سید علی خامنہ ای کا قتل سنگین غلطی تھا: سابق ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسرائیل

اسرائیلی فوج کے سابق ڈپٹی چیف آف اسٹاف اور ڈیموکریٹس پارٹی کے لیڈر یائر گولان نے کہا ہے کہ جنگ کے آغاز پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای کو قتل کرنا اسرائیل کی سنگین غلطی تھی، ایران کے خلاف جنگ نے اسرائیل کی پوزیشن بدتر کر دی ہے۔

ایک انٹرویو میں یائر گولان نے کہا ہے کہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے سے ایران میں قدامت پسند مضبوط ہوئے، نیتن یاہو نے تاریخی موقع برباد کر دیا۔

اسرائیلی فوج کے سابق ڈپٹی چیف آف اسٹاف کا کہنا ہے کہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے سے اسرائیل کے مفادات کو فائدہ نہیں پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ عمر رسیدہ اور طویل عرصے سے برسرِ اقتدار لیڈر کا ہونا ہمیشہ خاص فائدے کا حامل ہوتا ہے اور علی خامنہ ای کی عمر 56 برس تھی،انہیں قتل کرنے سے ایران میں انقلابی حکومت کا تختہ الٹنے کے بجائے قدامت پسند مضبوط ہوئے اور اسرائیل کے اسٹریٹیجک مفادات کو نقصان پہنچا۔

یائر گولان نے کہا کہ نیتن یاہو نے ایران جنگ میں ایسے غیرحقیقت پسندانہ اہداف رکھے جو حاصل کرنے میں اسرائیل کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

ایک سوال پر یائر گولان نے اسرائیل کی الٹرا آرتھوڈوکس آبادی کو دوسروں پر گزارا کرنے والے طفیلیے قرار دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں