پاکستان دوسرا سب سے زیادہ دباؤ کا شکار زیرِ زمین آبی ذخائر والا ملک بن گیا

پاکستان دوسرا سب سے زیادہ دباؤ کا شکار زیرِ زمین آبی ذخائر والا ملک بن گیا۔ سالانہ 65مکعب کلومیٹر نکاسی، قدرتی بحالی صرف 55مکعب کلومیٹر،زیرِ زمین پانی کا 80 فیصد پینے کیلئے غیر محفوظ، پنجاب میں 90فیصد استعمال، نتیجے میں لاہور، کراچی اور کوئٹہ میں پانی کی سطح سالانہ 1 سے 3 فٹ تک گرنے لگی۔پائیڈ رپورٹ میں پانی کی قلت سے بچنے کے لیے ٹیوب ویلوں کی میٹرنگ، سبسڈیز میں اصلاحات اور قومی آبی پالیسی کی سفارش کی گئی ہے۔ غیر منظم نظام کے تحت ڈیڑھ کروڑ سے زائد ٹیوب ویلوں کے ذریعے زیرِ زمین پانی نکالے جانے کے باعث پاکستان پانی اور غذائی تحفظ کے شدید قومی بحران کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے، کیونکہ زیرِ زمین پانی نکالنے کی سالانہ مقدار قدرتی طور پر دوبارہ ذخیرہ ہونے والے پانی سے بڑھ گئی ہے۔ پاکستان اب سالانہ 65 مکعب کلومیٹر زیرِ زمین پانی نکال رہا ہے، جبکہ قدرتی طور پر اس کی دوبارہ بھرپائی کی شرح صرف 55 مکعب کلومیٹر ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا میں زیرِ زمین پانی استعمال کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے، جبکہ اس کے زیرِ زمین آبی ذخائر کا نظام دنیا میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ دباؤ کا شکار ہے۔ اس وقت ملک میں آب پاشی کے لیے استعمال ہونے والے پانی کا تقریباً 60 فیصد، پینے کے پانی کا 70 فیصد سے زیادہ اور صنعتوں کی تقریباً تمام ضروریات اسی تیزی سے ختم ہوتے ہوئے آبی ذخیرے پر منحصر ہیں۔ پانی کی مقدار میں کمی کے ساتھ ساتھ صحتِ عامہ کا بحران بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔ ملک بھر میں زیرِ زمین پانی کا 70 سے 80 فیصد حصہ پینے کے لیے غیر محفوظ ہے۔ آرسینک کی خطرناک مقدار 6 کروڑ افراد تک کے لیے خطرہ بن رہی ہے، جبکہ پانی میں نمکیات کی زیادتی کے باعث آب پاشی کے زیرِ استعمال 21 فیصد اراضی متاثر ہو رہی ہے۔’’پاکستان میں زیرِ زمین پانی کا بحران: پائیدار وسائل کے استعمال کے لیے پالیسی اسباق اور ایک لائحہ عمل‘‘ کے عنوان سے جاری کردہ تحقیق میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان میں پانی کا بحران بنیادی طور پر پانی کی طبعی قلت کے بجائے پالیسی سازی اور حکمرانی کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔پاکستان کے پاس زیرِ زمین پانی ذخیرہ کرنے کی بہت بڑی گنجائش موجود ہے، جو تقریباً 50 بڑے ڈیموں کی مجموعی گنجائش کے برابر ہے، لیکن ماضی کی پالیسیوں میں زیادہ توجہ سطح پر موجود پانی کے وسائل کی منصوبہ بندی پر دی گئی۔ اس کے نتیجے میں زیرِ زمین آبی ذخائر کو ایسے وسائل سمجھا جاتا رہا جن سے کوئی بھی شخص بلا روک ٹوک پانی نکال سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں میں مداخلت نے بھی پانی کے حد سے زیادہ استعمال کو فروغ دیا ہے۔ ٹیوب ویلوں کے لیے رعایتی نرخوں پر بجلی کی فراہمی اور زیادہ پانی استعمال کرنے والی فصلوں، مثلاً چاول اور گنے، کے لیے قیمتوں میں بھاری معاونت نے زیرِ زمین پانی مسلسل اور ضرورت سے زیادہ نکالنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔یہ صورتِ حال بالخصوص پنجاب میں زیادہ نمایاں ہے، جہاں ملک بھر سے نکالے جانے والے زیرِ زمین پانی کا تقریباً 90 فیصد استعمال ہوتا ہے۔اس کے نتیجے میں لاہور، کوئٹہ اور کراچی سمیت بڑے شہری اور زرعی مراکز میں زیرِ زمین پانی کی سطح ہر سال ایک سے تین فٹ تک نیچے جا رہی ہے۔پاکستان کو ایک اور غیر معمولی امتیاز بھی حاصل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں