پاکستان میں مخلوط اتحادی حکومت ہی تشکیل پا سکے گی، غیر ملکی خبر ایجنسی

 گزشتہ8فروری کو عام انتخابات کے نتیجے میں معلق پارلیمنٹ وجود میں آئی ہے ۔ جہاں کسی بھی سیا سی جماعت کوسادہ اکثریت حاصل نہیں ہے ۔ ایسی صورت میں کوئی مخلوط اتحادی حکومت ہی تشکیل پا سکے گی ۔ اس سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی پارٹی مسلم لیگ (ن ) سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی پیپلز پارٹی اور دیگر چھوٹی جماعتوں میں بات چیت کا سلسلہ جاری ہے ۔ اسیر سابق وزیراعظم عمران خان کے حمایت یافتہ نو منتخب امیدواروں نے سب سے زیادہ93 نشستیں حاصل کی ہیں ۔ مسلم لیگ (ن ) کی75اور پیپلز پارٹی کی 54نشستیں ہیں ۔ آزاد امیدواروں کا گروپ بھی حکومت سازی کےلیے اتحادیوں کی تلاش میں ہے ۔ قومی اسمبلی کے336رکنی ایوان میں حکومت سازی کےلیے169ارکان درکار ہوں گے۔ اس میں70محفوظ نشستیں شامل ہیں ۔ آنے والے دنوں میں حکومت سازی کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھے گا اس کا جائزہ لیا جا سکتا ہے ۔ آئین اور قانون کے تحت عام انتخابات کی تکمیل کے تین ہفتوں کے اندر صدر مملکت کی جانب سے نو منتخب قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنا ہوتا ہے ۔ عام طور پر اجلاس اس سے قبل ہی طلب کرلیا جاتا ہے ۔ نئے اسپیکر کا انتخاب عمل میں لایا جاتا ہے ۔ اس کے بعد قائد ایوان (وزیراعظم ) کا انتخاب ہوتا ہے جسے336رکنی ایوان میں سادہ اکثریت169ارکان کی حمایت ظاہرکرنا ہوتی ہے ۔ وزارت عظمیٰ کے ایک سے زائد امیدوار ہو سکتے ہیں ۔ اگر وزارت عظمیٰ کا امیدوار پہلے راؤ نڈ میں اکثر یت حاصل نہیں کر پاتا تو دوسرے راؤنڈ میں دو امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا ۔جوبھی اکثریت لے گا وہ قائد ایوان قرار دیدیا جائے گا ۔ نو منتخب وزیراعظم پارلیمنٹ منصب کا حلف اٹھانے کے بعد اپنی کا بینہ کا اعلان کرے گا ۔ نگراں عبوری حکومت پھر اقتدار منتخب حکومت کے حوالے کردے گا ۔ 70محفوظ مخصوص نشستوں میں60خواتین اور10غیر مسلموں کےلیے مختص ہیں ۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سب سے بڑی تعداد میں آزاد امیدوار مخصوص نشستوں پر کسی کو منتخب کرانے کی اہل نہیں ہیں ۔اگر وہ چاہتے ہیں تو انہیں بلاک بنانے کےلیے کسی سیا سی جماعت میں شامل ہونا پڑے گا ۔اس کی وجہ انتخابی قوانین کی خلاف ورزی پر پی ٹی آئی کی انتخابات میں شرکت پر پابندی ہے ۔

About the author /


Related Articles

Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Newsletter