ڈائریکٹر جنرل لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی طاہر فاروق نے بھاٹی چوک میں ماں اور بچی کے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے معاملے پر سخت ایکشن لے لیا۔
انہوں نے داتا دربار منصوبے پر کام کرنے والی پوری ٹیم کو معطل کر دیا اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پروجیکٹ ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور سب انجینئر کو معطل کر دیا گیا ہے۔
ترجمان ایل ڈی اے کے مطابق ڈی جی ایل ڈی اے نے کنٹریکٹر پر فوری مقدمہ درج کروانے کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔
ترجمان ایل ڈی اے نے مزید بتایا ہے کہ ڈی جی ایل ڈی اے کی ہدایت پر نجی کمپنی اور ریزیڈنٹ انجینئر نیسپاک کو شوکاز نوٹس بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
ترجمان ایل ڈی اے کے مطابق نیسپاک کے ریزیڈنٹ انجینئر کی معطلی اور محکمانہ کارروائی و انکوائری کی سفارش کی گئی ہے اور منصوبے میں نیسپاک ٹیم کے کردار کو بھی انکوائری کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں سیوریج لائن میں گرنے والی 10 ماہ کی ردا فاطمہ کی لاش مل گئی۔
ریسکیو 1122 کے مطابق 10 ماہ کی ردا فاطمہ کی لاش آؤٹ فال روڈ کی سیوریج لائن سے ملی ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق ریسکیو آپریشن 3 مختلف مقامات پر کیا گیا، آؤٹ فال روڈ، بھاٹی گیٹ اور موہنی روڈ پر ریسکیو آپریشن کیا گیا۔
ریسکیو کی 10 گاڑیاں اور 25 ریسکیورز نے آپریشن میں حصہ لیا۔
دوسری جانب غفلت اور کوتاہی برتنے پر ٹریفک انجینئرنگ اینڈ پلاننگ ایجنسی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر سمیت 3 افسران کو معطل کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سیوریج لائن میں گرنے والی خاتون کی لاش تقریباً 3 کلو میٹر دور آؤٹ فال روڈ سے مل چکی ہے۔
متاثرہ فیملی شورکوٹ سے سیر کرنے لاہور آئی تھی، مینارِ پاکستان کے بعد داتا دربار پہنچی تھی، اس دوران خاتون بچی سمیت سیوریج لائن کی منڈھیر پر بیٹھی جہاں سے دونوں نیچے گر گئی تھیں۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی بنا دی ہے جو 24 گھنٹوں میں تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرے گی۔














Post your comments