انصاف کا بحران اور ریاستی اعتماد از قلم: نجیم شاہ

ریاست کی بنیاد عدل پر ہے۔ عدل وہ ستون ہے جس پر پوری عمارت کھڑی رہتی ہے۔ جب یہ ستون کمزور ہو جائے تو باقی سب کچھ محض دکھاوا رہ جاتا ہے۔ ہمارے ہاں انصاف کا حال یہ ہے کہ خواب تو دکھایا جاتا ہے مگر تعبیر کہیں دُور گم ہو جاتی ہے۔ عدالتیں موجود ہیں، قوانین کی کتابیں بھری پڑی ہیں، لیکن عام آدمی کے لیے انصاف ایک ایسا سفر ہے جس کی منزل ہمیشہ آگے سرکتی رہتی ہے۔ یہی وہ خلا ہے جو شہری اور ریاست کے درمیان دیوار کھڑی کر دیتا ہے۔

عدل کا تقاضا یہ ہے کہ فیصلہ حق پر ہو، نہ کہ طاقت، دولت یا تعلقات پر۔ لیکن یہاں فیصلے اکثر مصلحتوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ انصاف کی روح زخمی ہو جاتی ہے اور عوام کا اعتماد ریزہ ریزہ ہو کر زمین پر بکھر جاتا ہے۔ یہ وہ زہر ہے جو آہستہ آہستہ ریاست کے رگ و پے میں سرایت کرتا ہے اور پھر پورا نظام مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔

عام آدمی کی سب سے بڑی شکایت تاخیر ہے۔ تاریخ پر تاریخ، کمرہ عدالت کے پیچیدہ کھیل، اور بڑھتے ہوئے اخراجات انصاف کو ایک مہنگا تماشا بنا دیتے ہیں۔ اور جب کسی معاملے میں غیر معمولی تیزی دکھائی جائے تو عوام کے ذہن میں سوالات جنم لیتے ہیں۔ یہی تضاد عدلیہ کو کمزور کے لیے دیوار اور طاقتور کے لیے دروازہ بنا دیتا ہے۔ انصاف کا یہ دوغلا رویہ عوامی شعور میں ایک ناسور کی طرح پھیلتا ہے، جو اداروں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔

انصاف کا اُصول ہے مساوات۔ عدالت کا دروازہ سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ لیکن جب وقار اور سلوک میں فرق محسوس ہو تو یہ تاثر پختہ ہو جاتا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر نہیں۔ یہی تاثر انصاف کے وقار کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب عوام سوچنے لگتے ہیں کہ عدالتیں طاقتور کے لیے نرم اور کمزور کے لیے سخت ہیں۔ اور جب یہ سوچ جڑ پکڑ لے تو پھر ریاست کے ستون لرزنے لگتے ہیں۔

عدلیہ کی ساکھ اس کی آزادی اور غیر جانبداری سے جڑی ہے۔ جب فیصلے دباؤ یا وقتی ضرورت کے تابع نظر آئیں تو اعتماد کی بنیاد ہل جاتی ہے۔ عوامی رائے کسی ایک فیصلے سے نہیں بلکہ فیصلوں کے مجموعی رجحان سے بنتی ہے، اور یہی رجحان تاریخ میں عدلیہ کی پہچان بن جاتا ہے۔ عدلیہ اگر اپنی آزادی کھو دے تو وہ محض ایک کٹھ پتلی بن کر رہ جاتی ہے، اور کٹھ پتلیاں کبھی ریاست کو سہارا نہیں دے سکتیں۔

جب انصاف بروقت اور منصفانہ نہ ہو تو اس کے اثرات فرد تک محدود نہیں رہتے۔ معاشرہ بے چینی کا شکار ہو جاتا ہے۔ مظلوم تنہا ہو جاتا ہے اور قانون سے اُمید دم توڑ دیتی ہے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب ریاست انصاف دینے میں ناکام ہو جائے تو انتشار، بداعتمادی اور کمزوری اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ انصاف کی کمی ایک ایسا زلزلہ ہے جو پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔

یہ ذمہ داری صرف عدلیہ کی نہیں بلکہ پورے ریاستی ڈھانچے کی ہے۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، لیکن انصاف کو سیاسی ضرورتوں سے بالاتر رکھنا ہی ریاست کے مفاد میں ہے۔ وقتی فائدے کے لیے اداروں کو کمزور کرنا دراصل مستقبل کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔ سیاست دان جب عدلیہ کو اپنی جیب کی گھڑی اور جیب کی ڈائری بنا لیتے ہیں تو پھر ریاست کا جنازہ خود انہی کے کندھوں پر اُٹھتا ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ انصاف کو نعرۂ نہیں بلکہ حقیقت بنایا جائے۔ فیصلے آئین، قانون اور ضمیر کے مطابق ہوں۔ عوام کو یقین ہو کہ عدالت ان کی پناہ گاہ ہے۔ ریاست اسی دن مضبوط ہو گی جس دن انصاف کمزور ترین شہری کی دہلیز پر دستک دے گا۔ کیونکہ عدل کے بغیر کوئی نظام دیرپا نہیں ہوتا۔ انصاف وہ بنیاد ہے جس پر ریاست کھڑی رہتی ہے، اور جب یہ بنیاد کمزور ہو جائے تو پوری عمارت زمین بوس ہو جاتی ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *