امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر جیفری ساکس (Jeffrey Sachs) نے ایران میں ہوئے حالیہ فسادات کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو ٹھہرا دیا۔
اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ایران میں ایک غیر معمولی، پُرتشدد اور سفاک کھیل جاری ہے، خریدا ہوا اور جانبدار مین اسٹریم امریکی میڈیا بتاتا ہے کہ ایرانی حکومت نے معیشت پر کنٹرول کھو دیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی میڈیا میں یہ نہیں بتایا جاتا کہ دراصل ایرانی معیشت کو تباہ کرنے والا ہی امریکا ہے، ہمیشہ کی طرح عوام سے جھوٹ بولا جاتا ہے کہ ایرانی حکومت اپنے عوام سے ظلم کر رہی ہے۔
معروف امریکی پروفیسر نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل کا اصل مقصد یہ ہے کہ ایرانی عوام کی زندگی کو جتنا ممکن ہو سکے بدتر بنائیں، ہدف ایران میں رجیم چینج کرنا ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی امور کے ماہر سینیٹر مشاہد حسین سید نے جیفری ساکس کے بیان کو سراہتے ہوئے شیئر کیا اور لکھا کہ ایران کے بارے میں مغربی میڈیا اتنا کمزور، جعلی اور خریدا ہوا ہے کہ وہ سچ بتانے سے انکار کر رہا ہے۔)ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ حالیہ مظاہروں میں ہونے والی کئی ہزار ہلاکتوں اور مالی نقصان کے اصل ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر نےفتنہ پرستوں کی کمر توڑنے کا حکم دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کو مجرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان مظاہروں کے پیچھے براہ راست امریکی صدر ملوث ہیں۔آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ ہلاکتوں، مالی نقصان اور عوام کے خلاف پروپیگنڈے کے اصل ذمہ دار خود امریکی صدر ہیں۔ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ حالیہ ایران مخالف بغاوت اس لحاظ سے مختلف تھی کہ اس میں امریکی صدر ذاتی طور پر ملوث تھا۔











Post your comments