Mohammad Naeem Talat
وینی پیگ ،مینی ٹوبہ ، کینیڈا میں مقامی پولیس کے ایک اہلکار نے دوران سروس منشیات فروشی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ہونے کا عدالت میں اعتراف کیا ہے۔ الیسٹن بو اسٹاک اہلکار 22 برس تک پولیس میں خدمات انجام دیتا رہا ۔ اس دوران اس نے منشیات کی خرید و فروخت سمیت لگائے گئے متعدد الزامات تسلیم کر لیے ہیں۔
عدالت میں زیر سماعت مقدمہ کے مطابق الیسٹن بو اسٹاک نے 2016 سے نومبر 2024 کے دوران منشیات جن میں کوکین، ایم ڈی ایم اے سائیلو سائبن (میجک مشرومز) اور بعض نسخہ جاتی ادویات بھی شامل ہیں فروخت کیں۔وہ دورانِ ڈیوٹی سرکاری گاڑی میں بھی منشیات فراہم اور فروخت کرتا رہا۔
تحقیقات اور مقدمات کی تفصیلات میں بتایا گیا کہ ملزم نے منشیات دوستوں اور بعض گروہوں کو دیں جن میں پولیس سروس کے افراد بھی شامل تھے۔ ملزم نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کی سرگرمیاں زیادہ تر سماجی نوعیت کی تھیں۔ تاہم عدالت نے اسے قانون کی سنگین خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا ہے۔
ملزم بو اسٹاک پر اختیار کے ناجائز استعمال ‘ عدالتی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے ‘ پولیس معلومات کے غلط استعمال، چوری سمیت ایک اور حساس مقدمے میں متوفیہ خاتون کی نامناسب تصویر بنانے اور پھیلانے جیسے الزامات کا بھی اعتراف کیا ہے،۔یہ کیس مختلف تفتیشی اداروں کی مشترکہ تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آیا جسے “پروجیکٹ فائبر”
کا نام دیا گیا تھا۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ملزم کو گرفتار کیا گیا اور سماعت کے عدالت میں فردِ جرم عائد کی گئی۔
عدالت کی جانب سے الیسٹن بو اسٹاک کو مجرم قرار دیے جانے کے بعد سزا سنانے کی کارروائی 13جنوری 2026 کو متوقع ہے۔ وینی پیگ پولیس کے حکام نے اس کیس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ پولیس سروس میں ایسے افراد کے لیے کوئی جگہ نہیں جو اختیارات کا غلط استعمال اور عوامی اعتماد کے خلاف کام کریں ۔
الیگل کام تو دنیا کے ہر خطے میں مختلف لوگ مختلف حالات کے تحت کرتے رہتے ہیں۔جب تک یہ دنیا ہے اسوقت تک جرائم ہوتے رہیں گے۔
جب کوئی عام انسان جُرم کرے تو اسکو نارمل لیا جاتا ہے، جبکہ کوئی ایسا بندہ جُرم کرے جیسا کہ اس پولیس والے نے کیا تو پھر ایسی صُورت میں عوام کا اعتبار اداروں سے اُٹھ جاتا ہے، اُٹھ نہ بھی جائے تو اعتبار مشکوک ضرور ہو جاتا ہے۔
ان مُلکوں میں جب ہمارے جیسا کسی تھرڈ ورلڈ کنٹری سے تعلق رکھنے والا ایسے افراد کو جرائم کرتے دیکھتا ہے تو زیادہ دلبرداشتہ اور مایوس ہوتا ہے۔ کیونکہ ہمارے مُلکوں میں جیسا ہمارے اداروں میں ہوتا ہے تو وہاں تو کسی ادارے پہ اعتبار نام کی کوئی چیز ہمارے ہاں ہے ہی نہیں۔
اب آپ یہ سمجھ لیں کہ اب اس کا کیرئر ختم ہی سمجھیں۔ جبکہ ہمارے ہاں اسطرح کے کیسز میں فوری طور پہ ایک انکوائری کمشن بٹھایا جاتا ہے ، تو اسکا مطلب دراصل یہ ہوتا ہے کہ معاملہ اب ختم ہی سمجھیں۔ اور پھر عموما فائل داخلِ دفتر کر دی جاتی ہے۔ لیکن ان ملکوں میں کم از کم ایسا نہیں ہوتا۔
اسکو بہرحال اسکے کئے کی سزا ضرور ملے گی اور ساتھ ہی ساتھ اسکا کیرئر بھی زیرو ہو جائے گا۔











Post your comments