“بیچارہ ” اسلام آباد تحریر ظفر محمد خان

اسلام آباد میں ہونے والے پہلے 27 ستمبر اس کے بعد چار اکتوبر کو متوقع دھرنے یا اس کی طرف پی ٹی ائی کی یلغار سے ایک ہفتہ پہلے ہی پاکستان سے واپسی ہو گئی اگر مجھے کافی پہلے اس بات کا علم ہوتا تو میں اسلام اباد میں کم سے کم دو ہفتے رہائش اختیار کرتا اور یہ سارے نظارے دیکھتا ۔ کراچی میں تحریک انصاف کی یلغار میں نے خود دیکھی سہراب گوٹھ تک ان کا جلوس کہیں نظر ایا تھا اس کے بعد کراچی میں اس طرح تحلیل ہو گیا تھا جس طرح نمک پانی میں تحلیل ہو جاتا ہے مجھے پورا یقین ہے کہ پنجاب میں ان کے دھرنے کے جو جلوس نکالے جانے کی توقع ہے ان کا یہی حال ہوگا کیونکہ میرے جو تعلقات پنجاب میں اپنے دوستوں سے ہیں اور جو صحافیوں سے ہیں ان سے گفتگو سے یہ ہی اندازہ ہو رہا ہے کہ پنجاب میں سوائے چند ایک چھوٹے چھوٹے پاکٹ کے کہیں بھی د تحریک انصاف کا دھرنا یا ان کے جلوس جلسوں کی دھوم نظر نہیں ارہی ہے اور کے پی کے میں کیونکہ انہیں کھلی ازادی ہے اور حکومت کے لیے وہ ایک سیفٹی وال ہے تو وہاں پر رونق میں خود حکومت بھی اضافہ کرنے کے لیے تیار ہے
لیکن یہ بات بھی ظاہر ہے کہ جو چار اکتوبر تک دھرنے کی تاریخ میں توسی کی گئی ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ عوام کی حمایت حاصل نہیں ہو سکی اور پنجاب سے تو ذرا سا ہمدردی کا تاثر بھی سامنے نہیں ا سکا یہی وجہ ہے کہ پوری پی ٹی ائی صوبہ کے پی کے میں مقید ہو کے رہ گئی ہے
ہو سکتا ہے یہ تحریر سامنے انے تک اس صوبے میں کوئی بڑا اقدام ہو چکا ہو جیسے گورنر راج یا کوئی ایمرجنسی لیکن میں سمجھتا ہوں اس کی ضرورت نہیں ہے ۔ تحریک انصاف خود اپنے جال میں پھنس چکیہے

لیکن تحریک انصاف میں بھی قائد انصاف عمران خان کی ہمشیرگان اپنی اپنی گرفتاریاں بڑی خوبصورتی سے پیش کر چکی ہیں اور اس سے اس بات کا اندازہ ہو چکا ہے کہ دونوں حریفوں میں اندروں خانہ مذاکرات جاری ہیں ۔ امید تو یہ ہے کہ اکرم راجہ اور کھوسہ سمیت ان کے اہم رہنما 4 اکتوبر کی تاریخ سے پہلے ارام سے جیل میں بیٹھے ہوئے بریانی کھا رہے ہوں گے ۔ پنجاب میں تو لوگوں نے نکلنا اس لیے نہیں ہے کہ ظاہر ہے ان کے بہت سارے رشتہ دار فوج میں ہیں بہت سارے رشتہ دار مسلم لیگ میں ہیں تو وہ بلا وجہ نکل کے جوتے کیوں کھائیں تو لہذا پی ٹی ائی کے لوگوں نے تو پنجاب میں نکلنا نہیں ہے ہاں خیبر پختون خواہ میں سہیل افریدی اپنے اپ کو سچا اور عمران خان کا خلیفہ ثابت کرنے کے لیے جو جلوس لے کے نکلیں گے وہ 26 نومبر 2024 کے مقابلے میں بڑے نہیں ہو سکتے ۔ اس وقت ان کے دھرنے یا جلوس کے ساتھ ساتھ قائد انصاف کی بیگم صاحبہ بھی پوری توانائی کے ساتھ چل رہی تھیں اور گنڈاپور صاحب کی بظاہر خوب نگرانی کر رہی تھی یہ اور بات ہے کہ دھرنے کے اختتام پر دونوں بہن بھائی اچانک غائب ہو گئے ۔

لیکن یہ سب ایکسرسائز ہو رہی ہے اس میں دارالحکومت کا جو حال ہے وہ قابل دید ہے پاکستان کی حکومت کو اپنے اوپر اعتماد ہونا چاہیے کہ وہ ایسی کسی شورش کو کامیابی سے ختم کر سکتی ہے لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے وہ اسلام اباد کی حد تک خوفزدہ ہے اسلام اباد پاکستان کا دارالحکومت ہے 20 لاکھ ابادی ہے اہم اسکول کالج یونیورسٹیاں ادارے وہاں موجود ہیں غیر ملکی سفارت خانے ہیں ۔ سمجھ میں نہیں اتا کہ ہر کچھ عرصے کے بعد یہ وہاں پر جس طرح پورے شہر کو بلاک کر دیا جاتا ہے ایک ایک ہفتے کے لیے شہر بند کیا جاتا ہے تو کیا دارالحکومت ایسے ہوتے ہیں ۔ یا تو دارالحکومت اتنے بڑے شہر ہوتے ہیں کہ وہاں پہ کوئی یلغار ہوتی ہے تو وہ محسوس ہی نہیں ہوتا شہر کے کسی کونے میں محسوس ہوتی ہے جیسے دلی کی مثال لے لیں وہاں ائے دن دھرنے ہوتے رہتے ہیں لیکن دلی اتنا بڑا شہر ہے اس پر کوئی بہت بڑا اثر نہیں پڑتا ۔ اسی طرح واشنگٹن لندن پیرس تہران قاہرہ اور بیجنگ کی مثال دی جا سکتی ہے ۔

پاکستان میں انتہائی تعصبانہ بنیاد پر کراچی سے دارالحکومت کو اسلام اباد منتقل کیا گیا اب اسلام اباد اپنے رنگ دکھا رہا ہے کیونکہ وہ چاروں طرف سے غیر محفوظ ہے کہیں پر پہاڑوں نے اس کا راستہ روکا ہوا ہے کہیں پہ پنجاب اس کی پشت پر ہے کہیں جہلم کی وادی ہے کہیں پر خیبر پختون خواہ کی ہزارہ بیلٹ اور کہیں خیبر پختون خان کی پشتون بیلٹ اس کے ساتھ ہے جس جگہ سے جو چاہتا ہے منہ اٹھا کے دھرنا دینے پہنچ جاتا ہے ۔ اور شہر میں افرا تفری پھیل جاتی ہے ۔ اس سے پہلے بھی جب کبھی پی ٹی ائی نے یہاں دھرنے دینے کی کوشش کی تھی تو میں نے یہی کہا تھا کہ اس شہر کو دھرنا شہر بنا دیا جائے گا کیونکہ ہر ایک کی رسائی یہاں بہت اسان ہے اور شہر میں چند سڑکوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے چند سڑکیں بلاک ہو جائیں تو سارا ریڈ لائن گرین لائن سب اپنے ٹھکانے لے لگ جائے گا ۔

بہرحال اب یہ سب کچھ کیا ہے تو بھگتنا تو ہوگا اور پی ٹی ائی یا اگلے دوروں میں مختلف جماعتیں یہاں صاحبان اقتدار کو دھمکیاں تو دیتی رہیں گی ۔

پی ٹی ائی کے 4 اکتوبر کے دھرنے کا اس سے بہتر ہی انجام ہوگا جو 26 نومبر 2026 کو ہوا تھا کیونکہ اس مرتبہ یہ لوگ پرامن طور پر منتشر ہو جائیں گے اور ان کو اندازہ ہے کہ حکومت نے کس طرح اپنی پوری تیاریاں کی ہوئی ہیں اور وہ کسی حالت میں بھی اس وقت جب کہ ملک معاشی بحران کا بھی شکار ہے ایک طرح سے حالت جنگ میں ہے اندرونی طور پر اس قسم کے مظاہروں کی اجازت نہیں دی جا سکتی

پھر جو مظاہرین ہیں یا جو مہنگائی کے ستائے ہوئے لوگ ہیں ان کے پاس بھی اس وقت کوئی متبادل قیادت موجود نہیں ہے وہ سب جانتے ہیں کہ اگر اس وقت یہ حکومت ہل گئی تو اس کے پیچھے پھر عمران خان جیسا وہ کردار موجود ہے جس نے پہلے ہی پاکستان کی چلتی ہی ہوئی معیشت کو تباہ کر کے رکھ دیا تھا اس لیے بھوکے ننگے عوام بھی چپ چاپ اس دور کا انتظار کر رہے ہیں کہ جب شاید خود بخود کوئی معجزہ اور مہنگائی کا بوجھ کچھ کم ہو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں