ایران نے اپنے خلاف امریکا کی فوجی کارروائی کی صورت میں امریکا، اسرائیل اور ان کے حمایتیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی۔
ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کے مشیر علی شامخانی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کی طرف سے فوجی کارروائی ہوئی تو امریکا، اسرائیل اور ان کے حمایتیوں کو نشانہ بنائیں گے۔
واضح رہے کہ علی شامخانی کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو 2025 سے بھی زیادہ خطرناک حملہ کرنے کی دھمکی دی۔
اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امید ہے ایران جلد از جلد مذاکرات کی میز پر آئے گا، امید ہے ایران منصفانہ اور مساوی معاہدے پر بات چیت کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور معاملہ واقعی نہایت اہم ہے، میں نے ایران سے پہلے بھی کہا تھا معاہدہ کرلو، ایران نے ایسا نہیں کیا اور پھر آپریشن مڈنائٹ ہیمر ہوا، ایران کو بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔
امریکا کے صدر نے آئندہ حملے کے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اگلا حملہ کہیں زیادہ بدتر ہوگا، ایسا دوبارہ نہ ہونے دیں۔
اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں ساتھ ہی دفاع کے لیے بھی تیار ہیں۔
سوشل میڈیا پر بیان میں ایرانی مشن کا کہنا تھا کہ ایران باہمی احترام اور مفادات کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن اگر ایران پر دباؤ ڈالا گیا تو ایران اپنا دفاع کرے گا اور ایسا ردعمل دے گا جو پہلے کبھی نہیں دیا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو معاہدہ نہ کرنے پر بدترین حملے کا سامنا کرنے کی دھمکی دی ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا ہے کہ ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اگلا حملہ کہیں زیادہ بدتر ہوگا، وینزویلا بھیجے گئے بیڑے سے بھی بڑا طیارہ بردار بحری بیڑا ابراہم لنکن تیزی سے بھرپور طاقت کے ساتھ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے۔
ان کاکہنا تھا کہ وینزویلا کی طرح یہ بحری بیڑا بھی ضرورت پڑنے پر طاقت اور تشدد سے اپنے مشن کو فوری مکمل کرنے کا اہل ہے، امید ہے ایران جلد از جلد مذاکرات کی میز پر آ کر منصفانہ اور مساوی معاہدے پر بات چیت کرے گا، کوئی جوہری ہتھیار نہیں، ایسا معاہدہ جو تمام فریقین کے لیے بہتر ہو، وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور معاملہ نہایت اہم ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ میں نے ایران سے پہلے بھی کہا تھا معاہدہ کر لو لیکن ایران نے ایسا نہیں کیا اور پھر آپریشن مڈنائٹ ہیمر ہوا، ایران کو بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑا، اگلا حملہ اس سے کہیں زیادہ شدید ہوگا، ایسا دوبارہ ہونے نہ دیں۔
ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوجی کارروائی کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں ایرانی مسلح افواج فوری اور طاقتور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایرانی افواج زمین، فضا اور سمندر میں کسی بھی جارحیت کا فوری اور زوردار جواب دینے کے لیے انگلیاں ٹریگر پر رکھے ہوئے ہیں۔
اُنہوں نے لکھا ہے کہ گزشتہ سال اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والے حملوں سے ایران نے اہم اسباق سیکھے ہیں اور اب ایران اس سے زیادہ تیز اور مؤثر ردِعمل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے خطے میں ایک ’بڑی بحری آرماڈا‘ بھیج دی ہے اور اگر ایران نے جوہری معاہدے پر بات چیت نہ کی تو مزید سخت حملہ کیا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ ’منصفانہ اور مساوی معاہدے‘ کے لیے مذاکرات کی میز پر آئے اور جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہو۔
اس ہر ایران نے واضح کیا ہے کہ دھمکیوں کے سائے میں کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے حالیہ دنوں میں کسی قسم کے مذاکرات کی درخواست نہیں کی گئی اور ایران کا مؤقف واضح ہے کہ دباؤ اور دھمکیوں کے ساتھ بات چیت ممکن نہیں۔
دوسری جانب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود کسی بھی امریکی حملے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، جبکہ مصر اور ترکی سمیت کئی ممالک نے کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے تیز کر دیے ہیں۔













Post your comments