ایران پر حملہ کل ہی ہو سکتا ہے: امریکی صدر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران پر حملہ کل ہی ہوسکتا ہے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی بڑا معاہدہ طے پا جائے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے سے متعلق سوال پر جواب میں کہا ہے کہ میں کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے وقت کا نہیں بتاؤں گا۔

انہوں نے کہا ہے کہ ایران کے معاملے کو بہت اچھے طریقے سے نمٹایا ہے، اب ممکن ہے کہ باقی کام بھی مکمل کرنا پڑے۔

امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ ممکنہ حملے کے لیے امریکی طیارہ بردار جہاز جارج واشنگٹن کو ہتھیاروں اور میزائلوں کے ذخیرے کی سپلائی پہنچائی جا چکی۔

امریکی جریدے کے مطابق سعودی عرب، اردن، قطر، متحدہ عرب امارات اور لبنان میں امریکی سفارتی عملے کی تعداد میں کمی کر دی گئی ہے۔
امریکی فوج نے مشرق وسطیٰ میں فوجی اڈوں پر موجودگی خاموشی سے محدود کر دی۔

امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس جے کلیٹن کی جانب سے جمعے کو وزیر خارجہ مارکو روبیو کو بھیجے گئے ایک میمو کے مطابق، ایران نے مشرق وسطیٰ اور دیگر ممالک میں امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

یہ انٹیلی جنس رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب چند روز قبل ذرائع نے این بی سی نیوز کو بتایا تھا کہ امریکی فوج مشرق وسطیٰ میں مختلف فوجی اڈوں پر اپنی موجودگی خاموشی سے محدود کر رہی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے بھی خطے میں متعدد سفارتی مشنز پر تعینات عملے کی تعداد مزید کم کرنے کا حکم دیا ہے۔

امریکی افواج اور سفارتی عملے کی تعداد میں یہ کمی ان اقدامات سے مشابہت رکھتی ہے جو امریکی محکمہ دفاع اور محکمہ خارجہ نے فروری میں ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے قریب فوجی اڈوں اور سفارت خانوں میں عملے کی تعداد کم کرنے کے لیے کیے تھے۔

ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ سفارت خانوں میں عملے کی تعیناتی کے معاملے میں ہم سیکیورٹی کی صورت حال سے متعلق نئی معلومات کا مسلسل جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ حوثیوں کے حملوں اور امریکی عہدیداروں کو نشانہ بنانے کی ایرانی دہشت گردانہ سازشوں کے خطرات ہی وہ عوامل ہیں جو خطے میں محدود آپریشنز کی حیثیت رکھنے والے سفارت خانوں میں عملے کی تعداد سے متعلق ہمارے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
امریکی جریدے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف ممکنہ حملے کی تیاری کر رہا ہے۔

امریکی جریدے کے مطابق امریکا کی مسلح افواج نے طیارہ بردار بحری جہاز جارج واشنگٹن کو ہتھیاروں اور میزائلوں کے ذخیرے کی سپلائی پہنچادی ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق بحری جہاز میں ایسے ہتھیار بھی لوڈ کیے جارہے ہیں جو ایران کی زیر زمین ایٹمی تنصیبات اور مضبوط فوجی انفرااسٹرکچر کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
امریکا نے سعودی عرب میں غیر ہنگامی سفارتی عملے اور اہلِ خانہ کو فوری روانگی کا حکم دے دیا۔

اردن، قطر، متحدہ عرب امارات اور لبنان میں بھی امریکی سفارتی عملے کی تعداد کم کی جا رہی ہے۔

سی این این کے مطابق امریکی انٹیلی جنس نے ایران پر حملوں کی صورت میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اہلکاروں پر ایرانی حملوں کے خدشات ظاہر کیے جس کے بعد انخلا تیز کر دیا گیا۔

ممکنہ خطرات کے پیش نظر امریکی شہریوں کو عراق کا سفر نہ کرنے کی ہدایات میں توسیع کردی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں