مذاکرات کے نام پہ ایک طویل ڈرامہ بہت عرصے کے بعد دیکھنے کو ملا ۔ اس سے پہلے کبھی 1977 میں جب پاکستان قومی اتحاد نے ملک گیر تحریک چلائی تھی تو اس کے جواب میں پیپلز پارٹی کو مذاکرات پر امادہ ہونا پڑا تھا بلکہ خود ہی مoذاکرات کی افر کی تھی ۔ لیکن ان مذاکرات سے پہلے مسلسل طویل پورے پاکستان میں ہونے والی ہڑتالیں مظاہرے اور اس کے علاوہ لوگوں کی قربانیاں بھی شامل تھیں جس میں اس وقت تک کم سے کم 200 افراد شہید ہو چکے تھے ۔ مذاکرات سہالہ سب جیل میں ہوئے تھے جو اسلام اباد کے قریب تھا اور ان مذاکرات میں ریفری کا کردار اس زمانے میں پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر ہوا کرتے تھے انہوں نے ادا کیا تھا ۔ ان مذاکرات میں قومی اتحاد کی طرف سے پروفیسر غفور احمد مولانا مفتی محمود اور مولانا شاہ احمد نورانی شریک ہوئے تھے جبکہ حکومت کی طرف سے ذوالفقار علی بھٹو عبدالحفیظ پیرزادہ اور مولانا کوثر نیازی ہوا کرتے تھے ۔ اس دور میں بھی پورا پاکستان قومی اتحاد کے ساتھ بظاہر نظر اتا تھا پیپلز پارٹی کے بھی لوگ ہوں گے لیکن پیپلز پارٹی دباؤ میں تھی ۔ کیونکہ صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا پورے پاکستان میں مکمل بائیکاٹ ہوا تھا اور اس کے بعد سے احتجاجی تحریک زور پکڑتی ہوئی پنجاب سرحد بلوچستان میں بھی تیزی سے پھیل رہی تھی اور ساتھ ساتھ کراچی اور حیدراباد اور لاہور میں بھی مارشل لا لگایا جا چکا تھا ۔
اب اس وقت جو مذاکرات ہو رہے تھے اس پر نہ صرف پاکستانی قوم کی نگاہیں تھیں بلکہ بین الاقوامی طور پر بھی پاکستان کی صورتحال کو محسوس کیا جا رہا تھا باہر کے ممالک ان مذاکرات میں دلچسپی لے رہے تھے ۔ پاکستان کا سب سے بہترین دوست سعودی عرب ان مذاکرات میں براہ راست شامل تھا ۔ بہرحال حکومت نے ان مذاکرات کو طول دیا اور اتنا طول دیا کہ بالاخر پانچ جولائی اگئی اور ضیاء الحق کو ماشاءاللہ لگا کے ملک کو فوج کے حوالے کرنا پڑا اور اس کے برے اثرات اج تک محسوس کیے جا رہے ہیں
اور اب ایک مذاکرات پچھلے ہفتے دیکھنے میں ائے جس میں پاکستان کی حکومت اور تحریک انصاف میں مذاکرات ہوئے جس کے لیے تحریک انصاف نے خود ایاز صادق اسپیکر قومی اسمبلی کے پاس جا کر گزارش کی اور انہوں نے وزیراعظم اور صدر کی منظوری سے مذاکرات شروع کیے
دونوں طرف سے بہترین افراد وقد میں شامل تھے اور اس کے علاوہ سہیل افریدی جو خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلی ہیں وہ وہیں پر موجود تھے اور وہاں سے لانگ مارچ کی دھمکیاں دے رہے تھے اور حکومت بظاہر ان دھمکیوں کی وجہ سے یا اسلام پر چڑھائی کے حوالے سے تھوڑا پریشان دکھ رہی تھی تو محسوس ہو رہا تھا وہ بھی مذاکرات میں ضرور کچھ دے گی
اور ایسا ہوا بھی شروع کی اطلاعات کے مطابق دونوں مذاکراتی ٹیموں نے ایک دوسرے پر اعتماد کا اظہار کیا اور بعض اہم نکات پر امادگی کا اظہار ہوا جیسا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو صحیح ہسپتال منتقل کیا جائے گا ان کی بیگم کو رعایتیں دی جائیں گی ان کی بہنوں کو رہا کیا جائے بعض سیاسی قیدیوں کو بھی رہا کیا جا سکتا ہے ۔
عام طور پر ایسے کاسمیٹک اقدامات حکومتیں مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ضرور کیا کرتی ہیں
مذاکرات کا پہلا دن بہت ہی خوشگوار تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ تمام باتیں خوش اسلوبی سے طے پا جائیں گی اور اس کے مقابلے میں خیبر پختون خواہ سے ہونے والا دھرنا منسوخ کر دیا جائے گا ۔ مذاکرات کے اس عمل میں کچھ رخنہ اندازیاں ضرور ائیں لیکن اگلے دن تک ایسا لگ رہا تھا کہ مسئلہ کوئی نہیں رہا لیکن پھر اچانک رات گئے یہ پتہ چلا کہ پی ٹی ائی کو بعض معاملات منظور نہیں ہیں اور ان کو عمران خان کی صورت پہلے دیکھی ہیں اور حکومت اس پہ راضی نہیں ہوئی اور مذاکرات ناکام ہو گئے ۔
ان مذاکرات میں قائد حزب اختلاف اچکزئی شامل نہیں تھے ۔ ان کو پی ٹی ائی کے رہنماؤں نے اپنے ابتدائی مشاورت میں شامل نہیں کیا تھا جس پر وہ ناراض ہو کر کوئٹہ میں اپنے ایک دور کے عزیز کی شادی میں جا بیٹھے تھے ۔ لیکن وہ ایک جید سیاست دان ہیں انہوں نے وہاں سے سہیل افریدی کو اپنے کنٹرول میں کیا ہوا تھا اور عمران خان سے ملاقات کی قیمت پر مذاکرات میں پوری طرح بلیک میل کرنے کا کا ذریعہ بنایا ہوا تھا اور ادھر سہیل افرید بھی پریشان تھا کیونکہ اس کے ایک طرف پہاڑ تھا اور دوسری طرف کھائی تھی لہذا اس کو پتہ تھا کہ اگر لانگ مارچ نہ شروع ہوا جلوس نا نکالا گیا تو عمران خان اس کو رہنے نہیں دے گا اور اگر اس نے دھرنے کیے جلوس نکالے تو حکومت اس کو وزیراعلی رہنے نہیں دے گی تو لہذا اس نے سوچا کہ میں شہید ہو جاؤں وہ زیادہ بہتر ہے ۔
اب یہ بالکل دوسری بات ہے کہ وہاں ایک تیسرا معاملہ ہونے والا ہے کہ اس کا دھرنا یا لانگ مارچ اتنی بری طرح ناکام ہونے والا ہے کہ اتنا اس نے سوچا بھی نہ ہوگا کیونکہ اس نے لکی مروت سے مارچ شروع کیا ہے جو ایک چھوٹا سا ٹاؤن ہے جہاں پر اگر دو ہزار افراد بھی جمع ہو جائیں تو لگے گا بہت سارے لوگ جمع ہو گئے اور وہاں سے وہ چار دن بھوکے پیاسے بغیر بیت الخلا کے ایک دوسرے سے لڑتے بھڑتے کاٹتے تھے پیٹتے جب پشاور پہنچیں گے تو نڈھال ہو کر انتہائی ناکارہ ہو چکے ہوں گے ۔
اس کے بعد صوابی انٹرچینج اور وہاں سے پھر اٹک پل پر جانے کی ہمت کس میں ہوگی یہ اپ صحیح اندازہ لگا سکتے ہیں ۔
کیونکہ حکومت نے بھی تحیہ کر رکھا ہے کہ ابھی اسلام اباد پہ روز روز کے دھرنے اور روز روز کی یلغار برداشت نہیں کی جائے گی اسلام اباد صرف پاکستان کا ایک شہر نہیں ہے بلکہ ملک کا دارالحکومت ہے اور پاکستان کے تین صوبے اس کو اپنا ائینی حق سمجھتے ہیں
اسلام اباد کے علاوہ ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی ہی ہے اگر وہاں کچھ ہنگامے ہوتے ہیں تو اس سے پورا پاکستان متاثر ہوتا ہے لیکن اس کے علاوہ چاہے لاہور ہو سیالکوٹ ہو فیصل اباد ہو ملتان ہو یہاں کچھ بھی ہوتا رہے پاکستان کی صحت پہ اثر نہیں پڑتا ہے ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلام اباد میں جو بھی کچھ ہوتا رہے اور اس شہر کے باسی اور ان صوبوں کے باشندے خاموشی سے دیکھتے رہے
اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اسلام اباد پہ یلغار کر کے حکومت بدلی جا سکتی ہے تو یہ اس کی خام خیالی ہے
سہیل افریدی نوجوان ہے لیکن نا تجربہ کار ہے اس لیے اپنی ذاتی سیاسی لڑائی لڑ رہا ہے اچکزئی صاحب اپنے روایتی پاکستان دشمنی کے اخری موقوں کو استعمال کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں پی ٹی ائی کی جو نسبتا بہتر قیادت ہے جو کہ وکلا پر مشتمل ہے وہ کسی بہتر راستے کی تلاش سے مایوس ہو چکی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اڈیالہ جیل میں بیٹھا ہوا ان کا لیڈر اب صرف خواب میں چھیچھرے ہی دیکھتا رہے گا کیونکہ اس بات کے کوئی امکانات نہیں ہیں کہ ائندہ اس کی رہائی کے لیے کوئی مزید اقدامات کیے جا سکے
جب تک اپ یہ مضمون پڑھ رہے ہوں گے اس وقت تک دھرنا پشاور سے صوابی کے لیے روانہ ہو چکا ہوگا اور اس کی صورتحال اپ دیکھ چکے ہوں گے کہ اس کے اندر کتنی طاقت ہے



