اسرائیل کے الیکشن میں عرب اتحاد کی جماعتیں بادشاہ گر کا کرادار اختیا ر کرگئی ہیں،تاہم اس عبر اتحاد کے معاملہ یہ ہے کہ نتن یاہو کا اتحاد اور گادی آئیزن کوٹ کا اتحاد بھی روایتی طور پر ان جماعتوں کے ساتھ حکومت میں شامل نہیں ہوتا یا دوسرے الفاظ میں ان کو پسند نہیں کرتا،عرب اسرائیلیوں کی اکثریت اُن فلسطینیوں کی نسل سے تعلق رکھتی ہے جو سنہ 1948 کی جنگ کے دوران (جب اسرائیل ریاست کے طور پر وجود میں آیا) اپنے علاقوں میں رہ گئے، جبکہ لاکھوں فلسطینی بے گھر ہوئے اور نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔عرب جماعتیں سنہ 2021 میں پہلی بار اسرائیلی حکومتی اتحاد کا حصہ بن چکی ہیں، جس کی وجہ سے اس بار بھی ان کے کردار پر خاص نظر رکھی جا رہی ہے۔اسرائیل کی موجودہ حکومت اکثر انھیں ’ریاست کی یہودی شناخت کے لیے خطرہ‘ قرار دیتی ہے۔حال ہی میں وزیرِاعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے حریف عرب جماعتوں کے ساتھ مل کر ’خطرناک حکومت‘ بنانا چاہتے ہیں۔جزوی نتائج کے مطابق عرب قیادت والی جماعتیں تقریباً 19 نشستیں حاصل کرتی دکھائی دے رہی ہیں، جو انھیں پارلیمان میں طاقت کے توازن کا اہم عنصر بنا سکتی ہیں۔اسرائیل کے منقسم سیاسی نظام سے اشارے مل رہے ہیں کہ نیتن یاہو کے اہم ترین حریف اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کے لیے اسرائیل کی عرب اقلیت کی قیادت والی جماعتوں کے بغیر پارلیمانی اکثریت حاصل کرنا مشکل ہو گا۔جزوی نتائج کے مطابق ان عرب جماعتوں نے اپنی گذشتہ ریکارڈ تعداد کے برابر یا اس سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں،انتخابی مہم کے دوران زیادہ تر یہودی اپوزیشن جماعتوں نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ عرب اکثریتی جماعتوں کے ساتھ کام (اتحاد) نہیں کریں گی اور اس کی وجہ مشترکہ اقدار کا فقدان بتایا گیا تھا۔ تاہم اگر دیگر جماعتیں ان کے ساتھ اتحاد بنانے پر آمادہ ہوئیں تو عرب قیادت والی جماعتیں حکومت سازی میں ’کنگ میکر‘ یا فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔اس انتخابات میں عرب اسرائیلی، جو اکثر خود کو اسرائیل کے فلسطینی شہری قرار دیتے ہیں اور ملک کی آبادی کا پانچواں حصہ ہیں، غیر معمولی تعداد میں ووٹ ڈالتے دکھائی دیے۔عرب ووٹ میں اضافہ ان جماعتوں کی نشستوں میں اضافے کی اہم وجہ سمجھا جا رہا ہے، جس نے انھیں ممکنہ حکومت سازی کے عمل میں پہلے سے زیادہ بااثر بنا دیا ہے۔موجودہ تجزیے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ ابھی تک ہزاروں کی تعداد میں وہ پوسٹل ووٹ شمار نہیں کیے گئے ہیں، جن میں زیادہ تر اسرائیلی فوجیوں کے ووٹ شامل ہیں، اس لیے حتمی نتائج کی واضح تصویر ایک یا دو دن بعد ہی سامنے آنے کی توقع ہے۔انتخابات سے پہلے ہی رائے عامہ کے جائزوں میں یہ سامنے آیا تھا کہ اسرائیل کی عرب جماعتیں طاقت کے توازن میں ایک اہم اور فیصلہ کن حیثیت اختیار کر سکتی ہیں۔
عرب جماعت قائمہ المشترکہ کے رہنما یوسف جبارین نے انتخابی نتائج کے بعد ایک بیان میں کہا کہ نیتن یاہو کو گھر بھیجنے کے لیے اب ہم سے بات کرنا پڑے گی۔
عرب جماعت قائمہ العربیہ کے رہنما منصور عبّاس نے کہا کہ ان کی کامیابی ایک نئے دور کا آغاز ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا ہے کہ نیتن یاہو جیت بھی سکتے ہیں اور مقابلہ برابر بھی ہوسکتا ہے، مقابلہ برابر رہنا فتح ہی سمجھی جائے گی۔
سینٹرل الیکشن کمیٹی کے مطابق 85 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوگئی، مکمل نتائج آنے میں چند دن لگیں گے۔




