ہیلسنکی ، فن لینڈ سے ٹورانٹو ، کینیڈا کی فلائٹ میں 400 مسافر سوار تھے اور کھانا صرف 200 افراد کے لیئے پہنچا تھا۔

ہیلسنکی ، فن لینڈ سے ٹورانٹو ، کینیڈا کی فلائٹ میں 400 مسافر سوار تھے اور کھانا صرف 200 افراد کے لیئے پہنچا تھا۔
یہ غلطی ائیرپورٹ کے فلائٹ کچن کی تھی فلائٹ ٹیک آف کر چکی تھی ایئر لائن کا عملہ بہت مشکل میں پڑ گیا۔ ایسی صورتحال میں ایک ذہین فلائٹ اٹینڈنٹ کو ایک آئیڈیا ذہن میں آیا اور کریو اسٹاف نے آپس میں مشورہ کیا کہ ایسا کرتے ہیں۔
جہاز کےٹیک آف کرنے کے تقریباً 30 منٹ بعد، اس نے اعلان کیا کے
“خواتین و حضرات،  ہمارے پاس جہاز میں 400 مسافر ہیں اور کھانا صرف 200 کا فلائٹ کچن والوں کی غلطی سے یہ کم لوڈ کیا گیا ہے۔ اب آپ لوگوں میں سے “کوئی بھی شخص جو کسی اور کے لیے اپنا  کھانا چھوڑ سکتا ہے تو ایسے مسافر کے لئے پوری پرواز کے دوران مفت اور لامحدود مقدار میں مشروبات کی پیشکش کی جاتی ہے۔”
اس اعلان کے بعد مسافر بار بار مشروبات طلب کرنے لگے آخر کار اگلا اعلان 6 گھنٹے کے طویل وقت کے بعد جب احساس ہوا کہ مشروبات کی اسطرح طلب کے بعد اسکا اسٹاک کم رہ گیا تو اب نیا اعلان کچھ یوں کیا گیا۔
“خواتین و حضرات، اگر آپ اپنا خیال بدلنا چاہتے ہوں، تو ہمارے پاس اب بھی 200 افراد کا کھانا دستیاب ہے ۔ جو آپ طلب کر سکتے ہیں۔
اس قصے کا نتیجہ یہ ہےکہ
کہیں بھی کسی بھی جگہ وافر مقدار میں جب مفت مال میسر آ جائے تو کوئی بھی نہیں چھوڑتا۔ بھوکے رہ لیں گے مگر مفت مال نہیں چھوڑنا۔
شوق رکھنے والے مفت شراب کی خاطر سب کچھ چھوڑ سکتے ہیں جو انکی پسندیدہ چیز بھی ہے ۔ یہی حال ہمارے ملک کا بھی ہے کہیں بھی کچھ بھی مفت مال مل جائے کچھ بھی نہیں چھوڑنا۔
اور یقینا یہ ایک کڑوا سچ ہے اور ہمارے معاشرے میں ایسا ہوتا رہتا ہے۔ اب کوئی مانے یا نہ مانے یہ اسکی مرضی ہے۔ ہم تو صرف بڑی عاجزی کے ساتھ
“ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں۔
Mohammad Naeem Talat

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *