سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی موت نے ایران کو ایک ایسے خلا میں دھکیل دیا ہے جس کی گہرائی ابھی پوری طرح ناپی نہیں جا سکی۔ چار دہائیوں تک ایک ہی شخصیت ریاستی طاقت کی علامت رہی۔ ایسے نظام میں جب مرکز اچانک غائب ہو جائے تو صرف قیادت نہیں بلکہ پورا سیاسی توازن بگڑ جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب تاریخ نئے کرداروں کو اسٹیج پر دھکیل دیتی ہے۔
اسی ہنگامے میں ایک پرانا نام پھر سنائی دینے لگا ہے: ’’رضا پہلوی‘‘۔ یہ وہی خاندان ہے جسے انقلاب نے ماضی کا قصہ بنا دیا تھا۔ مگر تاریخ کی ایک ضد یہ بھی ہے کہ وہ ماضی کو مکمل طور پر مرنے نہیں دیتی۔ جب حال کمزور ہو جائے تو ماضی کے سائے پھر لمبے ہونے لگتے ہیں۔
یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ایرانی انقلاب 1979ء صرف ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھا بلکہ ایک نظریاتی بغاوت تھی۔ اس انقلاب نے صرف بادشاہت کو ختم نہیں کیا بلکہ ایک پورا بیانیہ بدل دیا۔ اِسی لیے آج اگر شاہی خاندان کا کوئی وارث دوبارہ منظر پر آئے تو سوال صرف سیاست کا نہیں بلکہ قومی یادداشت کا بھی بن جاتا ہے۔
رضا پہلوی خود کو بادشاہ نہیں بلکہ ایک عبوری آواز کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ ایران کا مستقبل عوامی ریفرنڈم سے طے ہونا چاہیے۔ بات سننے میں اچھی لگتی ہے مگر سیاست میں نعرے اکثر حقیقت سے زیادہ دلکش ہوتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ جو شخص برسوں جلاوطنی میں رہا ہو کیا وہ اچانک ایک قوم کی اُمید بن سکتا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ حملوں نے اِس بحث کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جب کسی ملک پر بیرونی دباؤ بڑھتا ہے تو اندرونی سیاست بھی بدل جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی رہنما انہی حالات کو تبدیلی کا موقع قرار دے تو شکوک جنم لینا فطری ہیں۔ قومیں اکثر بیرونی دباؤ کے مقابلے میں اپنے نظام سے زیادہ شدت سے چمٹ جاتی ہیں۔
ایران کی نوجوان نسل اِس پوری کہانی کا سب سے اہم کردار ہے۔ یہ نسل نہ شاہی دور کی رومانویت میں گرفتار ہے اور نہ انقلاب کے نعروں سے متاثر۔ اس کے لیے زندگی کے سادہ سوال زیادہ اہم ہیں: روزگار، آزادیٔ اظہار اور دُنیا سے رابطہ۔ اگر کوئی قیادت ان سوالوں کا جواب نہ دے سکے تو اُس کا نام کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اثر کم رہ جاتا ہے۔
رضا پہلوی کی آواز مغربی دارالحکومتوں میں خاصی سنائی دیتی ہے۔ مگر سیاست کا اُصول بڑا سادہ ہے: جو رہنما اپنے لوگوں کے دِل میں جگہ نہ بنا سکے وہ بیرونی تعریفوں کے سہارے زیادہ دُور نہیں جاتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ بیرونی حمایت کبھی کبھی طاقت کے بجائے کمزوری کا تاثر پیدا کرتی ہے۔
آخرکار فیصلہ نہ واشنگٹن کرے گا نہ تل ابیب۔ فیصلہ وہی کرے گا جو ہر بڑی تبدیلی میں کرتا اذیا ہے: ’’ایرانی عوام‘‘۔ وہ چاہیں تو رضا پہلوی کو ایک نئے باب کی تمہید بنا دیں اور چاہیں تو اُنہیں تاریخ کے حاشیے پر چھوڑ دیں۔ ایران ایک اور موڑ پر کھڑا ہے، اور موڑ ہمیشہ راستہ بھی دکھاتے ہیں اور سراب بھی۔ وقت بتائے گا کہ یہاں اُمید جنم لیتی ہے یا ایک اور کہانی ختم ہو جاتی ہے۔











Post your comments