بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کروں ہاری یحریر …. ظفر محمد خان

جب دسمبر 1970 کے انتخابات میں پورے پاکستان سے جماعت اسلامی کو شکست ہوئی خاص طور پر مشرقی  پاکستان سے تو اردو ڈائجسٹ کے مدیر الطاف حسین نے اردو ڈائجسٹ کے شماروں میں جماعت اسلامی کیوں ہاری کے عنوان سے دو قسطوں میں مضامین لکھے اور ان مضامین میں جو بات کام کی تھی وہ یہ کہ قومی  جماعت اسلامی کبھی بھی عوامی دھارے سے کٹ کے چلتی ہے اس کا عوام کے اندر خصوصی طبقوں سے ساتھ تعلق رہتا ہے لیکن عام عوام سے وہ بہت دور رہتی ہے یہ ایک چیز ہے جو مجھے اج تک یاد ا رہی ہے اور انہوں  نے ان کے انتخابی نشان پر بھی اعتراض کیا تھا الطاف حسین قریشی نے کہا کہ عوامی لیگ کا نشان ناؤ ایک ایسا نشان تھی جو ساری بنگلہ دیش میں پاپولر تھا جبکہ اس سے مقابلے میں جماعت اسلامی کا ترازو جس کو میزان کہتی تھی وہ لوگوں کی سمجھ میں نہیں اتا تھا
اس کے بعد 1971 میں علیحدگی کی تحریک چلی اور جماعت اسلامی نے اس وقت بظاہر پاکستانی فوج کا ساتھ دیا کیونکہ اس کو امید تھی کہ پاکستان کی فوج اس سورش  پہ قابو پا لے گی اسی لیے اس نے البدر اور الشمس جیسی جوابی تحریکیں بنائی جو مکتی بہانی کے خلاف لڑیں اور اس میں خاصہ نقصان اٹھایا بھی اور نقصان پہنچایا بھی
لیکن بنگلہ دیش کی ازادی کے بعد تمام بنگلہ دیش کے باشندوں نے یہی دیکھا کہ یہ وہ گروپ تھا جو ہماری ازادی کے خلاف تھا اور پاکستان کی ا استحصالی طبقے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کے چل رہا تھا
شیخ مجیب جب تک  حکمران رہے انہوں نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا جس سے ایسا لگے کہ وہ اپوزیشن کو یا جماعت اسلامی کو توڑ رہے ہیں یا اس پہ تشدد کر رہے ہیں لیکن ان کے قتل  کے بعد جب نئی جماعت ائی تو وہ تو کافی چیزیں فراموش کر چکے ے تھے اور جماعت اسلامی کو قومی دھارے میں لا چکے تھے اور جماعت اسلامی ان کے ساتھ مل کے ترقی کے لیے کام کرنے کا عہد کر رہی تھی
اس دوران جب جنرل ضیاء الرحمان کے قتل کے بعد ان کی بیوہ خالدہ ضیاء نے  سیاسی پارٹی بنائی اور اس پارٹی کو حکومت بھی ملی تو جماعت اسلامی ان کے ساتھ شریک کار بن گئی اور کچھ نشستیں بھی حاصل کی اور ان کے اتحاد میں شامل ہونے کی وجہ سے وزارتیں بھی ملی اور وہ جماعت اسلامی کے لیے ایک بہتر دور تھا
لیکن ایک بڑے غیر جانبدارانہ دور کے بعد شیخ مجیب کی بیٹی حسینہ واجد دوبارہ اختیار میں اگئی اور وہ تقریبا 15 سال مسلسل اقتدار میں رہی جس میں انہوں نے ظلم کے پہاڑ ضرورتوڑے  اور  ایک پارٹی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی جس میں جماعت اسلامی کے ساتھ ظلم نمایان تھا اور انہوں نے ان لوگوں کو جو 1971 میں بنگالیوں کے قتل میں ملوث تھے  انہیں انہوں نے سزائے موت پر عمل درامد کروایا جس کی وجہ سے جماعت اسلامی کے بعض معمر رہنماؤں کے ساتھ حقیقتا زیادتی ہوئی اور ان کو اس عمر کے اندر پھانسی کے تختے پہ جھولنا پڑا
تاہم یہ ظلم صرف  جماعت اسلامی پر نہیں ہو رہا تھا بلکہ تمام اپوزیشن پارٹیوں پہ جس میں خالدہ ضیا کی پارٹی بھی شامل ہے انتہائی ظلم و ستم کا شکار تھی خالہ ضیا  تقریبا تمام دور میں ہی جیل میں رہیں اور یا ہسپتال یا جیل میں رہیں ان کے بچے جلا وطن رہے
