چترال میں اسلام کی آمد اور اخوند سالاکؒ کی جدوجہد تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

چترال کی قدیم تاریخ زیادہ تر زبانی روایات میں محفوظ ہے۔ یہ علاقہ کبھی بلور، کبھی دردستان، کبھی قشقار اور کبھی چھترار کہلایا۔ بدخشانِ کبیر کا حصہ ہونے کے باعث یہ وسطی ایشیا اور برصغیر کے درمیان ایک ثقافتی پل تھا۔ دشوار گزار پہاڑوں اور وادیوں نے اسے صدیوں تک دُنیا سے الگ رکھا، مگر انسانی آبادیاں یہاں قدیم زمانے سے موجود تھیں۔ اس دور میں کالاش تہذیب نمایاں تھی، جو دیوتاؤں کی پرستش، مخصوص رسومات اور رنگین تہواروں کے ذریعے اپنی شناخت قائم رکھے ہوئے تھی۔

دردستان وہ خطہ تھا جو چترال سے لے کر کشمیر اور گلگت بلتستان تک پھیلا ہوا تھا۔ یہاں کے باشندے ’’درد‘‘ کہلاتے تھے اور اپنی نسلی و ثقافتی انفرادیت کے باعث الگ شناخت رکھتے تھے۔ ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کے درمیان واقع یہ خطہ موجودہ چترال، گلگت، کوہستان، کشمیر، لداخ اور شمالی افغانستان کے بعض علاقوں پر مشتمل تھا۔ یہاں کے لوگ اپنی زبانوں اور رسم و رواج کے اعتبار سے برصغیر اور وسطی ایشیا دونوں سے مختلف تھے۔ یہی تنوع اس خطے کو ایک الگ تہذیبی و نسلی شناخت عطا کرتا تھا۔

دردستان میں اسلام کی آمد تو غالباً صدیوں پہلے ہو چکی تھی تاہم تاریخ کی کتابوں میں یہاں اسلام کی ترویج و اشاعت کے حوالے سے اخوند سالاک کا ذکر عام ہے۔ سترہویں صدی عیسوی کے اس بزرگ نے نہ صرف دعوتِ دین دی بلکہ جہادی مہمات کے ذریعے غیر مسلم قبائل کو اسلام سے روشناس کرایا۔ جنوبی چترال میں نغرشو نامی کالاشہ سردار کے خلاف اُن کی مہم فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ عشریت کے نو مسلم سردار چوک نے اُن کا ساتھ دیا اور قلعہ راہلی کوٹ کی فتح اس اتحاد کا نتیجہ تھی۔ یہ وہ دور تھا جب چترال کے جلاوطن حکمران محترم شاہ الملقب بہ شاہ کٹور کو قتل کر کے تخت پر رئیسہ خاندان کا حکمران شاہ محمود قابض ہو چکا تھا۔

اخوند سالاک نے صرف چترال ہی نہیں بلکہ کوہِ سیاہ کے مقام پر ڈوما کافر کو شکست دی۔ سوات میں بیرا کافر کے خلاف جہاد کیا اور بریکوٹ گاؤں کے مشرقی ڈھلوان پر موجود بیرا کافر کے قلعے کے آثار آج بھی اس تاریخ کی گواہی دیتے ہیں۔ ڈوما کافر کی ہلاکت کے ساتھ اُس کی ریاست کا خاتمہ ہوا اور بہت سے داردی قبائل اباسین کوہستان، چترال اور گلگت کی طرف ہجرت کر گئے۔ اخوند سالاک نے اُن کا تعاقب کیا اور اسلام کی دعوت کو مزید وسعت دی۔ اِس دوران بہت سے دردی قبائل نے اخوند بابا اور اُن کے مریدین کے ہاتھوں اسلام قبول کیا۔

جنوبی چترال کے قصبہ کلکٹک میں شہیدو زیارت کے نام سے مشہور مقبرہ بھی اسی تاریخ کا حصہ ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی طور پر دیر کوہستان سے ملتا ہے اور یہاں مدفون شخص اسلام کی تبلیغ کے لیے آیا تھا۔ روایت ہے کہ کالاشہ کافروں کے ہاتھوں وہ شہید ہوا ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ اخوند سالاک کا مرید تھا، جو اُن کی ہدایت پر یہاں پہنچا تھا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ شہیدو زیارت کے نام سے مشہور مقبرہ چترال کے جلاوطن حکمران محترم شاہ کا ہے۔ اتفاق سے محترم شاہ بھی کلکٹک میں کفار کے ہاتھوں قتل ہوا، لیکن محققین کے مطابق اُن کے بیٹے شاہ محمود رئیس نے جنازہ چترال منگوایا اور بمقام بزور دفن کیا۔ لہٰذا قرین قیاس یہی ہے کہ شہیدو زیارت کا مقبرہ اخوند سالاک کے ہی کسی مرید کا ہے۔

محمد اکبر شاہ الملقب بہ اخوند سالاک کی مہمات کے نتیجے میں عشریت کا نو مسلم سردار چوک راہلی کوٹ قلعہ کی فتح اور کالاشی قبائل کے خلاف مہم کی کامیابی کے بعد اخوند بابا کی بصیرت اور روحانی معاونت پر ایسا گرویدہ ہوا کہ اُن سے وفاداری کا اظہار کرتے ہوئے ہر سال اُنہیں خالص دیسی گھی بطور نذرانہ روانہ کرتا رہا۔یہ نذرانہ محض ایک رسم نہیں بلکہ اُس احسان کی علامت تھا جو اخوند سالاک نے فتح، بصیرت اور دعوت کے میدان میں عطا کیا۔ روایت ہے کہ چوک کے بعد اُس کی نسلوں نے بھی یہ سلسلہ جاری رکھا، جو اخوند بابا کے خلفاء کے دور میں، حتیٰ کہ دیر کے پہلے نواب محمد شریف خان کے عہد تک برقرار رہا۔

تاریخ چترار سمیت کئی علمی و ادبی کتابوں کے مصنف مرزا محمد غفران اور دیگر مورخین کا دعویٰ ہے کہ چترال میں اسلام آٹھویں صدی عیسوی میں متعارف ہوا، مگر اسے غالب مذہب بننے میں صدیاں لگیں۔ تاج مغل، ناصر خسرو، شاہ اردبیل، شاہ رضا ولی، شاہ بوریا ولی اور اخوند سالاک اس خطے کے اولین مبلغین میں شمار ہوتے ہیں۔ تاہم بیشتر تاریخی کتب میں اخوند سالاک کا کردار سب سے نمایاں نظر آتا ہے، جنہوں نے کالاش، نورستان، چترال اور گردونواح میں اسلام کی شمع روشن کی اور اِس خطے کو ایک نئی روحانی سمت عطا کی۔

چترال کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کس طرح ایک قدیم تہذیبی و نسلی خطہ اسلام کی روشنی سے منور ہوا۔ اخوند سالاک کی خدمات نہ صرف مذہبی بلکہ تاریخی اعتبار سے بھی ناقابلِ فراموش ہیں۔ اُنہوں نے قبائل کو اسلام سے روشناس کرایا اور اُن کی سماجی و ثقافتی زندگی کو نئی سمت عطا کی۔ اُن کی جدوجہد نے اس خطے کو کافرستان سے مسلمان دردستان میں بدل دیا اور اس تبدیلی نے چترال، دیر اور گردونواح کو ایک نئی روحانی شناخت بخشی۔ آج بھی اُن کا نام عقیدت اور احترام کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے اور اُن کی خدمات کو اس خطے کی اسلامی تاریخ کا سنگِ بنیاد سمجھا جاتا ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *