برصغیر کی صوفی تاریخ میں بعض اوقات کسی بزرگ کا لقب، نسبتِ وطن یا مقام سے تعلق بعد کے تذکروں میں اِس طرح باہم مل جاتا ہے کہ دو الگ شخصیات ایک ہی بزرگ دکھائی دینے لگتی ہیں۔ ’’پنجو‘‘ بھی ایسا ہی ایک تاریخی معمّا ہے۔ سنبھل کے شیخ پنجو کو سید عبدالوہاب المعروف اخون پنجو کے ساتھ خلط ملط کیا گیا، حالاں کہ دستیاب کتبوی، تاریخی اور روایتی شواہد دونوں کو الگ شخصیات کے طور پر سامنے لاتے ہیں۔ ایک بزرگ کا مزار سنبھل میں ہے، جبکہ دُوسرے کا معروف مدفن اکبرپورہ( نوشہرہ) میں واقع ہے۔
سنبھل کے شیخ پنجو کے بارے میں اہم ترین شہادت ایک قدیم کتبے سے ملتی ہے، جو ہندوستانی آثارِ قدیمہ کے جائزہ ریکارڈ 1972-73ء میں محفوظ ہے۔ کتبے کے مطابق شیخ پنجو کا وصال 969ھ، (یعنی1561-62ء) میں ہوا اور مقبرہ آپکے صاحبزادے منصور نے تعمیر کرایا۔ یہی تفصیل رضا لائبریری رامپور کے جرنل، شمارہ 4-5، سنہ 1999ء میں بھی محفوظ ہے۔ جرنل کے مطابق سرخ پتھر کا یہ کتبہ پنجو سرائے کی مسجد کے دروازے پر نصب ہے۔ پہلی سطر میں آیت الکرسی درج ہے، جبکہ دُوسری فارسی سطر میں شیخ پنجو کی تاریخِ وفات اور ’’منصور ابن عبداللہ معروف شیخ پنجو‘‘ کی جانب سے مزار کی تعمیر کا ذکر ملتا ہے۔
’’منصور ابن عبداللہ‘‘ کی یہ عبارت سنبھل کے شیخ پنجو کے اصل نام کے تعین کیلئے ایک اہم تاریخی قرینہ فراہم کرتی ہے۔ مغلیہ عہد کی فارسی روایات بھی اِس شناخت کو تقویت دیتی ہیں۔ ملا عبدالقادر بدایونی کے والد ملوک شاہ سنبھل میں مقیم تھے اور شیخ پنجو کو اپنا مربی اور روحانی مرشد مانتے تھے۔ بدایونی کی ’’منتخب التواریخ‘‘ میں پنجو کو شیخ ادھن جونپوری کا شاگرد اور تصوف میں گہری بصیرت رکھنے والا بزرگ بتایا گیا ہے۔ یوں یہ شخصیت محض مقامی روایت تک محدود نہیں رہتی بلکہ اپنے عہد کے علمی و روحانی ماحول سے براہِ راست جڑی دکھائی دیتی ہے۔
شیخ پنجو کا ذکر آئینِ اکبری میں بھی ملتا ہے۔ اسکے انگریزی ترجمے /تحقیقی حواشی میں بھی صاف طور پر آپکی وفات 969ھ درج ہے۔ رضا لائبریری کے فراہم کردہ متن کے مطابق ابوالفضل نے اس بزرگ کو دینی و دنیاوی علوم دونوں میں ماہر قرار دیا ہے۔ بعض روایات میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ 1530ء میں ہمایوں کے سنبھل میں بیمار ہونے پر بابر نے شیخ پنجو سے دُعا کی درخواست کی تھی۔ اِس روایت کی مزید بنیادی تحقیق بہرحال ضروری ہے، تاہم اتنا واضح ہے کہ سنبھل کے اس صوفی کی شخصیت مغلیہ عہد کے علمی و روحانی ماحول میں نمایاں تھی اور بعد کے تاریخی لٹریچر میں بھی محفوظ رہی۔
اسکے برعکس سید عبدالوہاب المعروف اخون پنجو کی شناخت ایک الگ تاریخی سلسلے سے ہوتی ہے۔ پیدائش 945ھ اور وفات 1040ھ/1630ء بیان کی جاتی ہے، جبکہ والد کا نام سید غازی بتایا جاتا ہے۔ سرحدی روایات میں انہیں ’’شیخ پنجو سنبھلی‘‘ بھی کہا گیا ہے اور اس نسبت کی وجہ آبائی تعلق کو سنبھل سے جوڑا جاتا ہے۔ تاہم خاندانی نسبتِ وطن اور کسی مخصوص شہر کے تاریخی بزرگ کی شناخت دو الگ دعوے ہیں؛ ایک کو دُوسرے کا قطعی ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا۔
اخون پنجو بابا کے خانوادے کی تفصیل بھی اس امتیاز کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ دستیاب روایات کے مطابق پانچ فرزند عثمان، سلیمان، بہاؤ الدین، لقمان اور فرید الدین بیان کیے جاتے ہیں۔ ان ناموں میں منصور شامل نہیں۔ دُوسری طرف سنبھل کے شیخ پنجو کے بارے میں قدیم کتبے پر مزار کی تعمیر کے حوالے سے آپکے صاحبزادے منصور کا نام موجود ہے۔ یہ نسبی فرق بھی دونوں شخصیات کو یکجا کرنے کے مفروضے کیخلاف ایک اہم قرینہ پیش کرتا ہے۔
زمانی ترتیب بھی معاملے کو مزید واضح کرتی ہے۔ سنبھل کے شیخ پنجو کا وصال سولہویں صدی کے وسط میں ہوا، جبکہ اخون پنجو کی وفات سترہویں صدی کے اوائل میں بیان کی جاتی ہے۔ دونوں کے درمیان تقریباً اکہتر قمری برس کا فاصلہ ہے۔ ایک شخصیت کیساتھ سنبھل، پنجو سرائے کا کتبہ اور منصور ابن عبداللہ المعروف شیخ پنجو وابستہ ہیں، جبکہ دُوسری کی شناخت سید عبدالوہاب المعروف اخون پنجو بن سید غازی اور پانچ صاحبزادوں کی روایت سے ہوتی ہے۔ محض ’’پنجو‘‘ کا مشترک لقب دونوں کو ایک ہی شخصیت قرار دینے کیلئے کافی نہیں۔
یہ امکان بہرحال نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ سنبھل کے قدیم شیخ پنجو کی شہرت بعد کے زمانے میں اخون پنجو کی روایت کیساتھ جڑ گئی ہو، یا اخون پنجو کے خاندان کی سنبھل سے نسبت رفتہ رفتہ خود بزرگ کی نسبت سمجھی جانے لگی ہو۔ تاہم یہ دونوں امکانات فی الحال تحقیقی مفروضوں کی حیثیت رکھتے ہیں، حتمی نتائج کی نہیں۔ مسئلے کے قطعی حل کیلئے اصل فارسی نسخوں، قدیم ترین تذکروں، خاندانی شجروں اور کتبوں کی عکسی نقول کا تقابلی مطالعہ ضروری ہوگا۔
دستیاب شواہد کا محتاط مطالعہ فی الوقت یہی بنیاد فراہم کرتا ہے کہ عبداللہ المعروف شیخ پنجو اور عبدالوہاب المعروف اخون پنجو کو الگ تاریخی شخصیات سمجھا جائے۔ پہلی شخصیت کی شناخت قدیم کتبے، صاحبزادے منصور سے منسوب مقبرے اور بدایونی و اکبری عہد کی روایات سے ہوتی ہے، جبکہ دُوسری کا تعلق سید عبدالوہاب، اکبرپورہ کے مزار اور پانچ صاحبزادوں کی روایت سے سامنے آتا ہے۔ مشترک لقب اور سنبھل کی نسبت نے دونوں شخصیات کو ایک دُوسرے کے قریب ضرور کیا، مگر یہ مماثلت مشترک شخصیت کا تاریخی ثبوت نہیں بنتی۔








