مصطفیٰ کمال الطاف حسین کے کارکن تھے انہوں نے اپنے میئر شپ کے دوران جو بھی کچھ کام کیا ظاہر ہے الطاف حسین کی ہدایت پہ کیا ان کے کارکن جو کمال کے ساتھ چل رہے تھے وہ اپنے قائد کے فرمان کو کامیاب کروانا چاہتے تھے تو اس وجہ ہے مصطفی کمال کے دور کوئی کامیاب دور کہا جا سکتا ہے دوبارہ جس ایجنڈے پہ ائے اور جس طرح کی انہوں نے بات ٢٠١٦ میں وہ اپ سب جانتے ہیں اس کو دہرانا بیکار ہے اور اج بھی جیسا کہ وہ انہوں نے پریس کانفرنس کی کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کیا جائے میں بارہا یہ بات سمجھا چکا ہوں کہ وفاق کے ساتھ کراچی کو شامل نہیں ہونا چاہیے ہمارے بعض دوست جو جذباتی لوگ ہیں ابھی نئے بچے ہیں جو 20 کی دہائی میں پیدا ہوئے ہیں اب بڑے ہو گئے 20 22 21 25 سال کے ہو گئے ہیں ان کی سمجھ میں نہیں اتا وہ سمجھتے ہیں کہ وفاق کے ساتھ جا کے کراچی کو نہ جانے کیا کیا کچھ مل جائے گا
کراچی ، وفاق اور سندھ تحریر ، ظفر محمد خان
لیکن بعض لوگوں کو نہ پتہ ہو کہ کراچی پہلے ون یونٹ تحت ایک طرح سے سینٹر کے کے کنٹرول میں تھا جب دارالحکومت بھی تھا اس کے بعد اسلام اباد جب دارالحکومت بن گیا اس کے بعد کافی عرصے کے بعد کراچی سندھ میں باقاعدہ کے ساتھ شامل ہوا تو اس سے پہلے ون یونٹ تھا تو کراچی کے اوپر وفاق کے قانون۔ چلتے تھے تو کراچی میں کیا ہوا دیکھیں
وفاق کا 10 فیصد بھی کوٹا نہیں ہے نو فیصد کوٹا ہے
اسلام اباد اتنا بڑا ایک شہر ہے جو کہ پھیلتا جا رہا ہے اور اسلام اباد ایک وفاقی یونٹ ہے اور وہ یونٹ اور اپ کا یونٹ ایک ہو جائے گا اور اسلام اباد میں جو لوگ ہیں جن لوگوں کا غلبہ ہے وہ اپ کے ہاں پہلے بھی ائے تھے یہ لانڈھی قائد اباد بنارس کہ ہماری فقیر کالونی سہراب گوٹھ افغان بستی پٹھان کالونی نا
یہ سب کیا ہے یہ یہ سب اسی دور میں بنے نا جب کراچی کو وفاق کنٹرول کرتا تھا ایوب خان کے زمانے میں
کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن قائم ہوئی جو ایک پرائیویٹ سیمی گورنمنٹ ادارہ تھا جس کے اندر 100 فیصد کراچی کے مقامی لوگوں کو ہونا چاہیے تھا وہاں 70 فیصد لوگ
میں بار بار کہتا ہوں کراچی میں یا جو سندھ کا شہری علاقے ہے وہاں پر کوٹا سسٹم پر صحیح عمل ہونا چاہیے کوٹا سسٹم ہرگز ختم نہیں ہونا چاہیے
کراچی پہلے ون یونٹ کے تحت ایک طرح سے وفاقی شہر ہیی لوگوں کا تھ
