پاکستان، بھارت میچ اتوار کو ہوگا، شہباز ، سری لنکن صدر کا رابطہ،

پاکستان نے اتوار کو ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ میں بھارت کیخلاف میچ کھیلنے کا فیصلہ کرلیا ہے، پاکستان نے یہ فیصلہ سری لنکا اور بنگلہ دیش کی درخواست پر کیا ، وزیر اعظم شہباز شریف اور سری لنکا کے صدر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں صدر انورا کمارانے کہا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو میچ کھیلنا چاہئے، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے مثبت کردار پر اسکا شکریہ ادا کرتے ہیں،مگر عالمی کرکٹ کے مفاد میں بائیکاٹ پر نظرثانی ضروری ہے، جبکہ پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ میں شفافیت اور برابری کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریگا، دھمکی سے میں ڈرتا ہوں نہ پرائم منسٹر اور نہ فیلڈ مارشل، دوست ممالک نےہائی لیول پر رابطہ کیا ہے، جب کوئی خود چل کر آجائے تو بہت سی باتیں بھولا دی جاتی ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق پیر کی شب پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا کہ آئی سی سی کی پریس ریلیز کے بعدوزیر اعظم شہباز شریف نےپاکستان ٹیم کوبھارت کیخلاف 15فروری کو ٹی 20کے گروپ میچ کھیلنے کی ہدایت کی ہے۔ قبل ازیںپی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے وزیر اعظم کو حالیہ ملاقاتوں اور اسکے بعد کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔وزیر اعظم ہائوس کے اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کو چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے پاکستان کرکٹ بورڈ، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطح مشاورتی اجلاسوں کے نتائج سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا۔ حکومت پاکستان نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے پی سی بی کو موصول ہونے والی رسمی درخواستوں اور سری لنکا، متحدہ عرب امارات سمیت دیگر رکن ممالک کی معاون خط و کتابت کا بھی جائزہ لیا، جن میں پاکستان سے حالیہ چیلنجز کے حل کیلئے قائدانہ کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔حکومت نے بی سی بی کے صدر امین الاسلام کے بیان کا بھی نوٹس لیا۔ برادر ملک بنگلہ دیش کی جانب سے اظہارِ تشکر کو نہایت خلوص اور گرمجوشی کے ساتھ قبول کیا گیا ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے۔اسی شام وزیراعظم شہباز شریف نے سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈسانائیکے سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ خوشگوار اور دوستانہ گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس امر کو یاد کیا کہ پاکستان اور سری لنکا ہمیشہ مشکل اوقات میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ سری لنکن صدر نے وزیراعظم پاکستان سے موجودہ تعطل کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کیلئے سنجیدہ غور و فکر کی درخواست کی۔کثیر ملکی مشاورت کے نتائج اور دوست ممالک کی درخواستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ 15 فروری 2026 کو آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اپنے طے شدہ میچ میں میدان میں اترے۔حکومت کے مطابق یہ فیصلہ کرکٹ کی روح کے تحفظ اور عالمی کھیل کے تسلسل کو یقینی بنانے کیلئے کیا گیا ہے، تاکہ تمام شریک ممالک میں کھیل کو فروغ دیا جا سکے۔وزیراعظم پاکستان اور قوم کی جانب سے ’’مین اِن گرین‘‘ کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا ہے۔

انٹر نیشنل کرکٹ کونسل نے پاکستان کی تجاویز مان لیں، آئی سی سی نے پی سی بی اور بی سی بی کے ساتھ مذاکرات کی تفصیلات جاری کردیں جسکے مطابق ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ 2026 مس کرنے پر بنگلہ دیش پر کوئی جرمانہ عائد نہیںکیا جائے گا۔آئی سی سی کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کو آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی بھی دی جائے گی،بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ 2028 سے 2031 کے درمیان ایک ایونٹ کی میزبانی کرے گا۔پیر کی شب جاری کئے گئے اعلامیہ کے مطابق اعلامیہ میں آئی سی سی نے بتایا کہ لاہور میں ہونے والے مذاکرات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئے۔ جس میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 اور جنوبی ایشیا میں کرکٹ کے مستقبل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔بنگلہ دیش کی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں عدم شرکت پر آئی سی سی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بی سی بی کو مکمل رکن اور عالمی کرکٹ کا اہم ستون قرار دیا۔ بنگلہ دیش کرکٹ پر کسی قسم کی پابندی یا جرمانہ عائد نہ کرنے کی یقین دہانی دلاتے ہوئے کہا کہ اس پرکسی بھی قسم کی مالی، انتظامی یا اسپورٹنگ پابندی نہ لگانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔اعلامیہ میں بتایا گیا کہ بنگلہ دیش کو ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *