کراچی پر پی ٹی آئ کی یلغار تحریر:ظفرمحمد خان

سنا ہے پی ٹی ائی کے ٹیلینٹڈ  وزیراعلی کے پی کے اپنے قائد آف اڈیالہ  کے حکم پر سندھ تشریف لا رہے ہیں اور سندھ اس لیے ارہے ہیں تاکہ اپنی تحریک اور اپنے لیڈر کی رہائی کے لیے کوئی زمینی معرکہ سر انجام دیا جائے جیسا کہ ہڑتال ،  پہیہ جام کاروبار زندگی معطل وغیرہ وغیرہ
اس سے پہلے یہ لاہور گئے تھے لیکن وہاں پر بیک فائر ہو گیا اور ان کے کے پی کے سے تعلق رکھنے والے وزیروں کی غیر اخلاقی زبان اور انتہائی درجے کی بدنظمی سے لاہور نے ان کے ساتھ نکلنے سے انکار کر دیا اور یہ لوگ لبرٹی چوک پر چار گھنٹے کھڑے رہ کر بھی س ادمی جمع نہ کر سکے
کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں کے عوام جن کو عام طور پر مہاجر بھی کہا جاتا ہے ان کے سب سے بڑے دشمن دو سیاستدان رہے ہیں یہ وہ سیاست دان ہیں جنہوں نے ببانگ دہل مہاجروں کے بارے میں کھل کے برے  القابات  ادا کیے  ہیں اس میں سے ایک تو ہیں ہماری عظیم بے نظیر بھٹو جنہوں نے مہاجروں کو گندی نالی کے چوہے باقاعدہ ایک تقریر میں قرار دیا  ، اور دوسرے ہیں اپنے عمران احمد خان نیازی جنہوں نے مہاجروں  کو کالے کلوٹے زومبیز اور نہ صرف ملک دشمن قرار دیا بلکہ ان کے لیڈر الطاف حسین کے خلاف  یہ بوریاں بھر بھر  ثبوت لندن لے کر گئے تاکہ وہاں پر الطاف حسین کو سخت سزا دلوائی جا سکے لیکن ظاہر ہے ناکامی ان کا مقدر بنی بے نظیر بھٹو تو اب اس دنیا میں نہیں ہیں لہذا عمران خان موجود ہیں اور وہ اس بات سے کبھی انکار نہیں کر سکتے کہ انہوں نے مہاجروں کے حقوق کا ہمیشہ انکار کیا ہے کرکٹ کے دور کی ہی بات لے لیں کراچی کے نیشنل  اسٹیڈیم میں شہریوں کے ساتھ تشدد ،  اس معصوم بچے کو عمران خان کی وہ لات  تو کراچی کبھی نہیں بھولا جو انہوں نے بیس  ہزار تماشائیوں کے سامنے رسید کی تھی
پھر جاوید میانداد کو دو سو اسی رنز  کے اوپر واپس بلا لینا اور اس کے بعد قاسم عمر ،  اقبال قاسم جیسے بہترین کرکٹروں کی کرکٹ میں رکاوٹ ڈالنا کرکٹ کو ڈیپارٹمنٹ سے نکال کر صوبائ حد تک پہنچانا تاکہ ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے کراچی کے مہاجر کرکٹ سے دور ہوتے چلے جائیں اور وہ ہو چکے ہیں
مہاجروں کے حوالے سے اس وقت اگر کسی سیاسی رہنما میں سب سے زیادہ نفرت پائی جاتی ہے تو عمران خان ہے جو اس وقت گو کہ اڈیالہ جیل میں ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ بھی سب سے پہلے ان 22 کراچی کے ارکان اسمبلی کو برا بھلا کہتے ہوں گے جن کو ہماری اسٹیبلشمنٹ نے باقاعدہ پروجیکٹ عمران کے تحت تحریک انصاف کے لیے یہاں سے منتخب کرایا جو کہ منتخب تو نہیں ہوئے کیونکہ الطاف حسین کے کہنے پر مہاجر عوام اج تک الیکشن کا بائیکاٹ کر رہے ہیں جو 10 فیصد ووٹ پڑتے ہیں اس میں سے کچھ فیصد ووٹ لے کے وہ جیتے تھے
