اٹھ فروری کا پہیہ جام تحریر ظفر محمد خان

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ایسی ہڑتال بلکہ پہیہ جام ہونے والا ہے جس کے بارے میں تقریبا دو ماہ پہلے ہی عوام کو اور عوام کو بچانے والی ایجنسیوں کو مطلع کر دیا گیا تھا
پاکستان میں ہڑتالوں پہیہ جام شٹر ڈاؤن جلاؤ گھیراؤ کرفیو اور ہنگاموں کی ایک پرانی تاریخ ہے
سابقہ فوجی صدر ایوب خان کے خلاف 1969 میں جو ہنگامے ہوئے تھے وہ کراچی سے پشاور تک پھیل گئے تھے لیکن کراچی اور لاہور میں بڑے پیمانے پر ہنگامے ہوئے تھے جس میں درجنوں افراد شہید ہوئے اور بعض موقعوں پہ پولیس کو براہ راست عوام پہ فائرنگ کرنی پڑی ایوب خان کے اخری دور میں ہی جب زلفقار علی بھٹو لیڈر بنے اور وہ جب پہلی مرتبہ کراچی ائے اور لیاقت اباد انے والے تھے اس وقت بھی زبردست ہنگامے ہوئے بھٹو کے انے سے پہلے لیاقت اباد میں فائرنگ ہوئی جس میں متعدد  لوگ ہلاک  ہوئے اور بھٹو نہ اسکے بعد میں وہ ائے تو اس وقت امن و امان قائم رہا لیکن ایوب خان کے دور میں کرفیو کافی دنوں تک نافذ رہا
بھٹو صاحب کے انے کے بعد 1972 میں کراچی میں سندھی اور اردو کے حوالے سے فسادات ہوئے جس میں زبردست ہنگامہ  ہڑتالیں گھیراؤ اور  مظاہرے ہوئے اور کراچی میں مجموعی طور پر 14 15 دن کرفیو نافذ رہا
١٩٧٣ میں پاکستان میں قادیانیوں کے خلاف تحریک چلی جس کا سبب ربوا کے ریلوے اسٹیشن پر ایک ٹرین میں طلبہ کے اوپر حملہ تھا جو بظاہر ختم نبوت کے نعرے لگا رہے تھے یہ فسادات پنجاب تک محدود رہے لیکن اس میں کرفیو کی نوبت نہیں ائی تا ہم ایک دو مکمل ہڑتالیں ضرور ہوئیں
١٩٧٧  میں جب انتخابات ہوئے اور اس میں بظاہر پیپلز پارٹی نے مخصوص نشستوں پر کافی دھاندلی کی تو اس کے نتیجے میں اگلے ہی دن صوبائی انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا اور اس کے بعد الیکشن کے چوتھے دن پورے پاکستان میں ہڑتال کی اپیل کی گئی جو مکمل کامیاب  رہی ، بھٹو نے تحریک کو تشدد سے کچلنے کی کوشش کی تو تحریک اور بڑھ گئی اور پانچ جولائی سن 1977 تک تقریبا ہر جمعہ کو مکمل ہڑتال ہوتی تھی یعنی کہ پیہ جام ہوتا تھا تمام کاروبار زندگی کیماڑی  سے لے کر پشاور تک بند ہوتا تھا ۔ اس دوران لاہور کراچی اور حیدراباد میں مارشل لا  بھی لگایا گیا مارشل لا  کے تحت فوج کو اختیارات دیے گئے فوج نے عوام پر فائرنگیں کی خاص طور پر کراچی حیدراباد میں سینکڑن لوگ شہید ہوئے لاہور میں بھی نو اپریل 1977 کو نیلا گنبد مسجد پر فوج کی طرف سے حملہ کیا گیا جس میں کافی لوگ شہید ہوئے جس کے بعد فوج نے بندوق اٹھانے سے انکار کیا
تاہم یہ ہڑتالیں ہنگامے کرفیو گھیراؤ جلاؤ جاری رہا یہاں تک کہ پانچ جولائی 1977 کو ضیاء الحق نے مارشل لا  نافذ کر دیا
ضیاء الحق کے ابتدائی دور میں ایک دو مرتبہ بجٹ کے حوالے سے ہڑتالیں ہوئی جو جزوی کامیاب رہی
ضیاء الحق کے دور میں ہی سن 83 میں کراچی میں مسلکی بنیاد پر فسادات ہوئے جس کی وجہ سے کراچی کے بڑے حصے میں کرفیو بھی رہا اور گھیراؤ جلاؤ بھی ہوتا رہا اسی طرح 1984 میں  عاشورہ کے دن ایک بار پھر مسلکی  فسادات ہوئے جس کے بعد کراچی میں بڑے پیمانے پر ایک مخصوص طبقے  کو مخصوص علاقوں سے نقل  مکانی کرنی پڑی گھیراؤ جلاؤ کافی دن جاری رہا بہت سارے گھر جلائے گئے مذہبی مقامات بھی جلائے گئے اور کرفیو مسلسل دو تین دو ہفتے جاری رہا
اور صرف ایک سال بعد 1985 میں جب کراچی میں  ایک طالبہ بشرآ زیدی کا حادثہ ہوا تو پورا کراچی ہنگاموں کی لپیٹ میں اگیا اور اس کا نتیجہ بھی کرفیو کی صورت میں برامد ہوا جو تقریبا پانچ دن رہا
1986 میں ایم کیو ایم کے ایک جلوس پر سہراب  گوٹھ  اور حیدراباد میں پٹھان کالونی کے قریب  فائرنگ کی گئی جس کے بعد پورے کراچی اور حیدراباد میں مکمل ہڑتال رہی اور ساتھ ساتھ گھراؤ جلاؤ شروع ہوا اور کرفیو کا طویل سلسلہ جاری رہا
اور اس کے بعد تو کراچی اور سندھ  میں ہڑتالوں مظاہروں گھیراؤ جلاؤ کی ایک طویل تاریخ ہے جس پر ایک کتاب لکھی جا سکتی ہے لہذا اس کے اسرار و اسباب پر پھر کبھی بات کریں گے لیکن اس دوران ہڑتالیں ایک دن کی نہیں تین تین دن کی ہڑتالیں بھی ہوئیں اور پہیہ جام ایسا ہوا کہ چار پہیوں  کی گاڑی ہی نہیں دو پہیوں کی سائیکلیں اور موٹر سائیکلوں کو بھی بند کر دیا گیا
یہ تاریخ ہم نے اس لیے بیان کی ہے کہ ہم یہ سوچیں کہ اٹھ فروری کو پی ٹی ائی کیا کر سکتی ہے جس ہڑتال کی اپیل دو مہینہ پہلے کی جائے اس کے حوالے سے یہ تو سوچا جا سکتا ہے کہ بہت زیادہ تیاریاں کی جائیں گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہڑتال کے لیے کوئی تیاری نہیں کی جاتی ہڑتال وہی ہوتی ہے جو اچانک ہوتی ہے اس کے لیے اپ کے پاس اتنے عوام ہونے چاہیے یا عوام کی ہمدردیاں یا طاقتور عوام ہونے چاہیے جو چند گھنٹوں کے نوٹس کے اوپر اگلے دن شہروں کو بند کرنے کی طاقت رکھیں اور شہریوں میں بھی اتنی ہمدردی اپ کے لیے ہونی چاہیے کہ وہ اپ کے حق میں اپنی دکانیں اور کاروبار کو بند کریں اور نقصان برداشت کریں
اور اچانک ہڑتال یا مظاہرے اس لیے ہوتے ہیں کہ انتظامیہ پولیس رینجرز بھی اس قابل نہ ہوں کہ وہ ہونے والے واقعات پہ قابو پا سکیں کیونکہ اچانک صبح دکانیں بند ہوں گھراؤ جلاؤ ہو ٹائر جلیں گاڑیاں جلیں تو ان کے اندر اتنا انتظامی طاقت نہ  ہو کہ وہ فوری طور پر ری ایکشن کریں تاکہ ادھے پونے دن تک پوری ہڑتال یا مظاہرہ یا کامیاب ہو جائے
تو اس سب تمہید کے بعد بتانا یہ مقصود ہے کہ جس ہڑتال کی اپیل اپ دو مہینے پہلے کریں گے اس کے لیے اپ اپنے کارکنوں کو کتنا تیار کریں گے یہ تو میں نہیں کہہ سکتا لیکن میں یہ ضرور سمجھتا ہوں کہ اس دو مہینے میں کارکن اس بات سے خوفزدہ بھی ہو جائیں گے کہ اس ہڑتال کے بعد ہمارا کیا حشر ہوگا کیونکہ جب اچانک ہڑتال ہوتی ہے تو انہیں انجام کا اندازہ نہیں ہوتا
اور دوسری طرف انتظامیہ کو بھی جب یہاں دو مہینے پہلے پتہ ہے کہ فلاں تاریخ کو انہوں نے ہڑتال کرنی ہے یا کوئی مظاہرہ کرنا ہے یا کسی  بھی قسم کا مسائل کھڑے کرنے ہیں تو وہ بھی اپنے منصوبے بنا کے تیار بیٹھے ہوں گے کہ جیسے ہی یہ نکلیں گے ان کو لپک لیں گے
میرا مقصد پی ٹی ائی کو ڈرانا نہیں ہے میں تو کب سے کہہ رہا ہوں کہ پی ٹی ائی کو اپنی طاقت دکھانی ہے تو اس کو ہڑتال کے ذریعے ہی دکھانی پڑے گی کیونکہ اس کے لوگ بظاہر روڑوں پر نظر نہیں ارہے ہیں اور یہ مقبولیت مقبولیت کا راگ الاپ رہے ہیں تو یہ مقبولیت اخر کسی طریقے سے سامنے انی تو چاہیے اور سامنے انے کے ایک طریقہ یہی ہے کہ کاروبار زندگی بینک دکانیں تعلیمی ادارے بزنس  بند کریں
یہاں پی ٹی ائی نے اسٹریٹ مومنٹ کے نام سے دو دو درجن سے تین درجن لوگوں کے چھوٹے چھوٹے جلوس کہیں گلیوں میں کوچوں میں بازاروں میں نکالے کراچی میں اپنے وزیراعلی کو بھیج دیا اس نے وہاں پر تھوڑا سا ہجوم اکٹھا کر لیا جو ایک مخصوص لسانی شناخت رکھتا تھا جس کی وجہ سے کراچی میں پی ٹی ائی کا تھوڑا بہت سپورٹ اگر کہیں تھا بھی تو وہ بھی متاثر ہو گیا
لاہور میں بھی بڑی دھوم دھام سے یہ ائے لیکن لاہور میں بھی ا کے نہ تو ہجوم ان کو ملا نہ ان کو ارکان اسمبلی ملے نہ انہیں بات کرنے کے مواقع ملے
خیبر پختون خواہ صوبے میں ان کی اپنی حکومت ہے وہاں تو دن بھی ان کا ہے رات بھی ان کی ہے جو چاہیں کریں 24 گھنٹے ہڑتال کریں وہاں نہ کوئی ان کو روکنے والا ہے نہ ٹوکنے والا وہاں پر انہوں نے اپنے جلسے جلوس کیے ہیں  اور یقینی طور پر اٹھ فروری کو خیبر پختون خواہ میں پیہ جام ہو ہی جائے گا کیونکہ ویسے بھی اتوار ہے اور پھر حکومت خود کاروبار زندگی بند کرنے کی کو اہمیت دے گی
اب پورے پاکستان میں پی ٹی ائی صبح ہڑتال کرا لے یہ تو ناممکن ہے اس دن یہ چھوٹے چھوٹے گروپوں کی شکل میں باہر نکل سکتے ہیں چوراہوں پہ نکل سکتے ہیں ایک دو ٹائر وغیرہ جلا سکتے ہیں لیکن مجھے ان سے اس کی امید بھی نہیں ہے کیونکہ یہ جب وزیراعلی کے استقبال کے لیے   لاہور میں لبرٹی سکوائر مینار پاکستان یا راولپنڈی میں راجہ بازار یا اسلام اباد میں ڈی چوک پر ایک درجن بھی نہیں نکل سکے یا ائیڈیالہ جیل کے باہر خاتون رہنماؤں کے ساتھ مشکل 30 سے 40 لوگ ہوتے ہیں تو یہ اس دن کیا کر سکیں گے اس پر مجھے شک ہے
حالانکہ میں سمجھتا ہوں عمران خان کے انکھ کے اپریشن یا انکھ کے علاج کے حوالے سے جو ان کو ہسپتال شفٹ کیا گیا اور واپس لایا گیا اس عمل سے عمران خان کی حامیوں میں جوش اور غصہ  ضرور پیدا ہوا ہوگا اور ان کے اندر جذبات اتنے ضرور پیدا ہوئے ہوں گے کہ وہ باہر نکلیں لیکن کیا یہ کافی ہوں گے یہ کہنا بہت محال ہے
ہاں ایک بات ضرور واضح ہو گئی کہ حکومت کے اندر یا ایجنسیوں کے اندر یہ اعتماد پیدا ہو گیا ہے کہ عمران خان کو راتوں رات اگر ہم ایک جیل سے دوسری جیل یا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر دیں تو ہماری انٹیلیجنس بھی اتنی مضبوط ہے اور  پی ٹی ائی کے کارکنوں میں بھی اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ اگلے دن کوئی بہت بڑا پھڈا کھڑا کر سکیں
اٹھ فروری اگلے چند دن میں انے والی ہے اور مجھے امید ہے کہ پی ٹی ائی  کوئی کچھ اثر انگیز مظاہرے کر سکے گی لیکن جیسا کہ میں نے اپ کو اوپر بتایا کہ ہڑتالیں مظاہرے گھراؤ جلاؤ کس طرح ہوتے ہیں کتنی طاقت اس میں لگتی ہے اور کتنا وقت لگتا ہے اس حوالے سے مجھے لگتا ہے کہ پی ٹی ائی کو مایوسی ہی ہوگی

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *