حماس کی غزہ امن فورس بھیجنے والے ممالک کیلئے شرائط

غزہ بورڈ آف پیس کے جمعرات کو ہونے والے اجلاس سے پہلے حماس کا اہم اقدام سامنے آیا ہے۔

بورڈ آف پیس کے اجلاس میں فلسطین میں عبوری حکومت، حماس اور مستقل جنگ بندی پر بات ہو گی جبکہ اجلاس کے ایجنڈے میں عالمی امن فورس سے متعلق امور بھی شامل ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق حماس نے غزہ امن فورس بھیجنے والے ممالک کے لیے شرائط واضح کر دی ہیں۔

حماس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ امن فورس سرحد پر رہے اور فلسطین کے سول، سیاسی اور سیکیورٹی امور میں مداخلت نہ کرے، غزہ میں عالمی فورس پر اعتراض نہیں اگر وہ فریقوں کے درمیان حفاظتی تہہ کے طور پر ہو۔

غزہ بورڈ آف پیس کی پہلی میٹنگ 19 فروری کو منعقد کرنے کی تیاری

حماس کے ترجمان بسیم نعیم نے کہا ہے کہ فلسطین کے داخلی امور میں مداخلت ناقابلِ قبول ہے، عالمی اہلکاروں نے مداخلت کی تو فلسطینی انہیں قابضین کا متبادل تصور کریں گے۔

حماس کا مؤقف ہے کہ عالمی فورس کا کردار فریقوں کو الگ رکھنا اور جنگ بندی قائم رکھنا ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ انڈونیشیا نے غزہ امن فورس کے لیے 8 ہزار اہلکار بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *