کیا یہ سماج بے عقل ہے؟ کالم نگار: نذر حافی

عقل کی تعریفیں کرتے رہنے سے عقلمند بننا ممکن نہیں۔ کوئی شخص سارا دن یہ کہتا رہے کہ عقل بہت اچھی شئے ہے، عقل انسانی نفس و غرائض کو لگام دیتی ہے، عقل کو لغت اور اصطلاح میں یہ کہتے ہیں۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔

صبح سے شام تک ان چیزوں کو بار بار دہراتے رہنے سے شام کے نزدیک وہ شخص عقلمند نہیں بن جائے گا۔
اگر ایک آدمی زبانی طور پر عقل کو نفس اور غرائض کیلئے لگام تو قرار دے لیکن عملی طور پر اُس کے نفس اور غرائض کو بے لگام پایا جائے۔وہ غیبت بھی کرے، رشوت بھی کھائے، جھوٹی گواہی بھی دے، ملاوٹ بھی کرے، اس میں عدمِ برداشت بھی ہو، دوسروں کی دل آزاری بھی کرتا ہو، اور کسی کی عزت نفس کو بھی ملحوظِ خاطر نہ رکھتا ہو۔۔۔

کیا ایسے شخص کو اُس کی حکیمانہ گفتگو، تعلیمی ڈگریوں، اسناد اور سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر عقل مند کا لقب دینا درست ہے؟
جب ایسے کسی ایک شخص کو ہم عقلمند نہیں کہہ سکتے تو کیا جہاں اقتصاد میں کرپشن، سیاست میں بدعنوانی، تجارت میں ٹیکس چوری، جمہوریّت میں کنٹرولڈ ڈیموکریسی، تھانوں میں رشوت، اسمبلیوں میں دھونس، سڑکوں پر خوف، گھروں میں عدمِ اطمینان، مکالمے میں عدمِ رواداری، مباحثے میں تحمل کی کمی، دودھ میں ملاوٹ ، عدالتوں میں نا انصافی اور نظامِ تعلیم میں عدمِ مساوات کا عُنصریقینی ہو! ایسے سماج کو ہم عقلمندوں کا سماج کہہ سکتے ہیں؟
لمحہ فکریہ ہے یا نہیں کہ اپنی اقدار اور روایات کے اعتبار سے، ہمارا سماج نہ اسلامی بن سکا اور نہ مغربی۔ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر پیچھے کی طرف تیزی سے دوڑ رہا ہے۔

کیا ہمارے ہاں علمائے کرام، خطبا، منقبت خوانوں، رائٹرز، شعرا، انجینئرز، ڈاکٹروں، صحافیوں، تاجروں، صنعت کاروں، قانون دانوں، فوجیوں، سیاست دانوں، دینی مدارس،مساجد، امام بارگاہوں، اولیائے کرام کے مزارات ، مشائخ حضرات، پیروں و فقیروں ، سکولوں، کالجز اور یونیورسٹیوں کی کمی ہے؟

کمی تو نہیں، پھر سماج کا پہیہ پیچھے کی طرف کیوں گھوم رہا ہے؟
ان سب عقلمندوں ، دانشوروں، سیاست دانوں، سائنس دانوں، ڈاکٹروں، انجینئروں، اللہ والوں، عاشقانِ رسولؐ، ماہرینِ تعلیم ، وکلااور ڈگری ہولڈرز نے ہی تو اس سماج کو آگے لے کر جانا تھا۔
آپ کسی شخص کی تعلیم و تربیّت پر لاکھوں روپے خرچ کریں، اور وہ اُس کے بعد ایک انجینئر بن جائے۔ انجینئر بننے کے بعد وہ ایک ایسی ٹرین بنائے جو اسٹارٹ ہوتے ہی بے قابو ہو کر آگے کے بجائے پیچھے کی طرف اندھا دھند دوڑنا شروع کر دے۔۔۔

کیا ایسا شخص انجینئر کہلانے کا حقدار ہے؟
ہمارے سماج میں جو بچہ آنکھ کھولتا ہے، وہ اپنی زندگی کے اسٹارٹ میں ہی بے قابو ہو کر آگے کے بجائے پیچھے کو دوڑنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ اُلٹی دوڑ کسی ایک فرقے، قوم، علاقے یا نسل تک محدود نہیں۔چنانچہ معدنی و قدرتی وسائل سے مالامال، ہمارا یہ پیارا وطن آگے کے بجائےتیزی سے پیچھے کی طرف بھاگ رہا ہے۔

یہ وطن جو کہ اسلامی و نظریاتی ، جمہوری اور ایٹمی بھی ہے ، اس میں عوام کے پاس نہ معیاری اور مفت تعلیم ہے، نہ مطلوبہ صحت کی سہولتیں ہیں، نہ عدل و انصاف کی فراہمی ہے، نہ اچھی پبلک ٹرانسپورٹ ہے، نہ معاشرتی و طبقاتی مساوات ہے، نہ حسُنِ اخلاق ہے، نہ باہمی تحمل ہے، نہ قومی شعور ہے، نہ حقیقی جمہوریت ہے، نہ نظریاتی سیاست ہے اور نہ ہی انسانی حقوق ہیں۔
اس بے عقل سماج میں آئے روز توہینِ مذہب کا الزام لگا کر بستیوں کی بستیاں اُجاڑ دی جاتی ہیں، یہاں جعلی پیروں اور جھوٹے نبوّت و امامت کے دعویدار وں کو بھی بکثرت پیروکار مل جاتے ہیں، امریکہ جیسا کافر ملک بھی یہاں کے مجاہدین اسلام کو پالتا ہے، اور اسی سماج کےدینی مدارس میں دین کی وہ تفسیر و تعبیر رائج ہے جس کے نتیجے میں اے پی ایس پشاور کے ننھے منھے بچوں اور راہ چلتے لوگوں کو بے دردی سے شہید کر دیا جاتا ہے۔
یہیں پر جمہوریّت کا مطلب عوام کو کولہو کے بیل کی مانند دائرے میں دوڑانا ہے۔۔۔

اس بے عقل سماج کی تیز رفتار ٹرین تیزی سے بے قابو ہو کر پیچھے کی طرف دوڑ رہی ہے۔۔۔جو اِس کے سامنے پٹڑی پر کھڑے ہونے کی کوشش کرے گا، اُسے توہینِ مذہب کے مرتکب یا وطن سے غدّار کے طور پر کچل دیا جائے گا۔۔۔

جی ہاں اُسے کچل دیا جائے گا لیکن یہ تیز رفتار ٹرین رُکے گی نہیں۔۔۔

یہ سماج جہل کی زد میں ہے
یہاں عقل کی بات کرنا حرام ہے

آئیے تھوڑی دیر کیلئے سوچتے ہیں کہ یہ عقل کہاں پر دستیاب ہے؟

اگر یہ تعلیمی ڈگریوں اور سرکاری یا نجی اداروں کی عمارتوں یا مختلف قسم کے القابات میں نہیں تو پھر یہ کہاں پائی جاتی ہے؟

اگر ہم میں سے کسی کو اس کا سراغ مل جائے تو اس پر لازم ہے کہ اسے ہر قیمت پر حاصل کرے چونکہ وطنِ عزیز کو اس کی اشد ضرورت ہے۔
ماقبلِ تاریخ سے لے کر آج تک ان گِنت لوگ عقل کے سراغ میں نکلےہیں۔ان سب کی یہی چیخ و پکار ہے کہ عقل کی دیوی بڑی بڑی بلڈنگوں، القابات اور ڈگریوں پر مہربان نہیں ہوتی بلکہ یہ علم کے طُور پر جلوہ گر ہوتی ہے۔

عقل اپنے وجود کا اظہار تعلیمی اسناد، ڈگریوں اور القابات کے سرٹیفکیٹس کی صورت میں نہیں کرتی بلکہ یہ علم کے آئینے میں جھلکتی ہے۔ جہاں ڈگری ، سرٹیفکیٹ اور ٹائٹل ہو وہاں ضروری نہیں کہ عقل بھی ہو لیکن جہاں علم ہو گا وہاں لازمی طور پر عقل بھی ہو گی۔
ہمارے اس بے عقل سماج کی نسل در نسل پیچھے کو دوڑ یہ بتا رہی ہے کہ ہمارے ہاں علم کے بغیر اسناد و القابات اور ڈگریوں سے مسلح “بے علم روحوں” کی حکمرانی ہے۔

یہ بے علم روحیں اپنی ڈگریوں، القابات، مال و زراور طاقت کے زور پر بے رحم بد روحوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔
ہمارے عہد کی بدروحیں وہ نہیں ہیں جو کسی کو خواب میں آکر ڈرائیں، بلکہ ہمارے عہد کی بدروحیں وہ ہیں جو جیتے جاگتے ہمارے تعلیمی اداروں ، منبر و محراب، تھانے و کچہری، سیاست و اقتصاد، اور میڈیا و ٹرانسپورٹ سے لے کر ایوانِ اقتدار تک ہر چیز پر بغیر علم اور اہلیّت کے نسل در نسل حاکم ہیں۔

یہ بے عقل سماج یونہی عقل سے عاری نہیں ہُوا اور یونہی پیچھے کو نہیں دوڑ رہا بلکہ یہاں بدروحوں کے راج کا رواج پڑ چکا ہے۔ جہاں عقل سے عاری ،بے علم اور بے استعداد “بدروحوں کا راج ہو وہاں انسانی سماج، انسانی سماج نہیں رہتا بلکہ پیچھے کی طرف دوڑنے والی ٹرین بن جاتا ہے۔

About the author /


Related Articles

Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Newsletter