ہم سب اپنی زندگی کو خدشات اور وسوسوں کے شکنجے میں کَس کر رکھتے ہیں۔ ہر لمحہ یہ سوچتے ہیں کہ کل بہتر ہوگا، کل آسان ہوگا، کل خوشی آئے گی۔ مگر یہ ’’کل‘‘ کبھی نہیں آتا۔ آنے والا کل ہمیشہ ایک نئے دھوکے کی صورت میں سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ انسان اپنی توانائی اور خوشی کو اس سراب کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ضائع کر دیتا ہے۔ اصل حکمت یہ ہے کہ لمحہ موجود کو غنیمت جانا جائے۔ جو وقت ہاتھ میں ہے، وہی سب کچھ ہے۔
پرندوں کی مثال لیجیے! وہ فضاؤں میں کھلے دل سے اُڑتے ہیں۔ اپنے حصے کا رزق تلاش کرتے ہیں۔ جو مل جائے اُس پر صبر اور شکر کرتے ہیں۔ اُن کے دل میں نہ کل کا خوف ہوتا ہے نہ کل کی اُمید۔ وہ لمحہ موجود میں جیتے ہیں۔ یہی زندگی کا حقیقی مفہوم ہے۔ انسان کو بھی چاہیے کہ پرندوں کی طرح آزاد دل کے ساتھ جئے۔ خوش دِلی سے مسکرائے، چہکے، اور جو میسر ہے اسے غنیمت جانے۔ یہی اصل آزادی ہے، باقی سب زنجیریں ہیں۔
اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی زندگی کو خواہشات اور توقعات کے بوجھ تلے دفن کر دیا ہے۔ ہم ہر وقت زیادہ کی طلب میں رہتے ہیں۔ زیادہ دولت، زیادہ عزت، زیادہ آسائش۔ مگر یہ ’’زیادہ‘‘ کبھی پورا نہیں ہوتا۔ انسان جتنا بھی حاصل کر لے، اُس کے اندر ایک خلا باقی رہتا ہے۔ یہ خلا صرف قناعت اور شکر سے پُر ہو سکتا ہے۔ مگر ہم نے قناعت کو بھلا دیا ہے اور شکر کو نظرانداز کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دل ہمیشہ بے سکون رہتا ہے۔
زندگی کو جینے کا سلیقہ یہی ہے کہ آج کو کل پر قربان نہ کیا جائے۔ آج کو کل کی اُمید میں ضائع نہ کیا جائے۔ آج کا دن کل کی نسبت زیادہ بلند عزم کے ساتھ گزارا جائے۔ یقین کامل رکھا جائے کہ آج کا رزق بہتر ہے، آج کی خوشی زیادہ ہے، آج کی مسکراہٹ قیمتی ہے۔ جو لمحہ ہاتھ میں ہے، وہی اصل سرمایہ ہے۔ باقی سب سراب ہے، باقی سب دھوکہ ہے۔
یہ دُنیا ایک تماشا ہے۔ اِس تماشے میں جو ہنستا ہے، وہی جیتتا ہے۔ جو روتا ہے، وہی ہارتا ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو ہنسی خوشی گزارے۔ دُکھ اور غم کو دِل پر بوجھ نہ بنائے۔ وسوسوں اور خدشات کو ذہن پر حاوی نہ کرے۔ جو کچھ میسر ہے، اُس پر شکر کرے۔ جو نہیں ہے، اُس کے پیچھے بھاگ کر اپنی خوشی کو برباد نہ کرے۔ یہی اصل دانائی ہے۔
زندگی کی حقیقت یہی ہے کہ یہ لمحہ موجود ہے۔ کل ایک دھوکہ ہے، کل ایک سراب ہے۔ آج کو غنیمت جاننا ہی اصل حکمت ہے۔ آج کو خوش دِلی سے گزارنا ہی اصل دانائی ہے۔ جو وقت ہاتھ میں ہے، وہی سب کچھ ہے۔ باقی سب خواب ہیں، باقی سب فریب ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ اپنی توانائی اور خوشی کو اسی لمحے میں صرف کرے۔ یہی اصل کامیابی ہے۔
یہ کائنات ہمیں ہر روز یہ سبق دیتی ہے کہ پرندوں کی طرح آزاد ہو کر جیو۔ فضاؤں میں اُڑو، اپنے حصے کا رزق تلاش کرو، اور جو مل جائے اس پر شکر ادا کرو۔ یہی زندگی کا اصل فلسفہ ہے۔ باقی سب دھوکہ ہے، باقی سب سراب ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو وقت ہمیں دیتا ہے۔ یہی وہ سبق ہے جو عمر کے پگھلنے سے ملتا ہے۔ یہی وہ دانائی ہے جو زندگی کو سمجھنے سے حاصل ہوتی ہے۔











Post your comments