جس طرح ہر ظلم کے دور کا خاتمہ ہوتا ہے شیخ حسینہ واجد کے دور کا بھی خاتمہ ہوا اور اس میں طلبہ کے بڑے بڑے گروہ سامنے اگئے اور ویسے بھی ڈھاکہ شہر کیونکہ تو طلبہ کی سیاست کا گڑھ ہے اور ڈھاکہ یونیورسٹی سیاسی انقلابی اور تعمیری کاموں میں بہت اگے ہے یہی وجہ ہے کہ وہاں سے انقلاب شروع ہوا جماعت اسلامی  شور ہنگامے مچانے  کی ماہر ہے وہ بھی ساتھ میں شامل ہو گئی اور اس طرح شیخ حسینہ واجد کو فرار ہونا پڑا اور درمیانی دور کی جو  حکومت بنی محمد یونس کی قیادت میں اور اس نے پھر انتخابات کرائے انتخابات میں کیونکہ عوامی لیگ کو مکمل طور پر الیکشن سے باہر کر دیا گیا تھا تو لہذا ایک خلا موجود تھا اور اس بات کا اندازہ تھا کہ شاید اس خلا کو جماعت اسلامی پر کرے اس لیے جماعت اسلامی کو اس بات کی بہت امید تھی  ساتھ میں طلباء کا جو گروپ تھا جس کو  جینز زی کہا جاتا ہے وہ گروپ بھی جماعت اسلامی کے ساتھ مل گیا اور کیونکہ انقلاب طلبہ ہی لائے تھے تو ایسا لگتا تھا کہ یہ اتحاد حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گا
کیونکہ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جماعت اسلامی کا غلبہ بھاری رہے گا تو پاکستان کی جماعت اسلامی بھی فعال ہو گئی اور اس نے پاکستان میں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کی کامیابیوں کو اپنا مشن بنا لیا اور پاکستان میں جماعت اسلامی نے اپنے اپ کو اس طرح پیش کیا کہ جس طرح ڈھاکہ میں الیکشن  ہو رہے ہیں اور پوری طرح سے انتخابی مہم کے لیے یہاں سے یہاں سے صحافیوں کو اور اثر رکھنے والے لوگوں کو چارٹرڈ فلائٹس کے اندر ڈھاکہ بھیجا گیا ‘
وہ صحافی اس کے علاوہ ہیں جو ڈھاکہ کی کسی صحافی ایسوسییشن کی طرف سے بلائے گئے یا ابزرور کے طور پہ گئے یا اپنے خرچے پہ گئے
جماعت اسلامی کیونکہ الیکشن مہم چلانے کے ماہر ہے  نعرے لگانے نعرے بازی  کرنے اس کے علاوہ شور شرابہ ہلڑ بازی اس ٹائپ کی چیزیں جماعت اسلامی کا ایک اہم عنصر ہیں تو لہذا ڈھاکہ کے الیکشن میں جو بھی یہاں سے گئے وہ یہی کہنے لگے کہ جماعت اسلامی کا بہت زور ہے اور جماعت اسلامی جیت جائے گی لیکن حقیقت میں حالات اتنے اچھے نہیں تھے جماعت اسلامی کے لیے کیونکہ وہاں کے لوگ جو ہیں وہ کبھی بھی مذہبی انتہا پسند جماعتوں کو اتنا پسند نہیں کرتے کہ اسے اقتدار کے لیے اپنے اوپر حاوی کر لیں شہری علاقہ کیونکہ بنگلہ دیش میں زیادہ ہے پاکستان کے مقابلے میں وہاں ابادی کم علاقے میں زیادہ ہے اس لیے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کوئی پارٹی مقبول ہے تو پورے بنگلہ دیش میں اور انتخابات کے نتیجے میں ان کو وہیں سے کچھ نشستیں مل سکیں اور جہاں تک وہ طلبہ کی تنظیم بھی جس کو ہم فخر سے جینزی کہتے ہیں اس کو لوگوں نے ووٹ دینے کے قابل نہیں سمجھا اس نے مشکل سے چار یا پانچ سیٹیں حاصل کی
یہاں بھی جماعت اسلامی کی ناکامی کی ایک وجہ تو وہی ہے کہ جماعت اسلامی کا عوام میں اثر  نہیں ہوتا اور دوسری وجہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے انتہائ اعتماد کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا اور فخرکے ساتھ  اعلان کیا کہ ان کی جماعت میں خواتین کو کوئی بڑے عہدے نہیں دے دیے جاتے اور وہ ملک جہاں پر پچھلے 25 سال عورتوں نے حکومت کی ہو وہاں پر وہ کہہ رہے ہیں کہ عورتیں طبعی طور پر اس قابل نہیں ہوتی کہ انہیں قیادت دی جائے حتی کہ جماعت اسلامی کی قیادت بھی کبھی نہیں دی جا سکتی خواتین کو کسی نشست سے ٹکٹ بھی نہیں دیا گیا
اور جب ایسے لوگوں کو بولنے کا موقع ملتا ہے تو وہ باتیں بھی کہہ جاتے ہیں جو ان کے اندر چھپی ہوئی ہوتی ہیں مثال کے طور پہ جماعت اسلامی کا ایک اہم رہنما نے یہ بھی کہا کہ یہ جو ورکنگ وومن ہے یہ تقریبا اس بازار کی عورتوں  کی طرح ہی کام کرتی ہیں تو اس پر ایک عوامی رائے کھڑی ہو گئی اور خواتین کے اندر انتہائی بے چینی پیدا ہوئی کیونکہ بنگلہ دیش میں 51 فیصد خواتین ہیں وہاں پر چھوٹے کاموں سے لے کے بڑے کام تک  خواتین کام کرتی ہیں گھر سے باہر نکلتی ہیں خیریت سے گھر پہنچتی ہیں معاشرتی مسائل وہاں بھی ہوں گے لیکن خواتین نے وہاں پر اتنا بڑا یہ بھی تھا
ابھی جماعت اسلامی بنگلہ دیش یا جماعت اسلامی پاکستان کے لوگ ایسے کسی بات سے انکار کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ الجزیرہ ٹی وی پر یہ انٹرویو موجود ہے
دوسرا جو اہم مسئلہ ہے جس کی وجہ سے جماعت اسلامی نہ  تو بنگلہ دیش نہ پاکستان یا کہیں بھی اقتدار حاصل نہیں کر سکتی کیونکہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ایک مذہبی جماعت ہے اس پر ایک مذہبی جماعت ہونے کا ٹھپا لگا ہوا ہے اور وہ بعض اوقات اسے انکار بھی نہیں کرتی اور اس کا عمل بھی یہ بات دکھاتا ہے کہ وہ ایک مذہبی جماعت ہے اب جب مذہبی جماعت ہوتی ہے تو اس کو کسی نہ کسی مسلک سے تعلق نہیں کا راگ الاپنا پڑتا ہے
اول تو یہ عید میلاد النبی ،  آعاشورہ  محرم  ، شب برات ، شن معراج  پر یقین  نہیں رکھتے لیکن پاکستان کی سیاست اور پاکستان کی اکثریت کو دیکھتے ہوئے اسی طرح بنگلہ دیش میں بھی وہاں پر تو سنی سکول اف تھاٹ سب سے زیادہ ہے تو یہ عید میاد النبی کو سیرت النبی کا نام دیتے ہیں اور اس پر جلسے جلوس کہیں نہ کہیں کونے کھانچے  میں کر لیتے ہیں لیکن عید میلاد نبی کے اصل دن یہ لوگ گھروں میں رہتے ہیں
اس طرح جماعت اسلامی کی جو مساجد ہیں جو خاص طور پہ ان کے اندر نہ تو شب برات پہ کوئی اجتماع ہوتا ہے نہ شب معراج پر کوئی اجتماع ہوتا ہے اور نہ ہی اولیاء کرام بزرگان دین کے موقع پر   کوئی خاص سرگرمی ہوتی ہے
ہاں اس کے برعکس  طالبان کی بے جا حمایت کی جاتی ہے تبلیغی جماعت والے ان کی مساجد میں رہتے ہیں اور ساتھ ساتھ یہ ہر اس عمل کی حمایت کرتے ہیں جو تبلیغی یا دیوبندی سکول سے اتا ہو
جماعت اسلامی بنگلہ دیش جو وہاں پر حکومت بنانے کے خواب دیکھ رہی تھی 60 65 سیٹوں تک محدود ہو گئی ہے اور وہ بھی اس لیے کہ وہاں پر عوامی لیگ موجود نہیں تھی اور عوامی لیگ کہ نہ ہونے سے ووٹوں کا کافی جو خلا  تھا اس خلا کی وجہ سے جماعت اسلامی کو کچھ سیٹیں زیادہ مل گئی اگر عوامی لیگ بھی الیکشن میں ہوتی چاہے وہ ہار بھی جاتی لیکن اس کا اثر جماعت اسلامی پر ضرور پڑتا ہے اور جماعت اسلامی 12 سے 15 تقسیمیٹوں تک محدود رہتی
جماعت اسلامی پاکستان پر جب اسلامی بنگلہ دیشی شکست کا بہت اثر پڑا اور جتنے دعوے یہاں کر رہے تھے اور اس کی وجہ سے جتنا یہ یہاں پر ڈھول بجانا چاہتے تھے جب اس میں ناکامی ہوئی تو انہوں نے کراچی میں کراچی کے حقوق کے نام سے ایک مظاہرے کا اہتمام کیا اور اس مظاہرے میں اپنی وہ جوش جذبہ جو انہیں بنگلہ دیش میں جیت کے بعد یہاں مظاہرے میں کرنا تھا اور بلاوجہ سندھ اسمبلی کی طرف مارچ کیا سندھ اسمبلی میں گھسنے کی کوشش کی وہاں پر پولیس نے ان پہ لاٹھی چارج کیا گیس پھینکی اور اس طرح ان کو ایک شو کرنے کا موقع ملا جو ان کے ارکان بہت دنوں سے دل میں دبائے بیٹھے تھے ہم ان کو اس شو پر مبارکباد دیتے ہیں جس کا حقیقت میں کراچی کے عوام سے کوئی ایسا گہرا تعلق نہیں تھا

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *