کی ہی لاہور کے کسی مال میں مل جائے گی اور اتنی ہی کی اپ کو گجرانوالہ کے مال میں مل جائے گی
امتیاز سپر مارکیٹ ہر علاقے میں موجود ہے ۔ ساتھ ساتھ شاپنگ مالز میں ہیلواین سے لے کے ویلنٹائن ڈیز تک منانے کی بہترین سہولتیں موجود ہیں ۔
لبرٹی سکوائر اپ کو طارق روڈ یا ملینم مال گلستان جوہر کراچی کے رنگ میں رنگا نظر اتا ہے روشنیاں قمقمے چہل پہل رنگ و روپ کی رعنائیاں پھیلی ہوئی ہیں ۔
اور لاہور میں بظاہر ڈکیتی چوری فون چھیننے کے خطرات کا بھی اندیشہ نہیں ہے اور یہی اس وقت لاہور کا طرہ امتیاز ہے
کیونکہ یہ سیاسی کالم نہیں ہے اس لیے میں یہ نہیں لکھنا چاہ رہا کہ یہ سب کچھ کیسے ہو رہا ہے کیوں ہو رہا ہے جیسے بھی ہو رہا ہے لاہور خوبصورت سے خوبصورت ہوتا جا رہا ہے ترقی یافتہ ہوتا جا رہا ہے اور ہمارے لیے بہت اچھی بات ہے کہ پاکستان میں اب صرف کراچی ہی ایک شہر نہ رہے کراچی جیسے کچھ اور شہر بھی بنتے جائیں











Post your comments