ایم کیو ایم رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس نہیں لی گئی، وزیر داخلہ سندھ

وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے ایم کیو ایم رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن افراد کو قانون اور سیکیورٹی کے پیش نظر سیکیورٹی دی گئی ہے وہ فراہم کی جارہی ہے۔

جیو نیوز سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول اسلام آباد میں ہیں، کسی بھی شخص کو دی گئی سیکیورٹی واپس نہیں لی گئی۔

مصطفیٰ کمال کی ایم کیو ایم رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے کی تصدیق

دوسری جانب آئی جی سندھ نے وفاقی وزراء مصطفیٰ کمال اور ڈاکٹر خالد مقبول کی سیکیورٹی واپس لینے پر لاعلمی کا اظہار کردیا۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی وزراء کل رات سے اسلام آباد میں ہیں، دونوں وزراء کو تھریٹ اسیسمنٹ کمیٹی کی سفارش پر سیکیورٹی دی ہے۔

قبل ازیں وفاقی وزیر صحت اور رہنما ایم کیو ایم مصطفیٰ کمال نے کئی ایم کیو ایم رہنماؤں کی سیکیورٹی واپس لینے کی تصدیق کی تھی۔

آئی جی سندھ جاوید عالم نے وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال اور ڈاکٹر خالد مقبول کی سیکیورٹی واپس لینے پر لاعلمی کا اظہار کر دیا۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات سے اسلام آباد میں ہوں، واپس جاکر دیکھوں گا۔ دونوں وزراء کو تھریٹ اسیسمنٹ کمیٹی کی سفارش پر سیکیورٹی دی ہے۔

کچے کے علاقوں میں کارروائیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آئی جی سندھ جاوید عالم کا کہنا تھا کہ لوگوں سے درخواست ہے کہ کسی کے جھانسے میں نہ آئیں، لوگوں کو کچے اور کشمیر سے مرد حضرات لڑکیوں کی آواز میں کال کر کے پھنساتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مرد ڈاکوؤں کی جانب سے سستے داموں گاڑیاں اور ٹریکٹر خرید کر دینے کا جھانسہ دیا جاتا ہے، جب سے عہدہ سنبھالا تب سے ان عناصر کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان عناصر کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا ہے، مکمل صفایا کیا جائے گا، کچے کے ڈاکوؤں پر حکومتی پالیسی ہے، وہ سرنڈر کریں تو قانون کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو آہنی ہاتھوں سے ان کے ساتھ نمٹا جائے گا۔

آئی جی سندھ نے کہا کہ شکیل اور طاہر تاوان دے کر وہاں سے واپس آئے، ہم نے اس کیس میں ملوث سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائی کی ہے، کانسٹیبل کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *