قوم، کردار اور آئینۂ ابراہیم ؑ از قلم: نجیم شاہ

قومیں نعروں سے نہیں، کردار سے بنتی ہیں۔ مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے کردار کو تقریروں میں دفن کر دیا ہے اور نعروں کو مسند پر بٹھا دیا ہے۔ ہم سچ کی بات ضرور کرتے ہیں، لیکن سچ کا بوجھ اُٹھانے کی سکت نہیں رکھتے۔ ہم اُصولوں پر بحث کر سکتے ہیں، مگر اُصولوں پر کھڑے نہیں ہو سکتے۔ یہی وہ تضاد ہے جس نے ہمیں اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ جب معاشرے اپنے ضمیر کو وقتی مفاد کے عوض گروی رکھ دیں تو پھر تاریخ اُن کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتی۔ وہ اُنہیں بطور مثال نہیں، بطور وارننگ یاد رکھتی ہے۔

حضرت ابراہیم ؑ کا قصہ کسی مذہبی نصاب کا باب نہیں، ایک زندہ آئینہ ہے۔ اس آئینے میں جھانک کر دیکھیں تو چہرہ اپنا ہی دکھائی دیتا ہے۔ ایک نوجوان جس نے سوال کیا، دلیل دی اور پھر اپنے ہی ماحول کے مقدس بتوں پر ضرب لگا دی۔ یہ محض پتھر توڑنے کا عمل نہیں تھا، ذہنی غلامی کے خلاف اعلانِ جنگ تھا۔ اُس نے بتایا کہ تقدس کا معیار اکثریت نہیں، حقیقت ہے۔ مگر ہم نے اکثریت کو ہی سچ کا پیمانہ بنا لیا ہے۔ جس طرف ہجوم ہو، ہم بھی اُسی طرف کھڑے ہو جاتے ہیں۔

ہر دور میں ایک نمرود ہوتا ہے، کبھی تخت پر، کبھی ذہنوں میں۔ اُس زمانے میں آگ جلتی تھی، آج کردار جلائے جاتے ہیں۔ اُس وقت شعلے نظر آتے تھے، آج کردار کشی کے دھوئیں میں سچ گھٹتا ہے۔ فرق صرف طریقۂ واردات کا ہے، مزاج وہی ہے۔ طاقت ہمیشہ سوال سے خوفزدہ رہی ہے، کیونکہ سوال اقتدار کے بت کو ہلا دیتا ہے۔ ہم نے سوال کو گستاخی قرار دے کر خود کو مطمئن کر لیا ہے، حالانکہ اصل گستاخی تو عقل سے بے وفائی ہے۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے طاقت، دولت اور منصب کو اپنا قبلہ بنا لیا ہے۔ جس کے پاس اختیار ہے، وہی محترم ہے؛ جس کے پاس دولت ہے، وہی معتبر ہے۔ باقی سب غیر اہم۔ یہ وہ ذہنی ساخت ہے جس نے ہمیں اجتماعی طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ ہم سچ کا ساتھ دینے سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ سچ بولنے والے کے پاس کتنی طاقت ہے۔ اگر اُس کے پیچھے ہجوم نہ ہو تو ہم بھی پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ ہم نے حق کو اُصول نہیں، مفاد کے ترازو میں تولنے والی شے بنا دیا ہے۔

جب ابراہیم ؑ کو آگ میں ڈالا گیا تو وہ آگ صرف جسمانی نہ تھی، سماجی بائیکاٹ اور نفسیاتی جبر بھی تھا۔ آج ہم بھی ایسی ہی آگ میں ہیں۔ اداروں کی کمزوری، قیادت کی خودغرضی اور عوام کی مصلحت ، یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جہاں سچ بولنا خودکشی کے مترادف لگتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا خاموش رہ کر ہم زندہ رہتے ہیں؟ یا صرف سانس لیتے ہیں؟ ہم نے اپنی بزدلی کو حکمت کا نام دے دیا ہے اور اپنی مصلحت کو تدبر سمجھ لیا ہے۔

ابراہیم ؑ کا کمال یہ تھا کہ وہ تنہا ہو کر بھی منتشر نہ ہوئے۔ تنہائی اُن کے لیے کمزوری نہیں، استقامت کا امتحان تھی۔ ہم ذرا سی مخالفت پر گھبرا جاتے ہیں۔ سوشل دباؤ، سیاسی مفاد یا معاشی خوف ہمیں فوراً خاموش کر دیتا ہے۔ ہم نے ضمیر کو وقتی سکون کے بدلے بیچ دیا ہے۔ پھر حیران ہوتے ہیں کہ قومیں کیوں نہیں بنتیں۔ قومیں اسی وقت بنتی ہیں جب افراد اپنے اندر کے خوف کو شکست دیں۔ خوف کے ساتھ عزت نہیں ملتی، صرف وقتی سہولت ملتی ہے۔

ہجرت بھی ابراہیم ؑ کی سنت ہے، مگر ہجرت صرف زمین کی نہیں، ذہن کی ہوتی ہے۔ ہمیں بھی اپنے اندر کے بتوں سے ہجرت کرنی ہوگی۔ روایت پرستی، شخصیت پرستی اور مفاد پرستی،یہ سب وہ بت ہیں جنہیں ہم نے دلوں میں سجا رکھا ہے۔ ہم دُوسروں کے بتوں پر تنقید کرتے ہیں، اپنے بتوں کو مقدس قرار دیتے ہیں۔ یہی دوہرا معیار ہماری تباہی کی جڑ ہے۔ جب تک ہم اپنے اندر کے نمرود کو پہچان کر اُس سے انکار نہیں کرینگے، کوئی آگ ٹھنڈی نہیں ہوگی۔

آئینۂ ابراہیم میں ہمیں اپنا چہرہ دیکھنا ہوگا۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم ہجوم کا حصہ بن کر محفوظ رہنا چاہتے ہیں یا سچ کے ساتھ کھڑے ہو کر باوقار۔ تاریخ نے ہمیشہ اُنہی کو یاد رکھا جو آگ میں اُترے، نہ کہ اُنہیں جو کنارے کھڑے تماشا دیکھتے رہے۔ اگر ہم واقعی قوم بننا چاہتے ہیں تو کردار کو نعرے پر ترجیح دینا ہوگی۔ ورنہ ہم بت بدلتے رہیں گے، مگر غلامی کا موسم کبھی تبدیل نہیں ہوگا۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *