اماراتی پرواز کے معاون پائلٹ حَمّام الحمّانی نے کپتان کو قتل کر کے طیارہ ہائی جیک کرنے اور 9/11 طرز کا حملہ کرتے ہوئے تل ابیب کی کسی بلند عمارت سے ٹکرانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
تحقیقاتی حکام کے مطابق 29 سالہ عمانی شہری نے گزشتہ ہفتے دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز کے کاک پٹ میں بھارت سے تعلق رکھنے والے کپتان سمت پر حملہ کیا تھا اور وہ اکیلا ہی اس منصوبے پر عمل کر رہا تھا۔
اطالوی اخبار کے مطابق الحمّانی نے 30 ستمبر کو خفیہ طور پر کپتان کو قتل کرنے، طیارے کے انجن بند کرنے اور اسے تل ابیب کی کسی عمارت سے ٹکرانے کا منصوبہ بنایا تھا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق زیرِ حراست معاون پائلٹ نے تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ کپتان کو راستے سے ہٹانے کے بعد پرواز معمول کے مطابق جاری رکھنے، لینڈنگ کی اجازت حاصل کرنے اور پھر تل ابیب کے قریب بن گوریون ایئر پورٹ پر طیارے کو کسی عمارت یا دوسرے طیارے سے ٹکرانے کا ارادہ رکھتا تھا۔
رپورٹس کے مطابق الحمّانی نے طیارے کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اردن کی فضائی حدود تک پہنچنے کا انتظار کرنے کا منصوبہ بنایا تھا تاکہ فوری طور پر خطرے کی نشاندہی نہ ہو اور اسے کارروائی کے لیے کافی وقت مل سکے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق معاون پائلٹ نے جولائی میں حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا تاہم عملے کے ایک رکن سے دوستی کے باعث آخری لمحے میں ارادہ ترک کر دیا تھا۔
یہ منصوبہ 11 ستمبر 2001ء کے دہشت گرد حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، جب القاعدہ سے تربیت یافتہ 19 ہائی جیکرز نے 4 مسافر طیاروں پر قبضہ کیا تھا اور ان میں سے 3 طیارے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون سے ٹکرا دیے تھے، جس کے نتیجے میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
30 ستمبر کو الحمّانی نے کاک پٹ میں بھارتی کپتان سمت پر کلہاڑی سے حملہ کر کے پرواز کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی، کشمکش کے دوران بوئنگ 737 میکس 8 طیارہ تقریباً 2 منٹ میں 36 ہزار فٹ کی بلندی سے 17 ہزار فٹ تک تیزی سے نیچے آیا، جس سے طیارے کے ڈھانچے پر شدید دباؤ پڑا اور اس کے کچھ حصے بھی متاثر ہوئے۔
طیارے میں 174 مسافر سوار تھے، زخمی کپتان سمت نے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیابی حاصل کی، جس کے بعد عملے اور مسافروں نے کاک پٹ میں داخل ہو کر معاون پائلٹ پر قابو پا لیا۔
بعد ازاں طیارے میں موجود دو آف ڈیوٹی پائلٹس نے پرواز کا کنٹرول سنبھالا اور اسے سعودی عرب کے شہر تبوک کے ایئر پورٹ پر باحفاظت اتار لیا، مسافروں کو بعد میں بن گوریون ایئر پورٹ منتقل کر دیا گیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق الحمّانی نے اماراتی پرواز کے لیے کام کے دوران حالیہ مہینوں میں بن گوریون ایئر پورٹ کے متعدد دورے کیے تھے اور جون میں ایک دورے کے دوران مبینہ طور پر حملے کی منصوبہ بندی اور معلومات جمع کرنے پر توجہ مرکوز کی تھی۔
رپورٹس کے مطابق اماراتی پرواز ہائی جیک کرنے کی کوشش کے جرم میں الحمّانی کو متحدہ عرب امارات میں سزائے موت کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم ابھی اسے کوئی حتمی سزا سنائی نہیں گئی اور تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب کپتان سمت کو طیارے اور مسافروں کو بچانے پر ہیرو قرار دیا گیا ہے، بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی، اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت کئی رہنماؤں نے ان کی بہادری کو سراہا ہے۔
کپتان سمت دبئی کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور سرجری کے بعد ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔



