رجیم چینج کی کوشش کی تو اسرائیلی جوہری تنصیبات ہمارا ہدف ہوں گی: ایرانی اعلیٰ فوجی اہلکار

ایران کے اعلیٰ فوجی عہدے دار نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل اور امریکا نے ایران میں رجیم چینج کی کوشش کی تو اسرائیل کے جوہری مرکز دیمونا کو نشانہ بنایا جائے گا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اعلیٰ ایرانی فوجی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی بیرونی مداخلت یا حکومت گرانے کی سازش کا فیصلہ کن جواب دے گا۔

عہدیدار نے خاص طور پر اسرائیل کے دیمونا جوہری ری ایکٹر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو ایران اسرائیلی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے بیان میں کہا کہ ایران اپنی خود مختاری اور سیاسی نظام کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔

ایرانی اہلکار نے خبردار کیا کہ ایران کے پاس دیمونا نیوکلیئر ری ایکٹر جیسے اہداف کو نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت موجود ہے اور اگر ملک میں رجیم چینج یا جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا دائرہ کار وسیع ہو سکتا ہے۔

ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات میں موجود تقریباً 20 امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنا کر انہیں نقصان پہنچایا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ حملے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے فضائی حملوں کے جواب میں کیے گئے۔ ان کارروائیوں میں میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا، جن کا ہدف خطے میں امریکی فوجی تنصیبات اور مواصلاتی نظام تھے۔

اس سے قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کا کہنا تھا کہ خلیج فارس کے شمالی حصے میں آج صبح ایک امریکی آئل ٹینکر کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا ہے، حملے کے بعد ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی۔

بیان میں کہا گیا کہ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا تھا کہ جنگی حالات میں عالمی قوانین کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے حقوق اسلامی جمہوریہ ایران کے کنٹرول میں ہوں گے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے مزید کہا کہ اس حوالے سے جاری ضوابط پر سب کو عمل کرنا ہوگا، امریکا، اسرائیل، یورپی ممالک اور ان کے حامیوں سے تعلق رکھنے والے فوجی اور تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

پاسداران انقلاب نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز میں امریکا، اسرائیل یا یورپی ممالک کا کوئی جہاز دیکھا گیا تو اسے یقینی طور پر نشانہ بنایا جائے گا۔

مشرق وسطیٰ سے امریکی شہریوں کا انخلا امریکا کے لیے نیا چیلنج بن گیا، خطے میں 2 لاکھ سے زائد امریکی موجود ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق 18 ہزار شہری مشرق وسطیٰ سے امریکا واپس پہنچ چکے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق عرب امارات میں 50 ہزار، قطر میں 15 ہزار، کویت میں 30 ہزار اور سعودی عرب میں 80 ہزار امریکی شہری مقیم ہیں۔

امریکا نے ان ملکوں میں مقیم اپنے شہریوں کو نکلنے کی ہدایت کی ہے لیکن فلائٹس دستیاب نہیں۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات میں پھنسے 30 ہزار سے زائد افراد کے انخلا کی تیاری کرلی گئی۔

اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ دبئی، ابوظبی، شارجہ، فجیرہ اور راس الخیمہ ایئر پورٹس سے روانگی ہوگی، 30 ہزار مسافروں کے سفری کاغذات اور کلیئرنس مختلف ایئر پورٹس پر مکمل، عرب امارات میں محدود پروازیں بحال  ہوگئیں۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *