ایران، امریکا جنگ کے خدشات مزید بڑھ گئے۔ لڑاکا طیاروں سے بھرا دوسرا امریکی بحری بیڑا جیرالڈ فورڈ بحیرہ روم میں داخل ہوگیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا براہِ راست ایرانی رہنماؤں کو نشانہ بنا کر ایرانی حکومت کا تختہ اُلٹنے کی کوشش کرے گا۔
امریکا نے اردن کے ایئربیس پر بھی کم از کم 60 لڑاکا طیارے کھڑے کردیے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ عالمی طاقتیں ایران کو جھکنے پر مجبور کرنے کے لیے صف بندی کر رہی ہیں۔ ایران اس دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ نے ایران امریکا کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دی جائے۔
ایران نے گذشتہ روز اقوامِ متحدہ کو خط لکھا تھا کہ ایران کسی بھی جارحیت کی صورت میں دفاع کا حق استعمال کرے گا اور اس کے نتائج کی ذمے داری امریکا پر ہوگی۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو معاہدہ کرنے کی ڈیڈ لائن دے دی اور اسی تناظر میں یورپ میں موجود امریکی طیاروں نے پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔
خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی ڈیڈ لائن کے پیش نظر پرتگال میں امریکی فضائی اڈوں پر طیاروں نے پوزیشنیں سنبھال لیں۔
خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ٹرمپ نے ایران کو معاہدہ کرنے کےلیے 10 سے 15 روز کا وقت دیا ہے۔
دوسری جانب ایک روز قبل برطانوی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی رہنماؤں کو براہِ راست نشانہ بنائیں گے۔
ایران پر ’محدود‘ حملوں کی خبروں پر برطانوی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرے گی۔














Post your comments