مودی حکومت کے ہندوستان میں برسز اقتدار انے سے پہلے ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات بہتر تھے مودی انے کے بعد بھی بہتر تھے جب نواز شریف ان کی حلف برداری کی تقریب کے لیے دہلی ائے اور مودی نواز شریف کی نواسی کی مہندی کی تقریب کے لیے بغیر ویزا لاہور ائے ۔
لیکن دوستی کے دشمنوں نے یہ معاملہ اس حد تک بگاڑ دیا کہ اج ہندوستان اور پاکستان اتنے بڑے ایک دوسرے کے دشمن ہیں کہ شاید 1965 اور 1971 کی جنگ کے موقع پر بھی نہیں تھے
خیر یہاں ہم ہندوستان اور پاکستان کا مسئلہ لے کر نہیں بیٹھے ہیں بلکہ ہندوستان میں ہونے والے مسلمانوں کے خلاف ہندوتوا کی اڑ میں تشدد اور ان کے حقوق کی پامالی ہمارا موضوع ہے
اور یہ سب کچھ وہاں زیادہ ہو رہا ہے جہاں مودی کی صوبائی حکومتیں بھی ہیں خاص طور پہ ہندی بیلٹ جس میں اتر پردیش مدھیہ پردیش راجھستان بہار اور گجرات کے صوبے شامل ہیں وہاں مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک بڑھتا جا رہا ہے
ویسے تو یو پی میں مسلمان بھی کچھ کم بدمعاش نہیں ہوتے ہیں لیکن جب اکثریت سختی پر ا جائے تو پھر اقلیت کے لیے مسائل کھڑے ہو جاتے ہیں تو ایسا ہی ہو رہا ہے ۔ یو پی میں اور اس کے اس پاس کے پہاڑی صوبوں میں ہندوتواہ کی مقامی تنظیمیں مسلمانوں پر بہانوں بہانوں سے بدمعاشی اور غنڈہ گردی کے ذریعے اپنی طاقت دکھاتے ہیں
لیکن ہندوستان ایک بڑی جمہوری ریاست ہے اور وہاں کے ہندو بھی اتنے برے نہیں ہیں جتنا مودی کی حکومت میں دکھائی دے رہا ہے ۔ شاید مودی کے خلاف اور اس کی حکومت کی مسلمان دشمن پالیسی کے خلاف ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے ہی صحافی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد جدوجہد کر رہے ہیں
اس میں کی ایک بہت بڑی مثال ابھی حال ہی میں پیش ائی جب 26 جنوری کو جب پورا ہندوستان یوم جمہوریہ منا رہا تھا اتر کھنڈ صوبے کے کوتدوار شہر میں ہندو بلوائیوں کا ایک گروہ ایک دکان پر پہنچا جس کا نام بابا گارمنٹس تھا جہاں اسکول کے بچوں کے یونیفارم فروخت کیے جاتے تھے ۔ اور یہ سٹور پچھلے 30 سال سے قائم تھا ۔ ایک مسلمان بزرگ وکیل احمد اس کے مالک تھے ۔
ہندو بلوائیوں کا گروپ سٹور پر پہنچا اور وکیل احمد سے کہا کہ تم اپنے سٹور کا نام بدل دو کیونکہ بابا سے مراد ایسا لگتا ہے جیسے ہندوؤں کے ” بابا فلانے بابا ڈھمکانے ” ، تو بقول ان ہندو بلوائیوں کے بابا کا نام جو ہے وہ ہندوؤں سے منسوب ہے تو ایک مسلمان ” بابا ” نام نہیں رکھ سکتا ۔ اب یہ بات کتنی احمقانہ ہے اس پر تو ایک الگ بحث ہو سکتی ہے کہ بابا تو ہر بزرگ ادمی کو کہتے ہیں مسلمان بھی اور ہندو بھی کیونکہ یہ ہماری ثقافتی ورثہ ہے ۔ لیکن ہندو بلوائیوں نے ان سے بدمعاشی شروع کر دی اور ان کو چیلنج دیا کہ دو دن کے اندر دکان کا نام تبدیل ہو جانا چاہیے ورنہ جان کی خیر نہیں
اور ایسے میں ایک ہندو نوجوان کی آمد ہوتی ہے جس کا نام دیپک کمار تھا وہ قریب ہی ایک جم چلاتا تھا ۔ اس نے جب ایک قریبی دکان پر ایک غنڈہ گردی کی کیفیت دیکھی تو وہ وہاں پہنچا اور ان غنڈے ہندو بلوائیوں سے لڑ پڑا اور ان سے کہا کہ تمہاری کیا مجال ہے کہ تم ایک پرانے دکان کا نام بدلوانے کی کوشش کرو اور ایک مسلمان بزرگ پر تشدد کرنے کی کوشش کرو ۔ بلوائی لڑنے مرنے کو تیار ہو گئے دیپک کے کچھ دوست بھی وہاں اگئے لیکن بلوائی محسوس کر چکے تھے کہ دیپک جم کا ٹرینر ہے اور اس سے لڑنا اس وقت بے سود ہے لہذا وہ گالیاں دیتے ہوئے اور دو دن بعد انے کا کہہ کر چلے گئے ۔
تاہم بلوائیوں کو یہ امید نہیں تھی کہ ان میں سے ہی ایک ہندو نوجوان مسلمانوں کی حفاظت کے لیے سامنے ا جائے گا تو ایک نے طنز کرتے ہوئے دیپک سے پوچھا ابے ، تیرا نام کیا ہے ۔؟ دیپک نے پورے عزم کے ساتھ کہا میرا نام “محمد دیپک ” ہے ۔
یہ سن کر بظاہر تو ہندو بلوائی دھمکیاں لگاتے ہوئے چلے گئے لیکن اس واقعے کی جو ویڈیو بنی اور جو ویڈیو وائرل ہوئی تو پورا ہندوستان اس وقت سے اس شخص کو ہیرو بنائے ہوئے ہے جس نے ایک مشکل گھڑی میں ایک مسلمان ہمسائے ، ایک ضعیف ہمسائے ، ایک 30 سال پرانی دکان کے مالک کی حمایت کی اور لڑنے مرنے کے لیے اپنی جان کی پرواہ بھی نہیں کی ۔
اور اس نے اپنا نام محمد دیپک بتا کے یہ ثابت کیا کہ ہندوستان مسلمانوں اور ہندوؤں کی مشترکہ ملکیت ہے اور ہندو اور مسلمانوں کو اسی طرح مل جل کر رہنا چاہیے ۔
ہندو بلوائی دو دن بعد دوبارہ ائے دوبارہ انہوں نے محمد دیپک کو اپنے سامنے پایا انہوں نے اس پر حملہ کیا مار پیٹ ہوئی انہوں نے اس کے جم پر حملہ کیا اس دوران پولیس ائی ۔ اور جیسا کہ فاشسٹ ریاستوں میں ہوتا ہے مقدمہ الٹا محمد دیپک کے خلاف درج کر لیا گیا محمد دیپک کو گرفتار کر لیا گیا بلوائی نعرے لگاتے ہوئے واپس چلے گئے کیونکہ ان کو حکمراں پارٹی بی جے پی کی حمایت حاصل تھی
لیکن اس دوران ہندوستان میں محمد دیپک ہیرو بن چکا تھا سارے ہندوستان سے سوشل میڈیا ڈیجیٹل میڈیا اخبارات کے نمائندے جوق در جوق کوتدوار شہر پہنچنے لگے اور محمد دیپک سے ان کے حوصلے عزم اور ان کے باہمی محبت اور رواداری کے جذبے کے بارے میں بات چیت کرنے لگے ۔ تو ظاہر ہے پولیس نے بھی ان کے ساتھ لمبا عرصہ نہیں لگایا اور جلدی ان کو ضمانت پر رہا کر دیا ۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ ہندو بلوائی ابھی تک فرار ہیں اور ابھی تک ان کے خلاف کوئی پکا مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے ۔
اس دوران محمد دیپک کو نامعلوم لوگوں کی طرف سے دھمکیاں دی جاتی رہیں جان سے مارنے کی بھی ان کی بیوی کو اغوا کرنے کی ان کی ماں جو ایک چائے کی چھوٹی سی دکان چلاتی ہے اس کے باہر بھی کھڑے ہو کے مظاہرے کیے گئے تاہم صرف محمد دیپک نہیں اس کی ماں کا جذبہ بھی خراج تحسین کے لائق ہے جس نے دبنگ انداز میں کہا کہ اس کے بیٹے نے جو کیا بالکل درست کیا ہے اور وہ اپنے بیٹے کے ساتھ کھڑی ہے اور اس کے لیے اسے اپنی جان کی قربانی دینی پڑی تو وہ بھی وہ ضرور دے گی
محمد دیپک نے اپنے بعض انٹرویو میں کہا کہ اسے ڈر ضرور لگتا ہے لیکن اپنے لیے نہیں اپنی فیملی کے لیے ڈر لگتا ہے خاص طور پر اس کی بیوی بہت ڈر جاتی ہے اور اس کی بہن بھی گھبرا جاتی ہے لیکن اس کی ماں کے حوصلے کو سلام ہے جو اس کے ساتھ کھڑی ہے
اس عرصے میں کانگرس کے صدر راہول گاندھی نے بھی اترکھنڈ پہنچ کر محمد دیپک کو اپنے پاس بلایا اس سے ملاقات کی ان کی والدہ سونیا گاندھی نے بھی ان کی حوصلہ افزائی کی اور اس طرح محمد دیپک کو یہ احساس ہوا کہ وہ کسی حد تک محفوظ ہے ۔ اور اب محمد دیپک چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ جو لوگ ہیں وہ مل کر ایک ریلی نکالیں ایک جلوس نکالیں ایک تنظیم بنائیں جس میں یہ ثابت کیا جائے کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ملک نہیں بلکہ مسلمانوں کا بھی ہے اور یہاں پر ہندو مسلمان سکھ عیسائی اور تمام قوموں کو مل جل کر رہنا چاہیے
2014 سے مسلط بی جے پی کی سرکار نے ہندوستان کا نقشہ بگاڑ کے رکھ دیا ہے ہندوستان جو رواداری محبت اور چین کا ملک کہلایا جاتا تھا اس کے نام پر بٹا لگا دیا ہے ۔ اج ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف فلمیں بن رہی ہیں اخبارات میں کالم لکھے جا رہے ہیں ان کو پاکستان دھکیلنے کی باتیں ہو رہی ہیں اور یہ سب صرف ہندی بیلٹ میں ہو رہا ہے جہاں جہاں مودی کی حکومتیں ہیں وہاں یہ کام بہت زیادہ ہو رہا ہے دوسرے صوبوں میں بی جے پی قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہے اور ہندوتوا کارڈ کھیل رہی ہے لیکن ہندوستان کے پاس محمد دیپک جیسے سپوت پیدا ہوتے رہے ہیں اج بھی ہورہے ہیں اور وہ یقینا بی جے پی کی ان سازشوں کو ناکام بنا دیں گے











Post your comments