لیکن اس سے پہلے پروجیکٹ عمران میں جو سب سے زیادہ قیمہ بنایا گیا وہ مہاجروں کے حق ووٹ کا بنایا گیا کیونکہ پروجیکٹ عمران کے تحت سب سے پہلے کراچی میں ایم کیو ایم کو صاف کیا گیا جس کے لیے 22 اگست 2016 کو الطاف حسین اور ان کے کارکنوں پر جبری پابندیاں لگائی گئی اور اج تک الطاف حسین کا کوئی نام نہیں لے سکتا اس لیے کہ انہیں عمران خان کا نام لینا تھا اور ان کو  پتہ تھا کہ ایم کیو ایم بائیکاٹ کرے گی اور بائیکاٹ کے بعد انہوں نے یہاں سے 20 سیٹیں رکھنی تھیں کیونکہ پنجاب پہ ان کو بھروسہ نہیں تھا کہ وہاں سے تحریک انصاف کو ووٹ ملیں گے یا نہیں مل
اور ایسا ہی ہوا دو ہزار اٹھارہ میں پنجاب سے ان کو خاطر خواہ نشستیں نہیں ملیں  تو انہوں نے یہاں کراچی کا جو خیراتی ووٹ پہ منتخب شدہ 22 ارکان اسمبلی کو اسلام اباد پہنچا کے تحریک انصاف کو ووٹ دلوایا
تو مہاجروں کے اوپر جو سب سے پہلی تلوار گری وہ عمران خان کی وجہ سے گری عمران خان کی دلی نفرت تو ہم فراموش کر ہی نہیں سکتے اپ کو حلقہ 246 کا ضمنی الیکشن جو 2015 میں ہوا یاد ہوگا کہ کس طرح اس وقت عمران اسماعیل کو اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پہ لایا گیا اور یہ ثابت کیا گیا کہ ایم کیو ایم صرف ٹھپے  لگاتی ہے لیکن اللہ کے کرم دیکھیے کہ ایم کیو ایم نے دشمنوں کو  ایسی شکست دی جو عبرت کا سامان ہے اندازہ لگائیے کہ ایم کیو ایم کی امیدوار نے تو دو لاکھ  ووٹ لیے لیکن اس کے مقابلے پہ ٹوٹل 10 ہزار ووٹ پڑے جس میں سے پانچ ہزار جماعت اسلامی اور ساڑھےچار ہزار تحریک انصاف کو ملے
اس کے باوجود تحریک انصاف کے حامی صحافیوں کے ذریعے پروپیگنڈا کرایا گیا جس میں نجم سیٹھی بھی تھے حامد میر بھی تھے ڈاکٹر معید بھی تھے وجاہت سعید بھی تھا وجاہت مسعود بھی تھے ہارون رشید بھی تھے  حبیب اکرم بھی تھا جاوید چوہدری بھی تھا محمد مالک بھی تھا یہ سب کورس م گانے گا رہے تھے کہ ایم کیو ایم کو صرف ٹھپے پر ووٹ ملتے ہیں اور یہ سب لوگ ہمارے آج بھی دشمن ہیں
 ہم مہاجروں کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ کیونکہ پورے پنجاب نے پی ٹی ائی کو سرخ جھنڈی دکھا دی ہے کہ یہاں انے کی ضرورت نہیں ہے ان کا ہر پروگرام اور جلسہ وہاں ناکام ہو رہا ہے تو اس کے بعد اب یہ چاہ رہے ہیں کہ کراچی ائیں اس سے پہلے لاہور میں جو ان کا حشر ہوا ہے وہ اپ کو یاد ہوگا کہ ان کی بدزبانیاں سامنے ائیں ان کا کریکٹر سامنے ایا ان کا کردار سامنے ایا جس کے بعد لوگوں کو اندازہ ہوا کہ پی ٹی ائی تو بہت زیادہ اس لیول سے نیچے ہے جس پر لوگ اس کو سمجھ رہے تھے
کراچی میں بہرحال مہاجروں میں دو چار فیصد ایسے لوگ ضرور موجود ہیں جن کو ہمیشہ سے تبدیلی کا تڑکہ رہا ہے  لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے اس کے باوجود وہ لوگ بھی پی ٹی ائی کا اصل ٹارگٹ ہوں گے تاکہ یہ کراچی کے ان مہاجر حلقوں میں اپنا کچھ جلوہ دکھا سکیں تو میری مہاجروں سے یہ درخواست ہے کہ جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا کہ پی ٹی ائی اور عمران خان سے بڑا مہاجروں کا دشمن کوئی نہیں ہے تو ہمیں ان سے پرے رہنا ہے ہمیں ان کی کسی ایکٹیوٹی میں حصہ نہیں لینا ہے اگر پیپلز پارٹی ان کے ساتھ کوئی سلوک کرنا چاہتی ہے تو پیپلز پارٹی جانے سندھ حکومت جانے اور پی ٹی ائی جانے ہم مہاجروں کو پورے کراچی میں اور پورے سندھ میں پی ٹی ائی کے ہر جلسے جلسی دھرنا فیشن شو سے دور رہنا ہے ہمیں اس سے تقریبا دو کلومیٹر دور رہنا ہے جہاں پر پی ٹی ائی کے چار لوگ جمع ہوں
خاص طور پر گلستان جوہر والوں سے میں مخاطب ہوں کیونکہ میں اس کو نیا لیاقت اباد کہتا ہوں تو اس کے یہ حریت پسند لوگ ہرگز ڈولمن سینٹر کے اس پاس جمع نہ ہوں جہاں پر یہ اپنے ان غیر مقامی ارکان اسمبلی سابقہ ارکان اسمبلی کو لے کے جمع ہوں گے جس میں عالمگیر جیسا گٹر کے ڈھکنوں  کا  چور بھی شامل ہے جس نے گلشن اقبال کے پہلے سے پلان  الیکشن کے ذریعے یہاں سے منتخب ہو گیا تھا  اور اس نے گلشن اقبال والوں کو صحیح کا چونا لگایا تو جہاں عالمگیر ہو وہاں اس سے قطع تعلق رکھیں اور جیسا کہ میں نے عرض کیا جہاں پر وہ موجود ہو اس سے دو کلومیٹر دور رہیں
مہاجر عوام اب بار بار ان مہاجر  دشمن بلکہ مہاجروں کے نام کے بھی  دشمن غیر مقامی  رہنماؤں سے نجات چاہتے ہیں یہ اللہ کا کرم ہے کہ اس شخص کو جسے  اتنے زور و شور سے اسٹیبلشمنٹ لے کے ائی تھی اج وہ اپنے صحیح انجام پہ پہنچ رہا ہے اور ہم کراچی کے لوگ مہاجر لوگ اب ہمارا فوج سے کوئی تنازعہ اس لیے نہیں ہے کہ ہم نے تسلیم کر لیا ہے کہ فوج ہی  اس ملکی اصل طاقت ہے الطاف بھائی کو بھی اس وقت شاید چاہیے تھا کہ وہ فوج کے ساتھ کمپرومائز کرتے اگر انہوں نے کچھ شرائط دی تھیں ان شرائط پر کمپرومائز کر کے عمل کرتے جیسا کہ نواز شریف کرتے رہے ہیں خیر یہ سب نہیں ہوا
اور ہم ایک سزا بھگت رہے ہیں لیکن اس کے باوجود پاکستانی فوج ہی پاکستان کی اساس ہے  پاکستان کے متحد ہونے کی علامت ہے اور ابھی حال ہی میں اس نے ہندوستان کو جو ناکوں چنے چبوائے ہیں اور اج عالمی سطح پر جو پاکستان کا نام ہے وہ ہماری فوج کی وجہ سے ہے تو ہم سب فوج کے ساتھ کھڑے ہیں اور جو فوج کے مخالف بولے گا جو فوج کے مخالف تحریک چلائے گا مہاجر عوام اس کے خلاف سینہ تان کر کھڑے ہیں ۔ ہمیں اپنے فیلڈ مارشل پر ناز ہے

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *