بعض مفروضے اتنے زبان زد عام ہو جاتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ سچائی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہیں
مثال کے طور پر اگر اپ فرانس جائیں اور انگریزی بولیں تو لوگ اپ سے نفرت کرنے لگتے ہیں یا اگر اپ ترکی جائیں اور ان کو پتہ چلے اپ پاکستانی ہیں تو اپ کے گلے لگ جاتے ہیں
ایسے ہی کچھ اور باتیں بھی ہیں جو اتنی مشہور ہو جاتی ہیں کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ بالکل سچ ہے لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے
اسی طرح پاکستان میں بھی کچھ چیزیں مشہور ہیں مثال کے طور پہ جماعت اسلامی کے لوگ بہت اچھے ہوتے ہیں اب یہ جماعت اسلامی پہ کتنے بھی کوئی اعتراض کرے وہ اس بات پہ گھوم کے ا جاتا ہے کہ ہاں جماعت اسلامی کے لوگ اچھے تو ہوتے ہیں ۔ یا پیپلز پارٹی بہت کرپشن کرتی ہے اب پیپلز پارٹی کے کتنے ہی کارنامے گن والیں 73 کا ائین ہو یا اٹھارویں ترمیم لیکن اخر میں گھوم کر پھر یہ کہیں گے ہاں لیکن پیپلز پارٹی میں کرپشن تو ہے
کچھ ایسا ہی معاملہ پی ٹی ائی کی مقبولیت کا ہے یہ مفروضہ اتنا ہمارے اینکروں کے اور اخبار نویسوں کے ذہنوں میں بیٹھ گیا ہے کہ وہ الف سے لے کے یہ تک پی ٹی ائی کی حماقتیں ان کے فضول دعوے جھوٹ مکاری کا بیان ضرور کریں گے لیکن پھر ا کے کہیں گے ہاں مقبولیت تو ان کی ہے ۔
یہ سب مقبولیت اس غبارے کی طرح ہے جو کب کا پھٹ چکا ہے لیکن کسی کو اس کے پھٹنے پر یقین نہیں ہے
پی ٹی ائی اپنے زوال کے بعد جو کہ خود عمران خان کی اپنی حرکتوں کی وجہ سے ہوا ہر ہر موڑ پر ناکام ہوئی ہے کہاں بلند و بانگ دعوے تھے کہ اصف زرداری اور نواز شریف کو ایک ہی شست میں مار دوں گا امریکہ نے میرے خلاف سازش کی ہے وغیرہ وغیرہ اور پھر چپ چاپ نو اپریل 2022 کو اقتدار سے فارغ ہو گئے
انتہائی ایماندار مانے جاتے تھے لیکن کرپشن کی ایسی کہانیاں ائیں جو شرمندہ کرنے کے لیے کافی تھیں پھر سیاسی بصیرت کا یہ عالم کہ پنجاب اسمبلی کو توڑ دوں گا تو فورا الیکشن ہو جائیں گے نہ کوئی انہیں سمجھانے والا تھا ان کے اطراف میں ، نہ کوئی ایسے لوگ ہیں جن کو سیاسی بصیرت ہو تو لہذا انجام یہ ہوا کہ نو مئی جیسا ملک دشمن کام بھی کر لیا اس کے بعد جیل میں بھی چلے گئے اور اٹھ فروری 2024 کو ہونے والے الیکشن میں فیض حمید کی حمایت سے ایک ملمہ کاری کے ذریعے اپنی مقبولیت دکھاتے دکھاتے بالاخر الیکشن میں ہار ہی گئے لیکن مقبولیت مقبولیت کا ایسا ڈھول پیٹا گیا جو اج تک میڈیا کی طاقت کے ذریعے اور میڈیا میں ائے ہوئے چند ایسے صحافیوں کے ذریعے جو کہ تعلیم یافتہ تو ہوں گے لیکن صحافت کی جید تعلیم سے محروم ہیں وہ اس حالت میں بھی کہ پی ٹی ائی ضمنی الیکشن ہارتی رہی ہے خود کے پی کے میں ہزارہ کا الیکشن ہار گئی ہے ، لاہور کے اندر مریم نواز کی چھوڑی ہوئی قومی اسمبلی کی سیٹ ہار گئی ہے اس کے باوجود مقبولیت پہ ا کے ان سے یہ نہیں کہا جاتا کہ پی ٹی ائی کی مقبولیت کم ہو گئی ہے اس میں وہ صحافی بھی شامل ہیں جو عمران خان کے نظریات کے خلاف ہیں جیسے منصور علی خان منیب فاروقی نجم سیٹھی مظہر عباس جاوید چوہدری اور بھی چند ایک ہیں جو پی ٹی ائی کی ساری حماقتیں گناتے گناتے پھر اس بات پر ا کر اٹک جاتے ہیں کہ جی پی ٹی ائی مقبول ہے
اور ہم جیسے سیاسی مبصر جو پچھلے 40 سال سے سیاست کا باریک بینی سے جائزہ لیتے رہے ہیں ہم بتا رہے ہیں کہ یہ مقبولیت صرف زبانی پروپیگنڈے کی بنیاد پر ہوتی ہے جو اس سے پہلے اخبارات کے ذریعے ہوتی تھی رسالوں کے ذریعے ہوتی تھی اور اب سوشل میڈیا کے ذریعے ہوتی ہے لیکن ایسی مقبولیت کے غبارے کی ہوا بہت جلد نکل جاتی ہے اور پی ٹی ائی کی نکل چکی ہے
میں تو پہلے بھی اس کی نشاندہی کر چکا ہوں لیکن اب تازہ تازہ اٹھ فروری کو جو عظیم الشان ہڑتال پہیہ جام شٹر ڈاؤن اور پتہ نہیں کیا کیا ہونے والا تھا اور جس کے بارے میں دو مہینے پہلے سے تیاری شروع کر دی گئی تھی ۔
پوسٹر وزیراعلی سہیل افریدی پورے پاکستان کے دورے کر رہے تھے کراچی میں عظیم ہجوم سے خطاب کر رہے تھے لاہور کے اندر افت ڈھا رہے تھے اور اسٹریٹ موومنٹ چلائی جا رہی تھی تاکہ اٹھ فروری کا پہیہ جام کامیاب ہو
اور میں بار بار عرض کر رہا تھا کہ وہ ہڑتال ہڑتال ہی نہیں ہوتی جو ایڈوانس میں بتا کر کی جائے کیونکہ صرف کمزور وکٹ پہ کھیلنے والی اس قسم کی ہڑتالیں کرتے ہیں جن میں طاقت ہوتی ہے وہ چند گھنٹوں کے نوٹس پہ ہڑتال کر دیا کرتے ہیں اور پی ٹی ائی کے فارم 47 کے بیانیہ کا سب سے کمزور پہلو ہی یہ ہے کہ اگر سینکڑوں نشستوں پر ان کے ساتھ دھاندلی ہوئی تو اگلے دن وہ ووٹر جن کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا وہ سڑکوں پر کیوں نہیں اگئے ؟
خیر ہماری باتیں کسی کی سمجھ میں ائی یا نہ ائیں لیکن ہو تو وہی رہا ہے جو ہم اندازہ لگا کے بتا رہے ہیں جیسا کہ اٹھ فروری کی ہڑتال اور پہیہ جام کا حشر ہوا ، سوائے خیبر پختون خواہ میں جہاں پر ان کی اپنی حکومت ہے وہاں پر بھی یہ کم سے کم اپنی حکومت کے ذریعے عام تعطیل کا اعلان کرا کر بھی ایک قسم کا سناٹا طاری کر سکتے تھے لیکن یہ وہ بھی نہ کر سکے اور خیبر پختون خواہ کے 70 فیصد علاقے تو مکمل طور پر کھلے رہے اور باقی علاقوں میں بھی جزوی طور پر کچھ گھنٹوں کے لیے کاروبار بند رہا اور پھر کاروبار کھل گیا
اٹک کے پل کے اس پار سے لے کے کہ کیماڑی تک نہ تو کوئی ہڑتال تھی نہ کوئی مظاہرہ تھا نہ کوئی مزاحمت تھی
اس کے باوجود نوٹنکی قسم کے صحافی یہی کہتے رہے کہ اج کی ہڑتال کو تحریک انصاف نے سوشل میڈیا کے ذریعے بہت زبردست طریقے سے پیش کیا ہے
حد ہوتی ہے جھوٹی تصاویر فوٹو شاپ اے ائی ان چیزوں سے جعلی رپورٹنگ کر کے کس طرح سے قوم کو بے وقوف بنایا جا سکتا ہے لیکن صرف مطیع اللہ جان اسد علی طور اور تحریک انصاف کے یوٹیوبروں کے علاوہ جن صحافیوں کو اوپر میں نے ذکر کیا وہ بھی کھل کر کہنے سے بچ رہے ہیں وجہ یہ ہے کہ ان میں سے کوئی صحافی بھی نہ تو اپنی کرسی چھوڑ کے روڈ پہ نکلنے پہ تیار ہے یہی وجہ ہے کہ بیٹھے بیٹھے دونوں طرف کھیلتے ہیں کہ ایک طرف پی ٹی ائی کے بارے میں بری باتیں کہی جائیں اور دوسری طرف اپنا اپ کو بچانے کے لیے یہ کہا جائے کہ نہیں مقبولیت تو ابھی تک چل رہی ہے
ایک صاحب تو یہاں تک کہتے ہیں کہ لوگ پنجاب میں مسلم لیگ کی ترقیاتی کاموں کو انجوائے کر رہے ہیں خوش ہو رہے ہیں لیکن ووٹ دینے نہیں جائیں گے
دراصل اس قسم کے صحافی جن کے نام بھی میں نے اوپر لکھے ہیں اس میں حامد میر کو بھی شامل کر لیں یہ عوام کو احمق اور مجموعی طور پر غیر تعلیم یافتہ سمجھتے ہیں اور خود کو بزرج مہر سمجھتے ہیں ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ عوام کا فیصلہ ہی سب سے اخر ہوتا ہے اور عوام بہت زیادہ باشعور ہے ان کے جیسے اخبار نویسوں کو ان کے جیسے لکھنے پڑھنے والوں کو عوام اکثر غلط ثابت کرتے رہے ہیں
یہ شاید یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ بسنت منائی گئی تو عوام نے بسنت میں خوب حصہ لیا اور عمران خان کی تصویروں والی پتنگیں بھی نہیں اڑائیں قیدی نمبر 804 کے پوسٹر بھی نہیں لگائے لیکن عوام ووٹ دینے عمران خان کو چلے جائیں گے
تو ان کو معلوم ہو کہ ایسا کبھی بھی نہیں ہوتا جب مقبولیت ہوتی ہے تو وہ مقبولیت چپے چپے پہ نظر اتی ہے مجھے مثال دینی پڑتی ہے کراچی کی ، کراچی میں الطاف حسین کو ائیسولیٹ کیے ہوئے 10 سال ہو رہے ہیں 10 سال میں بلدیاتی الیکشن ہوئے ہیں دو قومی الیکشن ہوئے ہیں اور ہر الیکشن میں 15 فیصد سے زیادہ ووٹ نہیں پڑے ہیں
اس کو کہتے ہیں مقبولیت کہ اگر کوئی کہے کہ الطاف حسین لندن میں اکیلا پڑا ہے کوئی اس کو پوچھنے والا نہیں ہے بیمار ہو گیا ہے تو کوئی دوائی دینے والا نہیں ہے لیکن اس کا نام کراچی میں اج بھی اتنی طاقت رکھتا ہے کہ اس نے ایک دفعہ کہہ دیا بائیکاٹ تو بائیکاٹ اج تک جاری ہے جب تک وہ نہیں کہے گا کہ اب بائیکاٹ نہیں ہوگا اس وقت تک قوم ووٹ دینے نہیں نکلے گی
لیکن عمران خان جس کے ساتھ پہلے وہ لوگ بھی تھے جن کو وہ ابو کہا کرتا تھا اس نے کبھی بجلی کے بل پھاڑے کے بجلی کے بل نہیں دیں گے اور خود بجلی کا بل دے کے ا گیا اس نے کہا کہ بیرون ملک رہنے والے لوگ پاکستان ہرگز اپنی کمائی کا پیسہ نہ بھیجیں ہماری انے والی کا کمائی میں اور اضافہ ہو گیا ۔
اس نے کہا تھا اگر کسی کو یاد ہو کہ ہم سول نافرمانی کریں گے سول نافرمانی کرنا کتنا بڑا کام ہے یہ ایک فیصد بھی سول نافرمانی نہ کر سکا بلکہ جیسا کہ میں نے کہا کہ اپنے بنی گالہ کے گھر کو ناجائز طور پر ریگولرائز کرنے کے لیے رشوت کے پیسے بھی دے کے ا گیا
گرفتاری کے بعد بارہا اس کی رہائی کے لیے اخری مہم اخری معرکہ کفن پھاڑ ہنگامہ کفن پھاڑ ریلیاں نکلیں
کے پی کے سے اسلحہ گولہ بارود اور ٹرک ٹریکٹر ٹرالر کرینوں کے ساتھ اسلام اباد میں حملہ اور ہوئے اور دم دبا کے ایسے بھاگے کہ ہمیں پتہ چلا کہ اسلام اباد سے کے پی کے جانے کا کوئی 17 کلومیٹر کا بھی راستہ ہے
تو اب ان کی مقبولیت کا ڈھول یا غبارہ اٹھ فروری کو پھٹ چکا ہے
اور کسی اور کی مقبولیت کا ستارہ بسنت کے نام سے برامد ہوا سب نے دیکھا کہ لاہور کی زندہ دلان نے کس طرح بسنت منائی اور اس بسنت میں پورا پاکستان اسی سوشل میڈیا کے ذریعے کس طرح شامل ہوا
نہ کوئی عمران کے نام کی پتنگ اڑی نہ کہیں اس کی تصویر لگی نہ کسی نے اسے یاد کیا کیونکہ مقبولیت تو وہی ہوتی ہے کہ یہ اگر کراچی ہوتا اور کراچی میں اگر ایم کیو ایم کے کارکنوں کو پکڑ کے ان کی لاشیں گٹروں سے نہ ملتی تو کراچی میں پتنگوں پہ صرف الطاف حسین کی تصویر ہوتی
پی ٹی ائی نے بھی ریاستی مظالم دیکھے کہاں ہیں ان کو جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان کو باقاعدہ مقدمات چلا کر سزائیں دی گئی ہیں ، کیا پی ٹی ائی کے کسی کارکن کو اغوا کر کے اس کی لاش کہیں پڑی ہوئی ملی ہے اج تک
کیا پی ٹی ائی کی خواتین نے اپنے بچوں کی لاشیں کی نماز جنازہ خود پڑھائی ہے
پی ٹی ائی تو ایک سافٹ قسم کے نرم گداز قسم کے نام نہاد جبر کے سامنے لیٹی ہوئی ہے اور ہمارے غیز سنجیدہ صحافی بھائی سوشل میڈیا کے لوگ اس کی مقبولیت کو ابھی تک سمجھنے سے محروم ہے ہم واضح طور پر بتاتے ہیں کہ پی ٹی ائی کی مقبولیت کا غبارہ پھٹ چکا ہے اور بسنت کی پتنگیں بلند ہوتی جا رہی ہیں ۔











Post your comments