خیر 1970 میں جب ون یونٹ توڑ دیا گیا تو اس کے بعد کراچی سندھ کا حصہ ہوا پھر اس کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت رہی اور کچھ عرصے پھر ایم کیو ایم کے ساتھ مل گئی پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت رہی لوگوں کو شکایات ضرور ہیں لیکن پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ فیڈرل کنٹرول میں جانے کے بعد کراچی کو کیا مل سکتا ہے دیکھیے کراچی کو کیا ملے گا وہ یہ ہے کہ فیڈرل کا کوٹا ٹوٹل نو پرسنٹ یا اٹھ پرسنٹ ہے اس پرسنٹیج کے اندر سے کراچی کا کوٹا کتنا اپ کو مل جائے گا اور پھر فیڈرل میں اسلام اباد ایک بڑا شہر ہے وہ پھیلتا جا رہا ہے اور اس کے اوپر اثرات خیبر پختون خواہ کے اتنے زیادہ ہیں کہ وہاں پر ، لہذا پورا پاکستان کراچی پہ یلغار کر دے گا اور کراچی کی ابادی کا تناسب انتہائی تیزی سے بگڑ جائے گا اب میں اس بات پہ بحث نہیں کرنا چاہتا کہ اس کے اثرات کیا ہوں گے ظاہر ہے اس سے کوئی مثبت اثرات تو نہیں ہوں گے مزید فسادات ہوں گے نوکریوں میں بے ایمانیاں ہوں گی حقداروں کو حق نہیں ملے گا تعلیمی اداروں میں پھر وہی جسٹس جہانگیری ویری کہانی دہرائی جائے گی جس طرح جسٹس جہاں یر نے یہاں پر بہتے ہوئے پرائیویٹ ایل ایل بی کا فائدہ اٹھا اور اس میں بھی کوئی جگاڑ کر کے جعلی ڈگری کے اوپر اتنے بڑے عہدے پہ پہنچ گئے تو یہی کچھ کراچی میں ہوگا تو فیڈرل میں جانے سے تو کراچی کو کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے ہمیں یہ سوچنا چاہیے
کہ کراچی سندھ کا حصہ ہے اور کراچی کو سندھ میں رہنا چاہیے سندھ کی دھرتی نے ہم مہاجروں کو قبول کیا ہم لوگ یہاں ائے اور ہم نے شروع کے دور میں مفادات بھی اٹھائے فائدے بھی اٹھائے اور بالاخر ایک دور ایسا ایا کہ جب سیاست کے اوپر عصبیت چھا گئی اور ہمیں درجہ بدرجہ باہر نکالا جاتا رہا ایسے میں ایم کیو ایم وجود میں ائی ایم کیو نے ا کے ہمیں جو ہم بکھرے ہوئے تھے ہمیں اکٹھا کیا اور اس کے ساتھ ساتھ کراچی کی بات کی
کراچی کے شہر سندھ کے شہری علاقوں کی بات کی تو بات یہ ہے کہ اگر ہم سندھ کے ساتھ رہیں گے اور کوٹا سسٹم کے اوپر اگر صحیح طریقے سے عمل ہوگا تو ہمارا صوبہ بھی ترقی کرے گا اور کراچی بھی تاریخ ترقی کرے گا
مسئلہ صرف یہ ہے کہ کراچی یا سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ کوٹا سسٹم پر سختی کے ساتھ ایماندارانہ طور پر عمل کیا جائے جو کہ نہیں ہو رہا ہے
اب پہلے ہم یہ سوچتے ہیں کہ فرض کر لیجیے اگر کوٹہ سسٹم نہ رہے تو کیا ہوگا دیکھیں اگر سندھ میں کوٹل سسٹم نہیں ہوگا تو اپ پہلے یہ دیکھیں کہ اپ کے شہر ا کراچی میں یا دیگر شہری علاقوں میں تعلیمی نظام کتنا مضبوط ہے اور تعلیم کتنی مہنگی بھی ہے اور ساتھ میں ہم کتنی بہترین تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہم بہترین نمبر لانے کی کوشش کرتے ہیں تب بھی ہمارے نمبر اتنے اچھے نہیں اتے جتنے انے چاہیے کیونکہ یہاں پر سخت کنٹرول بھی ہے تاکہ تعلیمی معیار بلند رہے ہم یہاں مشکل سے سرکاری یونیورسٹیوں میں میڈیکل کالج میں انجینئرنگ کالج میں داخلہ لیں گے نہیں ملے گا تو ڈونیشن دیں گے وہ بھی نہیں ملے گا تو پرائیویٹ کالجوں میں بھاری فیسیں دیں گے اور جب وہاں سے گریجوت ہو کے باہر نکلیں گے تو ؟؟
