وزیراعظم کا عمان کے سلطان سے ٹیلیفونک رابطہ، بگڑتی علاقائی صورتحال پر گفتگو

وزیراعظم شہباز شریف نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ اسلام آباد سے جاری سرکاری اعلامیہ کے مطابق اس موقع پر ایران پر اسرائیل کے حملے کے تناظر میں بگڑتی علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ 

وزیراعظم نے کہا کہ کشیدگی ایسے وقت ہوئی جب امریکا ایران کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری تھیں، ان سفارتی کوششوں میں عمان نے فعال کردار ادا کیا۔

وزیراعظم نے کہا حملوں نےاہم سفارتی عمل کو پٹری سے اُتارا، وزیراعظم نے گفتگو کے دوران عمان کے ثالثی کردار کی تعریف کی اور کہا عمان کی متوازن سفارت کاری خطے میں استحکام پیدا کرنے کے لیے اہم ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حملوں نے خطے میں بات چیت کے فروغ اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچایا۔

 اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے مزید کشیدگی روکنے اور سفارتی اقدامات دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

 اعلامیہ کے مطابق کے مطابق دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے میں رہنے اور دیرپا علاقائی استحکام یقینی بنانے کے لیے سفارتی اقدامات کی حمایت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کویت کے ولی عہد شیخ صباح الخالد الصباح سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ اسلام آباد سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے کویت پر حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ 

اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے کویت کی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کیا۔

اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے بڑھی ہوئی کشیدگی میں کمی کی فوری ضرورت پر زور دیا، برادر ممالک کی خود مختاری، علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا۔

وزیراعظم نے کہا پاکستان سفارت کاری پر زور دیتا ہے، فریقین ایسے مزید اقدامات سے گریز کریں جس سے کشیدگی بڑھے اور خطے کے امن و سلامتی کو نقصان پہنچے۔

پاکستان کے سینئر سیکیورٹی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایران کے حوالے سے پاکستان متوازن پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

میڈیا سے گفتگو میں سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ ایران نے پاکستان کے ردِعمل کو سراہا ہے، جس کی تائید چین اور روس نے بھی کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ایران کے برادر عرب ممالک کو نشانہ بنانے پر اپنے تحفظات واضح بیان کیے، اسلام آباد ایک مستحکم اور پُرامن تہران کا خواہاں ہے۔

سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ ایران کے حوالے سے پاکستان متوازن پالیسی پر عمل پیرا ہے، یہ تاثر کہ پاکستان اگلا ہدف ہو سکتا ہے، بےبنیاد اور حقائق کے منافی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کو عسکری، خارجہ پالیسی اور داخلی حالات کے اعتبار سے یکساں قرار نہیں دیا جا سکتا۔

سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ پاکستان مضبوط خارجہ پالیسی پر کاربند ہے، پاکستان متعدد عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مؤقف عوام کے استحکام اور خوشحالی کے لیے تعمیری روابط پر مبنی ہے، پاکستان کے عالمی تعلقات باہمی احترام اور اعتماد کی بنیاد پر قائم ہیں۔

سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ پاکستان نے ایران میں پیش آنے والے افسوس ناک واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے، پُرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، تاہم احتجاج کی آڑ میں تشدد کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں افراتفری پھیلانے کی کسی بھی کوشش سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا، چند شرپسند عناصر کو پُرامن مظاہرین کی ساکھ خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *