مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے صرف 4 دن بعد ہی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ امریکا اور اسرائیل کے مہنگے ترین دفاعی میزائل سسٹمز، خاص طور پر پیٹریاٹ اور ٹوماہاک میزائل تیزی سے ختم ہو سکتے ہیں۔
28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ پیشگی فضائی کارروائی شروع کی جس میں ایرانی فوجی تنصیبات اور اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔
اس کارروائی میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای سمیت درجنوں اعلیٰ فوجی افسران شہید ہوئے، ابتدائی اندازوں کے مطابق اس حملے کا مقصد ایران کی قیادت کو ختم کر کے جَلد حکومت کی تبدیلی لانا تھا تاہم جنگ کے ابتدائی 4 دن میں ایران نے سخت اور منظم جوابی حملے کر کے صورتِ حال کو بدل دیا ہے۔
ایسی صورتِ حال میں سابق بھارتی کرنل راجیو اگروال نے ایران امریکا جنگ پر اپنے تجزیے میں لکھا ہے کہ ایران نے بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائل اور ڈرون استعمال کرتے ہوئے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا ہے جس سے دفاعی نظام پر شدید دباؤ پڑ گیا ہے۔
بھارتی میڈیا ’این ڈی ٹی وی‘ پر شائع ہونے والے اپنے تجزیے میں انہوں نے کہا ہے کہ اس جنگ میں ہتھیاروں کی لاگت بھی ایک اہم عنصر بن چکی ہے، امریکی پیٹریاٹ اور ٹوماہاک میزائل کی قیمت تقریباً 10 سے 30 لاکھ ڈالرز فی میزائل ہے جبکہ ایرانی بیلسٹک میزائل کی قیمت تقریباً 8 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالرز بتائی جاتی ہے۔
سابق بھارتی کرنل راجیو اگروال کے مطابق اسی طرح امریکی MQ-9 ریپر ڈرون کی قیمت تقریباً 3 کروڑ ڈالرز ہے جبکہ ایران کا شاہد ڈرون صرف 30 سے 50 ہزار ڈالرز میں تیار ہو جاتا ہے، اس فرق کی وجہ سے امریکا اور اسرائیل کو مالی اور عسکری دونوں محاذوں پر مشکلات کا سامنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنگ کے پہلے 24 گھنٹوں میں امریکی فوج کو تقریباً 779 ملین ڈالرز کا خرچ برداشت کرنا پڑا جبکہ 3 دن میں یہ لاگت 1.24 ارب ڈالرز تک پہنچ چکی تھی۔
سابق بھارتی کرنل راجیو اگروال کا اپنے تجزیے میں کہنا ہے کہ جنگی علاقے میں امریکا اور اسرائیل کے پاس پیٹریاٹ میزائلوں کی تعداد تقریباً 600 سے 800 کے درمیان ہے، ایک آنے والے میزائل کو روکنے کے لیے 4 سے 6 انٹرسیپٹر میزائل داغے جاتے ہیں، اب تک تقریباً 150 سے 200 میزائل استعمال کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتِ حال برقرار رہی تو اگلے 4 سے 7 دن میں دفاعی میزائلوں کی کمی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکا جاپان اور جنوبی کوریا سے اضافی پیٹریاٹ میزائل منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے۔
ایران کے پاس 20 ہزار سے 50 ہزار تک مختلف اقسام کے میزائل
’این ڈی ٹی وی‘ کی خصوصی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے پاس 20 ہزار سے 50 ہزار تک مختلف اقسام کے میزائل موجود ہیں جبکہ ہزاروں ڈرون بھی اس کے ذخیرے میں شامل ہیں، ان میں سے کئی ہتھیار پہاڑوں کے اندر زیرِ زمین بنائے گئے محفوظ ٹھکانوں میں رکھے گئے ہیں جہاں تک فضائی حملوں کی رسائی مشکل ہے۔
اسی حکمتِ عملی کے تحت ایران مسلسل میزائل اور ڈرون حملے کر کے امریکی اور اسرائیلی دفاعی نظام کو مصروف رکھنا چاہتا ہے۔
سابق بھارتی کرنل راجیو اگروال کے مطابق یہ جنگ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو دونوں کے لیے سیاسی طور پر بھی اہم سمجھی جا رہی ہے، دونوں رہنما اس سال اہم انتخابات اور سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے کسی واضح کامیابی کے بغیر جنگ کا طویل ہونا ان کی سیاسی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔
جنگ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن اس سے متعلق متعدد جنگی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی حکمتِ عملی نے امریکا اور اسرائیل کے لیے اس تنازع کو توقع سے زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔















Post your comments