پشتون تاریخ کے اہم ماخذ ’’تاریخ مرصع‘‘ میں اخون سالاک کے حوالے سے مغل بادشاہ شاہجہان اور اُن کے درمیان ایک نہایت معنی خیز خط و کتابت کا ذکر ملتا ہے۔ یہ واقعہ سترہویں صدی کے اُس دور سے تعلق رکھتا ہے جب شمال مغربی خطے میں مغلیہ اقتدار کو قبائلی مزاحمت کا سامنا تھا۔ اخوند سالاک مذہبی اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیت تھے اور اِسی وجہ سے شاہجہان نے اُنہیں براہِ راست مخاطب کیا۔
یہاں ’’تاریخ مرصع‘‘ کے زمانے کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ افضل خان خٹک کی یہ معروف پشتو تاریخ 1120ھ/1708ء میں مرتب ہونا شروع ہوئی اور اس میں بعد کے واقعات بھی شامل کیے گئے، یہاں تک کہ اسکا تاریخی بیان 1136ھ/1723-24ء تک پہنچتا ہے۔ چنانچہ شاہجہان کے عہد کا یہ واقعہ بعد میں مرتب ہونیوالے ایک اہم تاریخی ماخذ کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے، جو اس روایت کو سمجھنے کیلئے اسکے زمانی پس منظر کی اہمیت واضح کرتا ہے۔
’’تاریخ مرصع‘‘ کے مطابق شاہجہان نے اخون سالاک کے نام ایک پیغام بھیجا جس میں ایک قرآنی آیت بھی درج تھی۔ مغل حکومت کا مؤقف تھا کہ جن لوگوں کے ساتھ اخون سالاک وابستہ ہیں، وہ شاہی اقتدار کے خلاف باغی ہیں؛ اِس لیے انہیں ان کے ساتھ قیام نہیں کرنا چاہیے بلکہ شاہی علاقے میں آکر سکونت اختیار کرنی چاہیے۔ بظاہر یہ مطالبہ سیاسی نظم و نسق سے متعلق تھا، مگر اسکے پس منظر میں قبائلی سیاست بھی موجود تھی۔
روایت میں یہ پہلو بھی سامنے آتا ہے کہ وہ علاقہ یوسف زئیوں کے زیرِ اثر تھا اور مغلیہ حکومت کو اندیشہ تھا کہ اپنی بہادری اور قبائلی قوت کے باعث یوسف زئی کہیں اخون سالاک کو اپنا بادشاہ نہ بنا لیں۔ اس خدشے نے اخون سالاک کی مذہبی حیثیت کو ایک سیاسی اہمیت بھی دے دی تھی۔ چنانچہ شاہجہان کا براہِ راست خط محض ایک شاہی پیغام نہیں بلکہ اس وسیع تر سیاسی صورتِ حال کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔
شاہجہان کا مطالبہ بنیادی طور پر سیاسی وفاداری سے متعلق تھا۔ مغلیہ سلطنت کیلئے بادشاہ کی اطاعت ریاستی نظم کی بنیاد تھی، جبکہ اس نظم کیخلاف مسلح مزاحمت کو بغاوت سمجھا جاتا تھا۔ بادشاہ چاہتے تھے کہ اخون سالاک اپنے مذہبی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ایسے لوگوں سے علیحدگی اختیار کریں۔ اگر وہ ان سے الگ ہوجاتے تو مزاحمت کرنیوالے عناصر کی اخلاقی اور مذہبی پشت پناہی بھی کمزور پڑ سکتی تھی۔
مگر اخون سالاک کا جواب شاہی توقع کے مطابق نہ تھا۔ روایت کے مطابق اُنہوں نے لکھا کہ یہ لوگ اگرچہ آپ (بادشاہ) کی نظر میں باغی ہیں، مگر خدا سے باغی نہیں۔ ان کے نزدیک جن لوگوں کے ساتھ وہ وابستہ تھے، ان کی جدوجہد محض سیاسی بغاوت نہیں بلکہ ایک دینی مقصد رکھتی تھی۔ وہ خود بھی شب و روز کفار کے مقابلے اور غزا میں مصروف رہنے کا ذکر کرتے ہیں۔ یوں جواب میں مذہبی ذمہ داری کا تصور نمایاں ہوجاتا ہے۔
اخوند سالاک نے مزید واضح کیا کہ وہ صرف شاہی حکم کی بنا پر اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہیں۔ اُن کے جواب کا مفہوم یہ تھا کہ بادشاہ اگر اس مقصد میں مدد کرسکتے ہیں تو یہ بہتر بات ہوگی، لیکن اگر مدد ممکن نہیں تو انہیں اس علاقے اور ان لوگوں سے دُور لے جانے کی کوشش کیوں کی جائے۔ اس جواب میں شاہی اقتدار کو چیلنج کرنے سے زیادہ اپنے مذہبی فہم اور ذمہ داری پر قائم رہنے کا اظہار دکھائی دیتا ہے۔
اس مکالمے میں دونوں فریقوں کے درمیان اختلاف کا بنیادی نکتہ بھی واضح ہوجاتا ہے۔ شاہجہان کیلئے مسئلہ سلطنت کی وحدت، سیاسی اطاعت اور شاہی اختیار کا تھا، جبکہ اخون سالاک کیلئے فیصلہ مذہبی ذمہ داری کے معیار پر ہونا تھا۔ ایک ہی گروہ کو بادشاہ بغاوت کے عنوان سے دیکھ رہے تھے، جبکہ اخون سالاک اسے ایک مختلف دینی تناظر میں دیکھتے تھے۔ یوں یہ اختلاف محض افراد کا نہیں بلکہ اختیار کے دو مختلف تصورات کا دکھائی دیتا ہے۔
اس خط و کتابت کی اہمیت اِس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ شاہجہان نے اخون سالاک کو نظرانداز کرنے کے بجائے براہِ راست مخاطب کیا۔ اس سے اُن کے مذہبی اثر و رسوخ اور قبائلی ماحول میں اُنکی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ دُوسری طرف اخون سالاک نے شاہی مطالبے کے باوجود اپنے بنیادی مؤقف میں تبدیلی قبول نہیں کی۔ یہ مکالمہ اس دور میں مذہبی شخصیات، قبائلی قوتوں اور مغلیہ اقتدار کے باہمی تعلق کو سمجھنے کیلئے ایک اہم تاریخی اشارہ فراہم کرتا ہے۔
یوں شاہجہان اور اخون سالاک کی یہ خط و کتابت مختصر ہونے کے باوجود اپنے اندر ایک پورا تاریخی منظرنامہ سمیٹے ہوئے ہے۔ ایک طرف مغلیہ سلطنت کا سیاسی اقتدار اور ریاستی نظم تھا، دُوسری طرف اخون سالاک کا مذہبی فہم اور اُس کے مطابق عمل کرنے کا عزم۔ ’’تاریخ مرصع‘‘ میں محفوظ یہ روایت اسی کشمکش کو نمایاں کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ اس دور میں مذہبی اثر و رسوخ، قبائلی طاقت اور شاہی اقتدار کس طرح ایک دُوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔








