سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تین دن سے جاری دہشتگردی کے خلاف آپریشنز میں فتنہ الہندوستان کے 197 دہشتگرد ہلاک کیے گئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ تین روز میں آپریشن کے دوران 22 جوان شہید ہوئے جبکہ دہشت گردوں نے 36 شہریوں کو شہید کیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشتگردوں کا نشانہ بننے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
محکمہ ریلویز نے آج بھی کوئٹہ سے اندرون ملک اور چمن کے لیے ٹرین سروس معطل رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
کراچی سے کوئٹہ آنے اور جانے والی بولان میل کو 12فروری تک معطل رکھا جائے گا۔
ریلوے حکام کے مطابق بلوچستان سے اندورن ملک اور چمن کے لیے ٹرین سروس کی معطلی سے محکمہ ریلویز کو اب تک 30 لاکھ سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے۔
دوسری جانب پنجاب کو بلوچستان سے ملانے والی ڈی آئی خان لورالائی قومی شاہراہ اور کوئٹہ سے تفتان جانے والی قومی شاہراہ بھی 5 روز سے بند ہے۔
بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں بھارت اور غیر ملکی سہولت کاری بے نقاب ہوگئی۔
ہلاک ہونے والے دہشت گردوں سے برآمد ہونے والا اسلحہ اور دیگر ساز و سامان غیر ملکی ساختہ ہے، جن کی مالیت لاکھوں میں ہے۔
شواہد سے ظاہر ہے کہ ہر دہشت گرد کو 20 سے 25 لاکھ کے اسلحے اور ساز و سامان سے لیس کیا گیا۔
برآمد ہونے والے بیرونی ساختہ اسلحے میں ایم16 اور ایم4 جیسی رائفلز، راکٹ لانچرز، ایمنگ لیزر اور نائٹ ویژن گوگلز شامل ہیں۔
دہشت گرد بیرونی ساختہ بلٹ پروف جیکٹس اور وائرلیس سیٹس سے بھی لیس تھے۔ فتنہ الہندوستان کے ہلاک دہشت گردوں سے بے حس کرنے والی نشہ آوار ادویات اور انجکشن بھی برآمد ہوئے۔
سیکیورٹی حکام نے کہا تھا کہ گزشتہ رات تعاقبی آپریشنز کے دوران مزید 22 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، جبکہ گزشتہ 3 روز کے دوران آپریشنز میں 177 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔











Post your comments