اب اپ ائیے دیکھیں سندھ میں کیا ہو رہا ہوگا
سندھ کی تعلیمی نظام کچھ اور ہے وہاں پر ظاہر ہے نہ تو تعلیمی معیار اساتذہ میں ہے نہ تعلیم معیار وہاں کے شاگردوں میں ہے اور وہاں پر اپ کو پتہ ہے جس قسم کا ماحول ہے نقل کی فراوانی ہے ظاہر ہے ہم پچھلے 40 سال سے دیکھ رہے ہیں لہذا میں کسی بہتری کی امید تو ابھی بیٹھے بیٹھے نہیں کر سکتا تو وہاں سے جو لوگ پاس ہو کے ائیں گے اور ان کے نمبر اپ سے کہیں زیادہ بھی ہوں گے اپ سے زیادہ نمبر بھی لائیں گے تو جب یہاں پر کوئی کوٹا ہوگا ہی نہیں تو اپ کا کوٹا بھی ان کے حوالے ہو جائے گا ، تو پھر ان کو اپ کراچی شہر سے بھی جو ملازمتیں یا داخلے ہوں گے وہ بھی ان کو مل جائیں گی
تو ایسے میں ہمارے معیار اور ہماری تعلیم اور ہماری قابلیت کا تحفظ کوٹا سسٹم ہی تو کرے گا نا اگر فرض کرلیں 40 فیصد کوٹا بھی سندھ کے شہری علاقوں کا ہے اور ہمارا معیاری تعلیم بلند ہے ہمارا سٹینڈرڈ بلند ہے تو ہم کم سے کم اپنے 40 پرسنٹ کوٹے کے اوپر تو میرٹ پر جائیں گے نا ہمیں اس بات کا خطرہ تو نہیں ہوگا کہ اس 40 پرسنٹ کوٹے کے اوپر اندرؤن سندھ کے ا رہے ہیں یا ان کو تو ہماری جگہ نہیں ملے گی تو یہ ایک ہمارے لیے سیفٹی وال تو ہوگا نا
اب یہ بات اپ میرے مضمون کو دوبارہ پڑھیں تب اپ کی سمجھ میں ائے گا کہ کوٹا سسٹم ہمارے لیے کیوں ضروری ہے لیکن ایمانداری کے ساتھ اور سندھ کے ساتھ ہمارا رہنا اس لیے ضروری ہے کہ اگر ہم فیڈرل سسٹم کے اندر جائیں گے تو ہمارے ساتھ سندھیوں سے نہیں ہمیں پاکستان کی دیگر قوموں سے بھی لڑنا بھڑنا پڑے گا جو ہم طویل عرصے سے کرتے چلے ائے ہیں اور اب ہم تھک گئے ہیں
ہمارے الطاف بھائی سمیت سندھ کے رہنماؤں نے کبھی بھی اس موضوع پہ سنجیدگی سے نہیں سوچا یا انہیں نہیں سوچنے دیا گیا ورنہ کوٹر سسٹم کو مضبوط بنا کر ہم اج بہت اگے نکل چکے ہوتے
تاہم سندھ کو وفاق کے حوالے کرنے کے حوالے سے مصطفی کمال جن لوگوں کے کہنے پہ پروپیگنڈا کہہ رہا ہے ان کی باتوں میں نہ آئیں۔ مصطفی کمال نے ہمیشہ مہاجر قوم کو تباہ و برباد کیا ہے جیسے سن 2016 میں اپنی پارٹی بنا کر الطاف حسین پر پابندی لگوائی، خیر اس میں عمران خان کو لانے کے پروجیکٹ کا بھی حصہ تھا لیکن اس کے باوجود ہمیں سمجھنا چاہیے کہ وفاق سے تعلق رکھنے سے کراچی اور مہاجروں کو سراسر نقصان ہے











Post your comments