ڈونلڈ ٹرمپ کے طیارے کی اڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد واپس لینڈنگ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طیارے کو سوئٹزرلینڈ کے لیے اُڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد ہی واپس لینڈنگ کرنا پڑ گئی۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ کے طیارے ایئر فورس ون کو بجلی کے ایک چھوٹے مسئلے کے سبب واشنگٹن واپس لوٹنا پڑا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر کے طیارے کی واشنگٹن ڈی سی واپسی کا فیصلہ معمولی مسئلے کے باعث ہوا، صدر ایک اور طیارے میں اپنا سفر جاری رکھ رہے ہیں۔

بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کا متبادل بنانے کا ارادہ نہیں، ٹرمپ

امریکی میڈیا کے مطابق صدر کے ساتھ سفر کرنے والے وائٹ ہاؤس کے ایک رپورٹر نے بتایا کہ طیارہ کے ایئرپورٹ سے ٹیک آف کے فوراً بعد ایئر فورس ون کے پریس کیبن کی لائٹس کچھ لمحوں کے لیے بند ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ طیارے کے عملے کی جانب سے کوئی وضاحت فراہم نہیں کی گئی اور پھر طیارہ واپس لینڈ کرگیا۔

واضح رہے کہ اس وقت امریکی صدر کے لیے ایئر فورس ون کے طور پر خدمات انجام دینے والے دو طیارے تقریباً چار دہائیوں سے سروس میں ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوسری مدتِ صدارت کے ایک سال مکمل ہونے پر وائٹ ہاؤس میں طویل نیوز کانفرنس کی جس میں اُنہوں نے امیگریشن، معیشت، نیٹو، اقوامِ متحدہ اور گرین لینڈ کے مستقبل پر کھل کر بات کی۔

ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ روز کی گئی نیوز کانفرنس کا مرکزِ توجہ گرین لینڈ پر امریکی قبضے کی خواہش اور یورپی اتحادیوں کے ساتھ کشیدگی رہی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکا میں ’ریوَرس مائیگریشن‘ اور ’اعلیٰ معاشی ترقی‘ دیکھی جا رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کے حوالے سے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر ملاقاتیں طے ہیں اور معاملات ’اچھی طرح‘ طے پا جائیں گے۔

بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کا متبادل بنانے کا ارادہ نہیں، ٹرمپ

نیوز کانفرنس کے دوران جب اِن سے پوچھا گیا کہ وہ اس جزیرے کے حصول کے لیے کہاں تک جا سکتے ہیں تو اِن کا مختصر جواب تھا ’آپ کو پتہ چل جائے گا۔‘

ٹرمپ نے نیٹو کے مستقبل پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ امریکا اتحادیوں کے دفاع کے لیے تیار ہے مگر انہیں شک ہے کہ آیا یورپ اور کینیڈا امریکا کے لیے بھی ایسا کریں گے یا نہیں۔

اُنہوں نے نیٹو کے دفاعی اخراجات بڑھانے میں اپنے کردار پر فخر کا اظہار کیا۔

اقوامِ متحدہ سے متعلق بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ ادارہ اپنی صلاحیتوں پر پورا نہیں اترا۔

انہوں نے عندیہ دیتےہوئے مزید کہا کہ غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے اِن کا تیار کیا گیا ’بورڈ آف پیس‘ مستقبل میں اقوامِ متحدہ کا متبادل بن سکتا ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *