ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی: امریکا کا طیارہ بردار بحری جہاز مشرقِ وسطیٰ روانہ

امریکا کا طیارہ برداربحری جہاز’’ابراہم لنکن‘‘مشرقِ وسطیٰ روانہ ہوگیا جبکہ گیارہ سے زائد ایف فیفٹین لڑاکے طیارے تعینات کر دیئے گئے۔تفصیلات کے مطابق ایران سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی مزید بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایک ماہ کے لیے اعلیٰ سطح کی اور چوبیس گھنٹے ہائی الرٹ حالت کا اعلان کر دیا ہے۔امریکی حکام نے بتایا کہ طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کو اسکارٹ بحری جہازوں کے ہمراہ مشرقِ وسطیٰ روانہ کر دیا گیا ہے، جبکہ خطے میں فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اضافی جنگی طیارے بھی تعینات کیے جا رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو غزہ میں امن، حکمرانی اور تعمیرِ نو کے لیے ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے پیوٹن کو دی گئی یہ دعوت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ تقریباً چار سال سے جاری ہے اور وہاں امن معاہدہ تاحال ممکن نہیں ہو سکا ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اس سے متعلق بتایا ہے کہ پیوٹن کو دعوت موصول ہو گئی ہے اور روس واشنگٹن سے ’تمام تر نکات کی وضاحت‘ چاہتا ہے۔

دمتری پیسکوف نے اپنے بیان میں یہ نہیں بتایا کہ آیا پیوٹن اس پیشکش میں دلچسپی رکھتے ہیں یا نہیں۔

غیر ملکی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کو بھی اس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے دنیا بھر کی شخصیات سے رابطہ کیا ہے جبکہ اس بورڈ کی صدارت خود امریکی صدر ٹرمپ کریں گے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *