شاعری، سیاست اور سوشل میڈیا کا المیہ از قلم : نجیم شاہ

یہ وہ زمانہ ہے جس میں ہر شخص شاعر ہے، ہر ٹویٹ غزل ہے، ہر فیس بک پوسٹ مرثیہ ہے، اور ہر انسٹاگرام اسٹوری میں کوئی نہ کوئی ضرب المثل دم توڑتی نظر آتی ہے۔ سوشل میڈیا نے عوام کو وہ زبان دی ہے جو اسمبلی میں گونگی ہو جاتی ہے، اور وہ قلم دیا ہے جو ووٹ ڈالنے والے انگوٹھے سے زیادہ طاقتور ہے۔ اب احتجاج جلسوں میں نہیں، جملوں میں ہوتا ہے۔ اب نعرے دیواروں پر نہیں، ڈیجیٹل دیواروں پر لکھے جاتے ہیں۔ عوام نے شاعری کو وہ ہتھیار بنا لیا ہے جو نہ صرف دل کی بھڑاس نکالتا ہے بلکہ لائکس، شیئرز اور کمنٹس کی صورت میں داد بھی دلواتا ہے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جس سیاست دان کے لیے یہ شاعری تخلیق کی جاتی ہے، وہ اگر صاحبِ ذوق نہ ہو، تو یہ ساری شاعری ایسے ضائع ہو جاتی ہے جیسے شادی کی بریانی بغیر رائتے کے — دھواں دھواں، مگر بے ذائقہ۔ اگر آپ ’’دل جلتا ہے تو جلنے دو‘‘ لکھیں، تو وہ سمجھے گا کہ آپ واپڈا سے نالاں ہیں۔ اگر آپ ’’بے وفا‘‘ لکھیں، تو وہ فوراً اپنی پارٹی چھوڑ کر جانے والے ساتھیوں کو یاد کر کے آپ کو داد دے گا، حالانکہ آپ تو اس کے وعدے یاد کر کے رو رہے تھے۔ مطلب کچھ اور، مفہوم کچھ اور، اور سمجھ کچھ اور۔ یہی وہ فکری بدہضمی ہے جو ہمارے سیاسی منظرنامے کو ہاضمے کی گولی کی طرح نگل گئی ہے۔

عوام نے جب دیکھا کہ شاعری کا تیر سیاست دان کی کھال سے نہیں پار ہوتا، تو ضرب الامثال کا سہارا لیا۔ ’’اونٹ کے منہ میں زیرہ‘‘ لکھ کر بجٹ پر تبصرہ کیا، ’’اندھیر نگری چوپٹ راج‘‘ کہہ کر پالیسیوں پر طنز کیا۔ لیکن پھر وہی بات، اگر سیاست دان کو ضرب المثل کی سمجھ نہ ہو، تو وہ سمجھے گا کہ آپ اونٹ پالنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ اور اگر آپ ’’نیکی کر دریا میں ڈال‘‘ لکھیں، تو وہ سمجھے گا کہ آپ اسے فلاحی کاموں کے بعد مچھلیاں کھلانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ یعنی عوام چیخ رہے ہوتے ہیں، اور سیاست دان کان میں ایئر پوڈ ڈالے، موسیقی سن رہے ہوتے ہیں۔

اب ذرا تصور کریں، آپ نے بڑی محنت سے ایک نظم لکھی۔ اس میں سیاست دان کی وعدہ خلافی، مہنگائی، اور ٹریفک کے مسائل کو شاعری میں سمو دیا۔ آپ نے اسے ٹویٹر پر پوسٹ کیا، فیس بک پر شیئر کیا، انسٹاگرام پر اسٹوری لگائی، اور واٹس ایپ پر رشتہ داروں کو بھی بھیج دیا۔ لیکن وہ سیاست دان، جو اس نظم کا مرکزی کردار ہے، نہ تو سوشل میڈیا استعمال کرتا ہے، نہ شاعری سمجھتا ہے، اور نہ ہی اُس کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ آپ کی پوسٹ پر تبصرہ کرے۔ نتیجہ؟ آپ کی شاعری پتھر کے نیچے پڑے اُس خط کی طرح ہو گئی جو محبوب تک پہنچنے کی بجائے بوسیدہ ہو گیا۔

اور پھر وہی ہوتا ہے جو ہمیشہ ہوتا ہے۔ عاشق (یعنی عوام) نئی محبوبہ (یعنی نیا سیاست دان) کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ پرانی شاعری کو ڈیلیٹ کر دیتے ہیں، نئی غزل لکھتے ہیں، اور پھر سے اُمید باندھتے ہیں کہ شاید اس بار کوئی صاحبِ ذوق سیاست دان مل جائے جو نہ صرف شاعری سمجھے بلکہ اس پر عمل بھی کرے۔ لیکن یہاں ایک دلچسپ موڑ آتا ہے۔ بعض سیاست دان ایسے بھی ہوتے ہیں جو شاعری کے شوقین ہوتے ہیں، لیکن اُن کی سمجھ کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے۔ مثلاً اگر آپ لکھیں ’’چمن میں ہر طرف خزاں کا راج ہے‘‘، تو وہ سمجھتے ہیں کہ آپ باغبانی کے شعبے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

یا اگر آپ لکھیں ’’دل کے ارمان آنسوؤں میں بہہ گئے‘‘، تو وہ آپ کو واٹر بورڈ کا ممبر بنانے کی پیشکش کر دیتے ہیں۔ یعنی شاعری کو وہ اتنے سنجیدہ انداز میں لیتے ہیں کہ لگتا ہے جیسے غالب کو محکمہ زراعت کا مشیر بنا دیں گے۔ ایسے میں عوام نے ایک نیا طریقہ نکالا ہے۔ اب شاعری کے ساتھ ایموجی بھی استعمال کی جاتی ہے تاکہ سیاست دان کو سمجھ آ جائے کہ بات سنجیدہ ہے یا مزاحیہ۔ مثلاً ’’وعدے تھے وعدوں کی طرح‘‘ کے ساتھ اگر روتا ہوا ایموجی لگا دیا جائے، تو سیاست دان سمجھ جاتا ہے کہ عوام واقعی رو رہے ہیں۔

لیکن اگر ہنستا ہوا ایموجی لگا دیا جائے، تو وہ سمجھتا ہے کہ عوام مذاق کر رہے ہیں، اور وہ بھی جواب میں “LOL” لکھ کر بات ختم کر دیتا ہے۔ بعض سیاست دان تو اتنے جدید ہو چکے ہیں کہ وہ شاعری کو بھی ڈیجیٹل مارکیٹنگ کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اگر آپ لکھیں ’’تم وعدہ کر کے مکر گئے‘‘، تو وہ فوراً اپنی ٹیم کو ہدایت دیتے ہیں کہ ’’اس لائن کو اگلے انتخابی نعرے میں شامل کر لو، عوام کو پسند آ رہی ہے!‘‘ اور اگر آپ لکھیں ’’ہم کو ان سے وفا کی ہے اُمید‘‘، تو وہ سمجھتے ہیں کہ آپ اُن کے سوشل میڈیا منیجر کی تعریف کر رہے ہیں۔

یہ وہ دور ہے جہاں عوام شاعری میں احتجاج کرتے ہیں، اور سیاست دان اسے اشتہار سمجھتے ہیں۔ جہاں غزل میں گلہ ہوتا ہے، اور جواب میں صرف ’’ریٹویٹ‘‘ آتا ہے۔ جہاں عوام کا درد ڈیجیٹل ہو چکا ہے، اور سیاست دان کا ردِعمل آٹو ریپلائی۔ جہاں جذبات کی قیمت صرف اتنی ہے جتنی ایک پوسٹ کی ریچ ہوتی ہے۔ اور جہاں سچائی کا جنازہ، شاعری کے کندھوں پر اُٹھایا جاتا ہے۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا پر شاعری اور ضرب المثل کے ذریعے سیاست دانوں تک گلے شکوے پہنچانا ایک فن ہے، لیکن یہ فن تب ہی کامیاب ہوتا ہے جب سامنے والا بھی فنکار ہو۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *